‏Journalism in University of Gujrat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Journalism in University of Gujrat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

سرسید احمد خاں:فہم نو کی ضرورت ہے


انیسویں صدی کے وسط میں ہماری قومی زندگی فشار اور بحران کے سنگم پر کھڑی تھی۔ راستے گم تھے اورر اہ نما مفقود! ان نازک حالات میں جس شخص نے اعتماد اور حوصلے کے چراغ جلائے، علی گڑھ جیسی اہم تحریک کی داغ بیل ڈالی اور پھر اس کی قیادت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ اسے ہم سر سید احمد خاں کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ سر سید نے قومی زوال سے متاثر ہو کر قومی تعمیر کے لیے کمر باندھی تو زندگی کے بے شمار پہلو انہیں داغ داغ نظر آئے ۔ تہذیب و تمدن ، مذہب و معاشرت، سیاست و معیشت ، علم و ادب ، زبان اور تعلیم غرض کوئی پہلو ایسا نہ تھا جو اصلاح طلب نہ ہو ۔ ان میں سے ہر پہلو سر سید کی توجہ کا مرکز بنا اور انہوں نے ہر ایک پہلو میں زندگی کی نئی روح پھونکنے کی کوشش کی ۔ 
مولانا حالی اور سر سیدکے دوسرے معاصرین نے ان کے کام کو1857ءکے ہنگامہ رستا خیز اور برطانوی اقتدار کے قیام اور اس سے پیدا شدہ حالات کی روشنی میں ہی دیکھا ہے مگر آج ان کی وفات کے ایک سو تیرہ سال بعد بھی ان کے کام کو1857ءکے پس منظر میں دیکھنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے حالانکہ سرسید دور جدید کے پہلے مسلمان تھے جس نے آنے والے زمانے کے ایجابی مزاج کا عکس اپنے آئینہ ادراک میں دیکھ لیا تھا اور اپنی ساری جدو جہد کا رُخ ہندوستان کی فلاح و بہبود، اسلام کی نئی تفسیر و تعبیر اور ایشیاءکے نفس ہائے رمیدہ کی باز یافت کی طرف موڑ دیا تھا۔ سر ہملٹن گب نے سر سید کی قائم کردہ درسگاہ کوFirst modernist organization of Indiaقرار دیا تھا۔ 
سر سید نے اپنی تحریک کے ذریعے بے زاری، مایوسی ، غلامی اور تقلید کی ز نجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی بشارت دی۔ ان کی آنکھوںمیں اعتماد اور حوصلے کی چمک پیدا کی ۔ سر سید کا خیال تھا کہ جب تک ہم اندھی تقلید کی زنجیروں کو نہ توڑیں گے اصلاح کا کوئی کام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو گا ۔ اسی خیال کے پیش نظر زندگی اورادب میں عقلیت اور افادیت کا تصور پروان چڑھا۔ زندگی سے متعلق مسائل کو عقل کی روشنی میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش شروع ہوئی ۔ اسی طرز فکر کے باعث ان پر کفر کے فتوے لگے لیکن ان کے کفر نے ایمان کے لیے نئے راستے کھول دیئے ۔ ہمارے معاشرے میں میں عمل اور حرکت کی ایک موج پیدا ہوئی۔ مشرق و مغرب کے امتزاج سے ایک نیا معاشرہ ابھرنے لگا۔ جدید اور قدیم کے مابین سر سید تحریک نے ایک پل کا کام کیا ۔ یہ بھی یاد رہے کہ تقلید سے پرہیز اور روایت شکنی پر زور دینے کے ساتھ انہیں اپنی اچھی روایات، عقاید اور تہذیبی ورثہ سے بھی دلی تعلق تھا۔ سرسید اور ان کے رفقاءکی جدوجہد کی تہہ میں فکر و نظر کے ساتھ گہرا انسانی ، علمی اور تاریخی شعور بھی کارفرما تھا جو اپنے مفید اور کار آمد ورثہ کو برقرار رکھتے ہوئے ، دوسروں سے اچھی اور مفید اقدار کو قبول کرنے پر اصرار کرتا تھا اور اسی تصور پر زندگی کی صحت مند تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ 
آج وطن عزیز جن سماجی و فکری مسائل کا شکار ہے اس کے تدارک کے لیے بھی ہمیں ایسی ہی ہمہ جہت ، روشن خیال اور منطقی تحریک کی ضرورت ہے ۔ آج سر سید ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم نے اپنی ذات سے بلند ہو کر اخلاص اور محبت سے اپنی تہذیب کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کی ؟ اور کیا ہم نے ان کی طرح فراخدلی اور رواداری کے ساتھ ، جذباتیت سے بلند ہو کر اپنی زندگی کے راستے متعین کیے ہیں ؟ اور کیا ہم نے اس تہذیبی بحران پر جس سے آج ہم دوچار ہیں اس طرح حاوی ہونے کی کوشش کی جس کی مثال ہمیں سر سید کے عمل میں ملتی ہے ؟ 
سر سید کے سماجی اور تہذیبی تصورات اگرچہ ہمارے معاشرے میں غیر محسوس طور پر نفاد کر گئے تھے لیکن ان کا شعوری اور تفصیلی جائزہ بھی ابھی نہیںلیا گیا ؟ تعلیم کے بارے میں ان کے تصورات کی افادیت آج بھی موجود ہے مگر ان کو باضابطہ مطالعہ کے بعد مرتب شکل دینے کی آج بھی اشد ضرورت ہے ۔ 
