جمعہ، 6 مئی، 2016

سرشت بہار زندہ ہے

سرشت بہار زندہ ہے 


زندہ قومیں زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہیں جبکہ مردہ قومیں مردوں کی پرستش کرتی ہیں۔ ماضی پرست قوم ہونے کے ناطے ہمارے ہاں ”عظمت رفتہ“ کا سحر اس قدر طاری ہے کہ ہمیں زندہ لوگوں میں کوئی بڑا آدمی نظر ہی نہیں آتا۔ ہم رشک کی بجائے حسد کرنے کے عادی ہیں۔ بت پرستی کے اس عالم میں زندہ لوگوں سے محبت کے اظہار، ان کی تعریف و تحسین کے لیے ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پر وقار تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو مجھے حیرت ہوئی لیکن خوشی بھی ہوئی کہ ’سرشت بہار زندہ ہے“۔وطن عزیز کے قابل قدر ماہرین تعلیم اور اعلیٰ تعلیم  کے راہبر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر HEC ڈاکٹر ارشد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اینمل اینڈ ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو تعلیم، تدریس، تحقیق کے حوالے سے قومی خدمات پر حکومت پاکستان نے ستارہئ امتیاز اور تمغہئ امتیاز سے نوازا تو اعلیٰ تعلیم کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس خوشی کے اجتماعی اظہار کے لیے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر شاہد صدیقی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل سائنسز یونیورسٹی اسلام آبادکے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ طو رپر ”شامِ اعزاز“ کی میزبانی کا اعلان کیا اور گذشتہ دنوں لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں شاندار، باوقار اور علم پرور عشائیے کا اہتمام کر کے واضح کیا کہ صاحب علم او ربا عمل لوگ زندہ قومی ہیروز کی قدر کرتے ہیں۔کیونکہ عظیم دماغ دوسروں کے اثرات سے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ مرعوب بلکہ ان کے وجود کی وسعت کا انداز کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر جاوید اکرم کا گھر ان کے ذوق جمال کا عکاس تھا اور حسنِ انتظام ان کی انتظامی صلاحیتوں کا کھلا ثبوت کہ آنے والوں کے لیے شرکت بلا شبہ اعزاز سے کم نہ تھی۔تقریب اتنی پروقار تھی کہ پنجاب کی 35 جامعات کے سربراہان یہاں اپنی اپنی شریک حیات کے ساتھ اعتماد اور محبت سے کھنچے چلے آئے،ایسا لگ رہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم محض ایک پیشہ نہیں اس سے وابستہ لوگ ایک فیملی ہیں۔ 
جامعات کے سربراہان کو داد دینے کے لیے ممتاز تجزیہ نگار و اینکر سہیل وڑائچ، سینئر صحافی سجاد میر، جوان فکر اینکر حبیب اکرم، تعلیم دوست کالم نگار نعیم مسعود، ڈی جی پی آر کے  ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع ایم این اے چوہدری جعفر اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق بھی پیش پیش تھے۔ 
شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات  ڈاکٹر ضیاء القیوم جس گرمجوشی اور محبت سے مہمانوں کو ’جی آیاں نوں‘کہنے میں مصروف عمل تھے اسے دیکھ کر مجھے مدر ٹریسا کی یہ بات یاد آرہی تھی کہ ”اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس کو کتنا کم یا کتنا زیادہ دے رہے ہیں بلکہ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم جو کچھ دے رہے ہیں اس دینے میں ہماری محبت کس قدر شامل ہے“۔ 
ستارہئ امتیاز کے حامل مہمانان گرامی پنڈال میں آئے تو ایسے ہی تھا جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آ جائے۔ عالموں کی آمد سے شب بھی منور ہو گئی۔ جس کو بھی مبارک دی جاتی وہ عجز و انکساری کا پیکر بن جاتا۔اور برملا کہہ دیتا یہ میرا نہیں میرے شعبے کا اعزاز ہے، یہ ہائر ایجوکیشن کے لیے افتخار کی بات ہے۔ کارکردگی، محنت،ریاضت اور کاوش کے شجر پر پھل ضرور آتا ہے اور ایسے موقعوں پر لوگ ثمر دار درخت یافرد کی طرف اشارہ کر کے ضرور کہتے ہیں کہ 
؎  دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے  
دانہ زمین کی تہہ دار گہرائیوں اور اندھے غاروں میں سفر کر کے کس طرح زمین کا سینہ چیر کر باہر آتا ہے، یہ دانہ ہی جانتا ہے مگر اس کی ذات میں اپنے آپ کو دکھانے اور ذات کااظہار کرنے کے لیے جس ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد، ڈاکٹر ارشد علی، ڈاکٹر محمد علی شاہ یا ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کو تحقیق و تعلیم کے میدان میں کتنی جان مارنا پڑی اس کا اندازہ شاید دور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود یہ سارے تشکر و عاجزی کا جو مظاہرہ کر رہے تھے اس سے نوبل انعام دینے کی وہ تقریب ضرور یاد آرہی تھی جس میں عظیم امریکی ادیب ولیم فاکنر کو نوبل انعام ملا تھا، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ انعام وصول کرنے سویڈن گیا تو اس نے کہا ”یہ انعام مجھے نہیں میرے کام کو دیا گیا ہے“اسی خیال سے میں آگے بڑھا مگر درویش منش چیئر مین HEC ڈاکٹر مختار احمد سے پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا کہ آپ کو یہ ستارہئ امتیاز کیوں ملا……؟  بہت سے لوگ مصروف عمل ہیں تو پھر سرکاری انتخاب آپ کیوں؟ تاہم میں نے یہی سوال پاس بیٹھے محترم ڈاکٹر ضیاء القیوم سے ذرا بدل کر پوچھ لیا کہ ان لوگوں کی امتیازی صفت کیا ہے جو باقی لوگوں میں کم ہے۔ ان کی کونسی کرامت ہے کہ انہیں یہ اعزاز ملا ہے؟ ڈاکٹر ضیاء القیوم مسکرائے اور بولے کہ ایک عربی مقولہ ہے ”الاستقامۃ فوق الکرامۃ“ یعنی استقامت کرامت سے بھی اوپر ہے۔ یہ استقامت والے لوگ ہیں یہ کام اور محنت کرتے نہیں ہیں کئی عشروں سے کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔  میں ضیائے دانش گاہ گجرات کی بات سن کر چپ ہو گیا اور میرے ذہن میں بنجمن ڈزرائیلی کا یہ قول مچلنے لگا کہ ”زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہے جو بہترین معلومات رکھتا ہو“۔  

ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے اپنے انداز میں مہمانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسی تقریبات کو اعلیٰ تعلیم کے غیر رسمی تعلقات سے تعبیر کرنا چاہیے جہاں نئی روایات جنم لیتی ہیں۔ محترم سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ تقریب دیگر سربراہان جامعات کے لیے بھی امید افزاء ہے اور پھر غیر رسمی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے تعمیری و تطہیری پہلوؤں پر کھل کر گفتگو نئے اعزازات کے لیے راستہ ہموار کرنے کا موجب ہو گی۔ سینئر صحافی سجاد میر نے مبارکباد دی اور کہا کہ اتنے بڑے بڑے عالموں، محققوں بلکہ استادوں کے استادوں کی محفل میں آنا خوشی کی بات ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری تحقیق کو جدت و اختراع کے ساتھ ساتھ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے۔ اینکر حبیب اکرم نے کہا کہ میں نے تو دوران تعلیم مشکل سے اپنے وائس چانسلر کو قریب سے دیکھا تھا جبکہ آج اتنے زیادہ وائس چانسلرز کی موجودگی میں خوش اور حیران ہوں او رموقع غنیمت جان کر چیئر مین HEC سے گذارش کروں گا کہ قومی زبان کے نفاذ کے لیے اعلیٰ تعلیم میں قومی زبان کے کردار پر بھی بھرپور کام کیا جائے۔ تمغہئ امتیاز کے حامل ڈاکٹر محمد علی شاہ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو عیاں ہو رہا تھا کہ دنیا کے اعزازات اس پر جوش شخص پر واری واری جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ٹھنڈ ااور متوازن رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی سائنسی تحقیق کی گرمی کو ان کی صوفیاء کے کلام سے محبت ٹھنڈا رکھتی ہے،وہ مٹی کی خوشبو سے رچی بسی پاکستانی فکر کے علمبردار ہیں وہ کامل درویش کی طرح شکریہ ادا کر رہے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن سے اس کے عظیم اور ناقابل فراموش کارناموں کے بارے میں کسی نے پوچھاتو اس نے ایک ہی بات کہی تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اظہار محبت کرتا تھا اسی لیے زندگی نے بھی اپنے تمام راز آئن سٹائن پرافشاکردیئے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی یہ خوبی آئن سٹائن سے ہی مماثلت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد اپنی درویشی اور شیریں گفتگو اور متانت کے باعث جانِ محفل نظر آرہے تھے۔ ہر ایک ان کے گرد جمع ہو کر ان سے دعائیں ضرور لیتا۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓنے ایک بار فرمایا،وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بنا سکیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہو تو وہ ان میں انہی کے ایک شخص کی طرح رہے، او رجب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہو، یعنی اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیر وہ لوگوں کے درمیان عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لے، مگر اسی کے ساتھ وہ اتنا بے نفس ہو کہ اسے عہدہ پر بٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو، اس کے باوجود لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی۔ اسی تعریب کا کرشمہ میں نے اس شامِ اعزاز میں دیکھا۔ مجھے لگا کہ اختیار کو مختار سے نسبت یونہی نہیں ہو گئی، فضّلِ ربی ضرور ہے اور بے وجہ بھی نہیں ہے وہ بلا شبہ ستاروں کی اس محفل میں چودھویں کے چاندکی طرح تھے۔ 
مجھے خوشی ہے کہ جس لمحہ ان اعزازات پانے والی ہستیوں کی ستائش کی جا رہی تھی،میں لفظوں کی مالا لیے ان کے ساتھ کھڑا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ رب العالمین! امتیاز کے حامل ان ماہرین تعلیم کی روح اور دل کو سکون و راحت نصیب کرے۔ 
یہ تقریب ’ہیروورشپ‘کی نہیں تاریخی شعور کی عکاس تھی۔تاریخی شعور ہی ہے کہ جس میں ماضی اور حال کا وجدان دونوں شامل ہیں۔ تاریخی شعور انسان کو اپنے عہد کے ساتھ سانس لیتے انسانوں کی ہڈیوں میں موجود محبت کے ذروں کو لفظ اور احترام میں سمو دینے کا حوصلہ بخشتا ہے اور یہی فکر ہمیں اپنے ہم عصروں، وقت اور زمانے کا احساس دلاتی ہے اور پھر لوگ اور گروہ حسد کرنے کی بجائے رشک کرنے کی راہ پر بامراد ٹھہرتے ہیں۔ یہ شامِ اعزاز نوید دے رہی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کی اگواکاری کا فریضہ تاریخی شعورکے حامل رشک کرنے والے مثبت فکر لوگوں کے کاندھوں پر ہے جو اس قوم کے لیے روشن مستقبل کی ضامن اچھی خبر ہے۔  