علامہ اقبال نے بہت پہلے کہا تھا کہ ”مسلمانان ایشیا اب تک سرسید احمد خاں کی ذہنی کاوش کو سمجھنے کے قابل نہ ہو سکے“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اس حقیقت کا انکشاف مجھ پر ہوا کہ سرسید کی نگاہ ایسے وسیع و عریض اُمور پر جمی ہوئی تھی جن کا تعلق مسلمانان ایشیاءکے مذہب اور سیاست سے تھا۔ پس مسلم ایشیاءنے اب تک ان کی شخصیت کی حقیقی عظمت کا اندازہ نہیں کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی سرسید احمد خاں کی شخصیت کو عالم اسلام کے وسیع فکری پس منظر میں دیکھا اور ”وکیل “ کے ایک ادارےے میں لکھا تھا کہ ”جو آواز آج سے تیس چالیس برس پیشتر اس اسلامی دور کے آخری مجدد کی زبانی سرزمین ہند سے بلند ہوئی تھی آج مصر، استنبول اور خود ہندوستان کے ہر روشن خیال اور تعلیمافتہ شخص کی زبان پر ہے ۔ مولانا ابوالکلام نے علی گڑھ کے ایک کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ہندو اور مسلمانوں نے سر سید کی رائے کی روح کو سمجھا ہوتا اور اس کی پیروی کی ہوتی تو آج ملک کی تاریخ کا دوسرا رُخ ہوتا۔ بلاشبہ سرسید کے کارنامے ترکی کے مدحت پاشااور فواد پاشا، ایران کے حجةالاسلام شیخ ہادی نجم آبادی، مصر کے مصطفےٰ کامل، تیونس کے خیر الدین پاشا، الجیریا کے امیر عبدالقادر، طرابلس کے امام محمد سنوسی، افغانستان کے سید جمال الدین افغانی اور روس کے مفتی عالم جان کے کارناموں کے ساتھ مطالعہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 
اگر اقبال، گب اور آزاد کے دئےے ہوئے معیار اور سرسید کی جدوجہد و مساعی کے جملہ پہلو ہمارے پیش نظر رہتے تو سرسید کی حیرت انگیز ہمہ گیری اور اس کے دوررس اثرات کا عظیم الشان میدان نظروں کے سامنے آجاتا لیکن ہم نے ہمیشہ محدود دائروں میں سرسید کی عظمت کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور بقول اقبال 
اس مردخدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو 
تو بندہ آفاق ہے، وہ صاحب آفاق
حقیقت یہ ہے کہ سر سید کی فکر اور ان کی جدو جہد وسعی کی نوعیت کو سمجھنے کے لےے پاک و ہند، عالم اسلام اور ایشیا تینوں کے پس منظر سامنے ہونے چائییں۔ آج پاکستانی معاشرہ جس عدم برداشت، قنوطیت، فتویٰ بازی اور تاریخی نرگیست کا شکارہے اس کا ایک علاج سر سید احمد خاں جیسے مصلح و مدبرراہنما کی حقیقت پسندانہ روشن خیالی کا فروغ بھی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سرسید کے افکار و خدمات کی فہم نو حاصل کرکے آنے والے دنوں کو ان کی لو سے منور کریں تاکہ معاشرے سے جہالت، مایوسی اور فکری پسماندگی کا خاتمہ ہو، ہمیں ایک اور سر سید کی ضرورت ہے۔ 

قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں

 حیات و خدما ت

قائد اعظم کے دست ِراست پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں کا شمار مجاہدین تحریک آزادی اور معماران وطن میں ہوتا ہے ۔ قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کیلئے اس بطل ِجلیل کی ملی خدمات ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے وہ ایک باصلاحیت، دیانتدار، محنتی، بے باک اور عہد ساز شخصیت تھے۔ 
انہوں نے یکم اکتوبر1896ءکو مشرقی بنگال کے ضلع کرنال میں ایک بڑے زمیندار نواب رستم خان کے گھر جنم لیا۔ پیدائش میں ان کا نمبر سجاد علی کے بعد دوسرا تھا۔ انکا خاندان جو مشہور بادشاہ نوشیروان عادل کی نسل سے متعلق ہونے کا دعویدار تھا۔ تقریباً پانچ سو سال قبل مغلیہ عہد میں ایران سے ہندوستان آیا تھا۔ انکی زمینیں صوبہ پنجاب اور اتر پردیش میں پھیلی ہوئی تھیں۔ برطانوی عہد میں لارڈ کنینگ نے لیاقت علی خان کے داد ا نواب احم علی خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پنجاب کے چیف کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ اسے اور اس کی اولاد کو ہمیشہ پانچ ہزار روپے کا مالیہ معاف کر دیا جائے اور دس ہزار روپے کی خلعت دی جائے انکے ہاں نواب کا خطاب پشتی تھا۔ جو انکے بڑے بھائی سجاد علی خان کو ملا۔ لیاقت علی خان کا بچپن زیادہ تریوپی میں ہی گذارجو اس وقت مسلم ثقافت کا بڑا مرکز تھا۔ ان کی تعلیم گھر پر ہی مکمل ہوئی تو وہ مزید تعلیم کیلئے محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج علی گڑھ چلے گئے جہاں اسے انہوں نے1918ءمیں بی اے کا امتحان پاس کیا ۔اس وقت ان کے اہل خانہ ان کوانڈین سول سروس میں شامل کرانے کا خواب دیکھ کر رہے تھے۔ لیکن دوسری طرف لیاقت علی خان بھی مزید تعلیم کے حصول کے خواہشمند تھے۔ اس لئے1919ءمیں وہ قانون کی اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان چلے گئے۔ جہاں1921ءمیں انہوں نے آکسفورڈ سے قانون کی ڈگری لی اور1922ءمیں بارایٹ لاءکیلئے انرٹمپل چلے گئے۔ آکسفورڈ میں نوجوان لیاقت علی خان انڈین مجلس کے زیر اہتمام سیاسی مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور کچھ عرصہ تک اس مجلس کے خازن بھی رہے۔ 1923ءمیں وہ ہندوستان واپس آئے اور یو پی کے مقام منظر نگر میں مقیم ہو گئے۔ عملی سیاست میں بھی دلچسپی بڑھی تو اسی سال آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور مئی1924ءمیں پہلی مرتبہ وہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں شریک ہوئے۔1927ءمیں سائمن کمیشن کے مسئلے پر مسلم لیگ دوواضع دھڑوںجناح لیگ اور شفیع لیگ لاہور میں تقسیم ہوئی تو وہ جناح لیگ کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہ1926ءمیں یوپی کی لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے ۔لیاقت علی چونکہ ایک ملنسار اور وضع دار شخصیت تھے اسلئے تعلقات بنانا اور نبھانا خوب جانتے تھے۔ اس لےے مسلسل چودہ سال تک اپنی نشست پر کامیاب ہوتے رہے۔ اس دوران وہ چھ سال صوبائی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی پریذیڈنٹ اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے راہنما رہے۔ دسمبر1928ءمیں وہ نہرو رپورٹ پر بحث کیلئے کلکتہ میں منعقدہ نیشنل کانفرنس میں شریک مسلم لیگ وفد کے ممبر تھے۔اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے سفیر محمد علی جناح سے گہری وابستگی کے باعث شروع میں ہندو مسلم اتحاد کے خواہشمند تھے لیکن نہرو رپورٹ اورہندوانتہا پسندوں کے دباﺅ پر اسکی منظوری سے وہ ہندوﺅں سے مایوس ہو گئے۔ 
1933ءمیں انہوں نے دوسری شادی کی اور اسی سال بیگم رعنا لیاقت کے ہمراہ یورپ چلے گئے اس دورے میں انہوں نے انگلستان میں تنظیم سازی اور سیاسی جماعتوں کے ڈھانچوںکا خصوصی مطالعہ کیا۔ لیاقت علی نے اترپردیش میں پہلے ہی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نام سے گروپ بنا رکھا تھا اسکی تصدیق نواب احمد سعید خاں آف چھتاری جو فروری1929ءمیں لیاقت علی رعنا کے مہمان بھی رہے اپنی سوانح حیات” یاد ایام“ میں کرتے ہیں۔ 26اپریل1936ءکو بمبی ¿ سیشن میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے سلسلے میں محمد علی جناح کو صدر اور سر محمد یعقوب کی جگہ نوابزادہ لیاقت علی خاں کو آنریری سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا لیکن ڈاکٹر رفیق افضل کے مطابق صوبائی لیگ کے بعض راہنماﺅں سے اختلاف کی وجہ سے وہ جولائی1936ءمیں مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ سے علیحدہ ہو گئے اور نواب احمد سعید خاں آف چھتاری کی نیشنل ایگر یکلچر سٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ لیکن 1937ءکا انتخاب انہوں نے کسی پارٹی کے ٹکٹ سے نہیں لڑا تا۔ہم 2مارچ1938ءکوانہیں ایک سرکاری تجارتی وفد کے مشیر کی حیثیت سے سر ظفر اللہ خاں کی زیر قیادت لند ن بھیج دیا گیا۔ 1940ءمیں وہ پھر مرکزی اسمبلی کے رکن چنے گئے اور مسلم لیگ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بن گئے اب آپ کا شمار قائد اعظم کے معتمد ترین ساتھیوں میں ہونے لگا تھا اور قائد اعظم نے مسلم لیگ کونسل کو خطاب کرتے ہوئے لیاقت علی خاں کو اپنا دست وبازوقرار دیا تھا۔ دسمبر1943ءمیں آپ کو دوبارہ مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیاگیا۔ پھر1948ءمیں پاکستان مسلم لیگ کے قیام تک یہی فرائض سرانجام دیتے رہے آپ کی صلاحیتوں کا اصل امتحان1946ءمیں شروع ہوا جب آپ کو مسلم لیگ کی جانب سے وائسرائے کی کونسل میں شامل کیا گیا اور عبوری حکومت میں وزیر خزانہ بنا یا گیا ا س وقت عام خیال یہی تھا کہ وزارت خزانہ جیسی مشکل اور اہم ذمہ داری نبھانا کسی مسلمان یا نواب کے بس کا روگ نہیں چنانچہ اس بے بنیاد چیلنج کو قبول کرتے ہوئے لیاقت علی خان نے سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی جو تاریخ ساز بجٹ پیش کیا اسے غریب آدمی کا بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس بجٹ سے ہندو سرمایہ دار حیران و پریشان رہ گئے اور اسکی مخالفت کرنے لگے ۔ایک پرولتاری مزاج کے حامل نوابزادے کے اس ”کارنامے“ کے سامنے آخر کار کانگریسی راہنماﺅں نے گھٹنے ٹیک دئےے اور کئی راہنماﺅں نے بادل ِنخواستہ تقسیم ہند کی حمایت شروع کر دی۔ قیام پاکستان کے بعد لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی خواہش کے برعکس جب قائد اعظم نے سربراہ ریاست کی حیثیت سے حلف اُٹھایا تو اپنے ساتھ بطور وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا ہی انتخاب کیا بلاشبہ ابتداءمیں بابائے قوم خود ہی قوم اور حکومت کی راہنمائی فرماتے تھے۔ لیکن اس دور میں بھی انکے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری وزیر اعظم ہی کی تھی لیکن صرف ایک سال بعد جب قائد اعظم قوم کو داغِ مفارقت دے گئے تو نوازئیدہ پاکستان کی بنیادیں ہل گئیں بھارت نے اس صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حیدر آباد دکن پر ہلہ بول دیا اس سے نوازئیدہ مملکت خداداد کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں ہزاروں اندیشے اور خطرے جنم لینے لگے۔ ایس ایم اکرام کے بقول غیر ملکی مبصرین تو یہاں تک کہنے لگے کہ"With the builder's death the house that Jinnah built would collapse" یعنی معمار کی وفات سے وہ مکان جو جناح نے تعمیر کیا قائم نہیں رہ سکے گا۔ان تشویشناک حالا ت میں نوابزادہ لیاقت علی خان نے عزم و استقلا ل سے قوم کے آزردہ دلوں کو سنبھالا دینے اور لا تعداد مسائل کی الجھی ہوئی گھتیوں کو سلجھانے میں ناقابل فراموش کردار سرا نجام دیا ۔انہوں نے خود اعتمادی ، تندہی، لگن اور تدبر سے اندرون وبیرون ملک پاکستان کی ساکھ نہ صرف قائم رکھی بلکہ اس میں اضافہ کیا چوہدری محمد علی کے الفاظ میں"Liaqat Ali rose to unexpectedly great hights as the national leader"لیاقت علی کو جن مسائل کا سامنا تھا ان میں سرفہرست فرقہ وارانہ فسادات اور مہاجرین کی آباد کاری کا تھا آپ خود مہاجر کو نسل کے چیئرمین تھے اور شب و روز آباد کاری کے فرائض سرانجام دیتے رہے فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لئے حکومت ہند اورلارڈ ماﺅنٹ بیٹن سے ملاقات کی نہرو کے ساتھ مل کر جرا ¿ت مندی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ فضا کو خوشگوار بنانے کے لئے گاندھی کی سمادھی پر پھول چڑھائے۔ پٹیل کی عیادت کی اور نہرو لیاقت پیکٹ کے لئے راہ ہموار کی ۔عبوری دور میں ہی لیاقت علی خان ثابت کر چکے تھے کہ وہ اقتصادی ومالیاتی امور سے کماحقہ‘ آگاہ ہیں۔ چنانچہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد آزاد معیشت کے لئے ملکی برآمدات پر زور دیا اور پہلے ہی سال بظاہر ناگفتہ بہ حالت اور اثاثوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور روک کے باوجود متوازن بجٹ پیش کرکے مستحکم معاشی حالت کی نشاندہی کی۔ انہی کے دور میں اکتوبر1948ءمیں لاہور میں سکے ڈھالنے کے لئے ٹکسال قائم کیا گیا ۔اقتصادی حوالے سے انہیں ستمبر1949ءمیں ایک اور کڑے امتحان سے گزرنا پڑا جب برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنی معاشی بدحالی کے باعث عالمی سطح پر اپنے سکے کی قیمت گرانے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیڑھ سال تک معاشی سردجنگ جاری رہی بالاخر25جنوری1951ءکو بھارت نے پاکستانی سکے کی نئی شرح تبادلہ کو تسلیم کر لیا انہی دنوں کوریا کی جنگ چھڑ جانے سے بھی پاکستان نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ 
نومبر1949ءمیں نیشنل بنک آف پاکستان قائم کیا گیا۔ اسی سال کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت کے لئے سب سے پہلا سٹاک ایکسچینج کراچی میں قائم کیا گیا ۔1950ءپاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی جس کا مقصد پبلک سیکٹر میں صنعتیں قائم کرنے کے بعد ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کرنا تھا۔کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ تیل کی تلاش شروع ہوئی جس کی وجہ سے سوئی گیس دریافت ہوئی ۔وارسک پراجیکٹ اور کرنافلی پراجیکٹ پر توجہ دی گئی سیلاب کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لئے 1950ءمیں فلڈ کمیشن قائم کیا ۔اسکی سفارشات کے مطابق قانون قومی آفات پاس کیا گیا جسکے تحت فلڈ ریلیف کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسی کمیشن کے فوجی ممبران کی تجویز پر بمبانوالہ بیدیاں کینال تعمیر کی گئی اس نہرنے1965ءکی پاک بھارت جنگ میں لاہور کی حفاظت کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 
اس کے باوجود لیاقت علی خان کے کچھ ناقدین معترض ہیں کہ کو وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلی میں واضع اکثریت کے باوجود دستور سازی کے معاملے میں غیر ضروری تساہل سے کام لیالیکن معترفین بھول جاتے ہیں کہ قائد اعظم کی رحلت، مہاجرین کا سیل ،رواں مسئلہ کشمیر، سرحدوں پر ہندوستانی فوج کا اجتماع ایسی حقیقتیں تھیں جس سے انکی تمام تر توجہ قومی استحکام پر مرکوز رہی، اسکے باوجود12مارچ1949ءکو قرار دادمقاصد منظور کرائی جسکی بنیاد پر دستور بنناتھااگلے ہی روز بنیادی اُصولوں کی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے اگلے سال عبوری رپورٹ پیش کی اس پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو اس پر بحث ملتوی کراد دی اور پھر انکی جان لے لی گئی۔ 
اسکے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ انکے دور میں مسلم لیگ اور حکومتی پارٹی تنزل کا شکار ہو گئی مگر انہوں نے بطور وزیر اعظم اور صدرپاکستان مسلم لیگ اس طرف مناسب توجہ نہ دی اسی بناءپر تمام صوبوں میں بھی مسلم لیگی قائدین اور ارباب اقتدار دست و گربیان رہے مگر اس نازک صورتحال میں وزیر اعظم خود کو مفادات کی جنگ اور ان صوبائی جھگڑوں سے بالا تر نہ رکھ سکے۔ اس سے انکی ذات ہدف تنقید بنی ڈاکٹر مظفر احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ”انکا تعلق پاکستان کے کسی صوبہ سے نہ تھا لہٰذا انہیں سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے مختلف صوبوں کو وزرائے اعلیٰ کے تعاون کا سہارا لینا پڑتا تھا اور اس غرض کے لئے انہوں نے متعد د باراصولوں کی قربانی دی۔ لیاقت علی کے عہد میں خارجہ پالیسی نے بھی واضع شکل اختیار کرنا شروع کر دی تھی۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کو پر امن طریقے سے طے کرنے کے لےے اقدامات، سا لمیت پاکستان کے تحفظ کے لئے دستور کی تلاش اوراسلامی کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو فروغ حاصل ہوا۔ لیکن مشتاق احمد نے اپنی کتاب ” گورنمنٹ اینڈ پالٹکس ان پاکستان“ میں لیاقت دور کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا ہے کہ ابتداءمیں انکی پالیسی غیر جانبدارانہ تھی اور پاکستان کسی بھی بین الاقوامی گروہ میں یا بلاک میں شامل ہونا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن روس کی دعوت پر ماسکو نہ جانا اور ٹرومین کی دعوت پر امریکہ چلے جانا غیر جانبداری کے دعوﺅں کے سر ا سر منافی تھا۔ بعد ازاں اس غلطی کی وجہ سے وزیر اعظم کو شہید کر دیا گیا۔ 
قائد ملت لیاقت علی خان16اکتوبر1951ءکو راولپنڈی کے موجودہ لیاقت باغ میں عوام کے ایک بڑے اجتماع کو خطاب کرنے آئے اور ڈائس پر جونہی انہوں نے تقریر شروع کی اور ابھی برادارن ملت ہی کہا کہ سید اکبر نامی ایک پٹھان نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنالیا وہ کلمہ طیبہ ادا کرتے ہوئے نیچے گر پڑے اور انکی روح پرواز کرنے لگی آخری وقت انکی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ خدا پاکستان کی حفاظت کرے ۔ وزیر اعظم کی شہادت کا واقعہ ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا۔ اگر ہم شہیدملت لیاقت علی کی حیات و خدمات کا تجزیہ کریں اور انکی بشری کوتاہیوں اور ملی خدمات کو ترازو میں رکھیں تو شریف النفس وزیر اعظم کی خدمات کا پلڑا بھاری رہے گا۔ سید نور احمد ”مارشل لاءسے مارشل لاءتک“ میں لکھتے ہیں کہ انکی بعض پالیسیوں سے اختلاف ممکن ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ قائد اعظم کی طرح لیاقت علی خان نے بھی پاکستان ہی کو اپنا سرمایہ، اپنا خاندان اور اپنا سب کچھ سمجھا۔ انہوں نے نہ کوئی بنک بیلنس جمع کیا ،نہ اپنے لئے اور نہ اپنے خاندان کے لےے کوئی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کی وہ اقتدار کو قوم کی امانت سمجھتے رہے قائد اعظم کے بعد ملک کی قیادت اور خدمت کے لئے انکی موجودگی بلاشبہ عوام کا حوصلہ بلند رکھنے کا باعث ثابت ہوئی۔ انکی کابینہ کے ایک اہم وزیر چوہدری نذیر احمد خاں رقمطراز ہیں کہ لیاقت علی خان ایک سچے ،محب وطن، بے لالچ قابل اور گہری سوچ و بچارکے مالک تھے انہوں نے قائد اعظم کے بعد جس طرح اس نوازئیدہ مملکت کو سنبھالا وہ انہی کا حصہ ہے۔ جبکہ مشتاق احمد نے انکی شہادت کو عظیم المیہ قرار دیتے ہوئے یوں تبصرہ کیا تھا کہ 
The Assassination of Liaqat was a mortal blow to to the young state, how grim was the tragedy, became more obvious by the events that followed his death....his premature exit from the scene marked a turning point in political history of Pakistan. 

٭٭٭٭٭

منگل، 30 جون، 2015

تعلیم ، بجٹ اور میڈیا


قومی تعمیر نو میں یونیورسٹیاں اہم وسیلہ ہوتی ہیں۔ سیاسی ، معاشی اور تہذیبی استحکام کے لیے قوموں کو علوم و فنون کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یونیورسٹیاں اس ضرورت کو پورا کرنے کا قومی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ حقیقی یونیورسٹیاں معاشرے میں علم و دانش، مباحثے اورمکالمے کو فروغ دیتی ہیں تاکہ لوگ اپنے مسائل سے آگاہی اور انہیں حل کرنے میں لکیر کے فقیر نہ رہیں۔ اس طرح یونیورسٹیاں سماجی خدمت کے مختلف وسیلوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سماجی ترقی کا سبب بنتی ہیں۔ ترقی کا پائیدار عمل مادی سطح پر اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک اس بستی کے لوگوں میں فکری تبدیلیاں رونما نہ ہوں۔ تاہم فکری راہنمائی کی ذمہ داری بہر حال یونیورسٹیوں کو ہی ادا کرنی ہے ۔ خوش قسمتی سے یونیورسٹی آف گجرات اپنے اس مثبت کردار سے بخوبی آشنا ہے اور اپنے وژنری قائد ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی راہبری میں روایتی درس گاہ سے بڑھ کرقومی دانش گاہ کا فریضہ ادا کرنے کی ثمر آور سعی میں مصروف عمل ہے ۔ اس بات کا شدید احساس و نشاط گذشتہ دنوں علوم ترجمہ کے ممتاز دانشور استاد ڈاکٹر غلام علی کے ہمراہ یونیورسٹی آف گجرات کے مرکزی آڈیٹوریم میں ”تعلیم، بجٹ اور میڈیا“کے موضوع پر منعقدہ فکر انگیز اور پر مسرت سیمینار میں ہوا۔
صدر شعبہ ¿ ڈاکٹر زاہد یوسف کی ولولہ انگیز قیادت میں جامعہ گجرات کا سنٹر فار میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ناطے ایسی سنجیدہ فکری نشستوں کا اہتمام کرتا رہتا ہے جس میں دانشوروں، صحافیوں اور میڈیا کے زعماﺅں کو طالبعلموں کے روبرو بٹھا کر عصری مسائل پر نتیجہ خیز مکالمہ کیا جا سکے اور طالبعلموں کو ابلاغ عامہ کے ماہرین کو براہ راست سننے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا جا سکے ۔
بجٹ کی آمد کے بعد گلی محلوں سے پارلیمنٹ تک ہر جگہ اس پر مختلف حوالوں سے گفتگو جاری ہے مگر بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص فنڈز و کردار پر سنجیدہ مکالمہ نہ میڈیا میں سننے کو ملا، نہ اخبارات میں پڑھنے کو، اس کمی کا ازالہ اس نشست میں ہوا جہاں پر مغز گفتگو نے کئی سوالوں کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ بہت سے نئے سوالوں کو جنم دے کر حاضرین کو سوچنے کے لیے بہت کچھ دیا۔ سیمینار کا آغاز نقاش سعید کی تلاوت قرآن حکیم اور رضوانہ کوثر کے ہدیہ نعت سے ہوا تو فضا میں علمیت کے ساتھ ساتھ روحانیت اور سنجیدگی کا تاثر بھی بڑھ گیا ۔ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر زاہد یوسف نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیمی ترقی کی راہ میں بڑی بڑی فکری و عملی رکاوٹیں ہمیشہ کھڑی رہی ہیں۔ تعلیم کی حالت زار پر بہت بات ہو چکی مگر پھر بھی اس لیے کہ شاید کچھ ”توجہ دلاﺅ“ قسم کی فکری ، قلمی اور بیانہ کاوشیں کبھی رنگ لے ہی آئیںاور ہمیں سوچنے اور سوال کرنے پر مجبور کر دیں۔ اس لیے یہ فریضہ ادا کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ تعلیمی شعبے پر وہ قومیں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتی ہیں جنہیں ترقی کی آرزو اور خوشحالی کی امنگ ہو ۔ مہمان مقرر جواں عزم اور روشن خیال اینکر پرسن (دنیا ٹی وی ) محمد اجمل جامی نے کہا کہ اکیسویں صدی میں تعلیمی شعور اور آگہی ناگذیر ہے۔ تعلیم ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہی۔ ہمارے حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم تعلیم کو اپنی ترقی کا محو بنا لیں ۔ ہمارے ہاں تعلیمی بجٹ آج بھی دو فیصد کے گرد گھومتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کے ذریعے تعلیمی بجٹ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے اور تعلیم و ترقی کے تعلق کو مربوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے آگاہی پیدا کی جائے۔ ترقی کا شعور فکری تبدیلیوں کے ساتھ مشروط ہے۔ یونیورسٹی آف گجرات کی معنی خیز، پاکستانیت اور پاکستان کے تقاضوں سے ہم آہنگ جراتمندانہ کاوش ہے۔ سیمینار کے مہمان اعزازDGPR کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر نے کہا کہ آج کے میڈیا کی دنیا میں صداقت، معروضیت، غیر جانبداری اور سنجیدگی کم ہوئی ہے ۔ میڈیا کے تعلیم جیسے اہم موضوع پر کردار کے حوالے سے آج کے سیمینار کے انعقاد پر منتظمین مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آج کے میڈیا کے مسائل و مفادات نے اس کے فرائض اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور صحافت ذرا پیچھے رہ گئی ہے ۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ علمی ترقی کے اعلیٰ مدارج کو نہ چھو لے۔ آزادی اظہار ترقی یافتہ قوموں کا شیوہ ہے اور فرد کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم سماجی شعور کا نام ہے۔ پاکستان میں تعلیم و صحت کے لیے بجٹ کو خاطر خواہ طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سیمینار کے مہمان خصوصی سینئر تجزیہ کار اور CPNE کے صدر مجیب الرحمن شامی تھے۔ شامی صاحب کے نقطہ ¿ نظر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کا شمار ان چند خو ش قسمت دانشور صحافیوں میں ہوتا ہے جن کو خدا نے لکھنے اور بولنے دونوں نعمتوں سے نوازا۔ وہ بولتے ہوئے بلا تکان دلائل در دلائل دیے جاتے ہیں۔ مہمان خصوصی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی ترقی کے لیے میڈیا کا کردار بے پایاں اہمیت کا حامل ہے کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس ملک کے بجٹ کا کتنا حصہ تعلیمی شعبہ ¿ پر خرچ کیا جا رہا ہے ۔ اکیسویں صدی میڈیا کی صدی ہے ۔ ذرائع اطلاعات و نشریات برق رفتار بن چکے ہیں۔ میڈیا کی بنیادی ذمہ داری پاکستان کی تاریخ و مسائل کا صحیح ادراک کرنا اور اطلاعات کو عوام تک دیانتداری سے پہنچانا ہے۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر حکومتی ناکامیاں ہمارے وسائل کو تباہ کر رہی ہیں۔ پاکستانی بجٹ میں تعلیم پر خرچ کی مد میں آہستگی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ تعلیم اب صوبائی معاملہ ہے۔ حکومت کو جلد بجٹ پر چار فیصد تک خرچ کرنا ہو گا ۔ جامعات اور تعلیمی اداروں کو صنعتوں کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے ۔ صوبوں کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ہر قسم کے وسائل موجود ہیں مگر سرکار اپنا حصہ وصول کرنے میں ناکام ہے۔ حکمرانوں کو خرچ کی رقم کم کرنے کی بجائے آمدن بڑھانے والے اعمال پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ میڈیا عوامی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے اسے تعلیم اور اس کی ترقی سے وابستہ مسائل پر اور زیادہ بات کرنا ہو گی ۔ جامعہ گجرات جیسی متحرک ، فعال اور شاندار یونیورسٹیاں ہی حقیقی جامعات ہیں۔ صدر محفل شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کہا کہ تعلیمی ترقی کا حصول معاشرہ کی انقلابی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ تمام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کا انحصار علم و تعلیم کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے ۔ شومئی قسمت ہمارے ہاں مجموعی پیداوار کا بہت کم حصہ تعلیمی ترقی پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں تعلیمی ترقی کے لیے وسائل کی فراہمی کے اپنے اپنے منشور پر بھی عمل نہیں کر رہی رہیں۔ تعلیم پر اخراجات کو خرچ نہیں سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔ تعلیمی نظام کو مربوط و مضبوط اور توانا ءبنانے کے لیے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کرے۔ جامعات کو بھی سرکار پر انحصار کے ساتھ اپنے اپنے وسائل کو بڑھانے کے لیے انڈسٹری اکڈیمیا لنکجز کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ جامعہ گجرات کے اینڈوومنٹ فنڈ کے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی، تاجر برادری ، مخیر حضرات اور اوورسیز پاکستانیوں کے تعاون کو وسعت دیں گے۔ میڈیا کے دانشوروں کا جامعہ گجرات آنا اور سنٹر فار میڈیا سٹڈیز کا وقت کے تقاضوں کے مطابق سنجیدہ موضوع پر علمی نشست کا اہتمام کرنا لائق تحسین ہے ۔
سیمینار میں ابلاغیات کے اساتذہ ڈاکٹر محمد ارشد، زاہد بلال، محترمہ ثوبیہ عابد، ڈاکٹر لبنیٰ ، رخسانہ ریاض، عمیر احمد ، منعم شہزاد سمیت ماہرین تعلیم، تعلیمی منتظمین ،اساتذہ، اور طالبعلموں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ان کے فکر انگیز سوالات نے سیمینار کو حقیقی جہتوں کا پابند رکھا۔
ہمارے ملکی و قومی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو اپنی سب سے بڑی ترجیح بنا لیں۔ پوری قوم یک نکاتی ایجنڈا بنا لے کہ ہمیں پورے اخلاص سے انفرادی ، اجتماعی اور قومی وسائل کا بڑا حصہ صرف اور صرف تعلیم کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ہماری خوشحالی، ترقی اور سلامتی کی سب راہیں صرف تعلیم اور تعلیم ہی کھول سکتی ہے ۔ تعلیم سے بڑا پیداواری سیکٹر اور کوئی نہیں، اس کا ادراک ماہرین معاشیات کو بھی بخوبی ہے مگر ہمارے سرکاری و کاروباری مالیاتی ماہرین اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیںجس کا اظہار ان کے اعداد و شمار کے سالانہ گورکھ دھندے سے ہر سال عیاں ہوتا ہے ۔ اپنے شہریوں کی تعلیم و صحت کا تحفظ و ترقی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں ہے ۔ بجٹ ریاست کے شہریوں کی ایسے ہی حوالوں سے خدمت کے لیے سالانہ میزانیے کا نام ہے جو حکمرانوں کے سیاسی منشور اور نصب العین کی تصویر پیش کرتا ہے ، اس تناظر میں صورتحال کسی طرح بھی قابل تحسین نہیں ہے۔ تعلیم کے لیے وقف بجٹ حکمرانوں کے انقلا بی نعروں قومی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ گذشتہ کئی سالوں سے سیاسی قائدین نے تعلیمی بجٹ کو انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کیا ۔گذشتہ انتخابات میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے تعلیمی بجٹ چار فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا مگر تیسرا مسلسل بجٹ ہے حکمران جماعتیں اپنے ہی منشور کے مطابق عمل پیرا نہ ہو سکیں اور نہ ہی اپوزیشن نے اسے مخالفت برائے مخالفت کے پراپیگنڈے سے زیادہ اہمیت دی۔ اس صورتحال میں میڈیا کی بڑی ذمہ داری تعلیم کے بجٹ پر قومی جذبات کی عکاسی کرنا تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کسی سماج یا ملک میں میڈیا جس آزادی ، ذمہ داری اور ایمانداری سے معلومات پہنچاتا ہے ویسا ہی ذمہ دار ذہن و کردار پروان چڑھتا ہے۔ قوم کے مزاج اور کردار کا اعلیٰ ترین اظہار میڈیا ہی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ تاہم حالیہ بجٹ میں تعلیم کے لیے وقف وسائل اور قومی ضرورتوں میں جو تفاوت ہے میڈیا اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی نے بھی کوئی تحقیقی رپورٹ نہ دکھائی نہ شائع کی۔ اس احساس کا علمی تجزیہ کرنے اور تعلیم اور بجٹ کے حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے میڈیا کو جگانے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کا یہ سیمینار قوم کے جذبات کا آئینہ دار تھا۔ ایسے مکالمے ، مباحثے کی ذمہ داری کا فریضہ ایک دانش گاہ ادا کر رہی ہو تو یہ بھی قوم کے لیے نوید مسرت سے کم نہیں کہ اب جامعہ گجرات سے ”ضیائے قیوم“ کے انوار سے نئی روشنی پھیلنے لگی ہے ۔ مکالمے و مباحثے کی یہی فضا ہمارے زندہ ہونے کا اعلان بھی ہے اور آنے والے دنوں میں قوم کی علمی اور عملی راہنمائی کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کے اگواکار ہونے کے دعوے کی تصدیق بھی ۔