بدھ، 4 مئی، 2016

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم کا کردار اور امکانات

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم 
کا کردار اور امکانات 


ممتاز ماہر سیاسیات ہیرالڈ لاسکی کا ایک مضمون"The Obsolescence of Federalism"   ء میں شائع ہوا جس میں اس نے اعلان کیا تھا کہ ”وفاقیت کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا“ اور نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت اپنی روایتی ہیئت،وظائف کی حد بندی، غیر لچک پذیری اور فطری قدامت پسندی کے باعث زندگی کی اس رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتی جسے سرمایہ داری جیسے دیو قامت نظام نے پروان چڑھایا ہے لہذا اب غیر مرکزیت والی واحدانی حکومت بیسویں صدی کے درمیان کے حالات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس کے باوجود وہ مسائل جو وفاقیت کے لیے الجھن کا باعث ہیں اور وہ مسائل جو وفاقی نظام میں از خود موجود ہیں، انہیں جاننے کے باوجود دنیا نے وفاقی نظام کو نہ صرف زندہ رکھا ہے بلکہ اس نے ترقی پذیر ملکوں میں مقبولیت بھی حاصل کی ہے۔ 
آج بھی دنیا کی آبادی کا چالیس فیصد حصہ وفاقی ممالک میں رہتا ہے وفاقی نظام ہائے حکومت کے حامل 28 ممالک میں حیرت انگیز کثیر جہتی پائی جاتی ہے ان میں نہ صرف دنیا کے متمول ترین ممالک جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ بلکہ مائکرونیشیا اور سینٹ کٹس اور نیوس جیسی مختصر جزیریاتی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ دنیا کے دس گنجان ترین ممالک میں سے چھ اور رقبے کے اعتبار سے دس بڑے ممالک میں سے آٹھ وفاقی ہیں۔سر آئیور جیننگز نے کہا تھا کہ ”کوئی بھی وفاقی نظام نظام کو نہ اپناتا، اگر وہ اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا“۔ دنیا میں اس وقت وفاقیت ہی بڑھتی ہوئی مقبولیت حاصل نہیں کر رہی بلکہ اس کے مآخذوں، بنیادوں اور خصوصیات کو سمجھنا بھی اہم گیا ہے۔ 
پاکستان بھی ایک وفاقی ملک ہے، کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں وفاقی نظام اچھے طریقے سے کام نہیں کر سکا کیونکہ مرکز گریز قوتوں اور مرکز مائل قوتوں میں توازن نہیں رہا۔ یہاں نظام اور مزاج کا رجحان مرکزیت کی طرف تھا جس سے و فاقی اور علاقائی عدم توازن پیدا ہوا۔ اس کے باوجود اٹھارویں آئینی ترمیم اس سفر میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی کوکھ سے جمہوری اور شراکتی وفاقیت کے استحکام کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ لیونگسٹن نے عمرانی نقطعہئ نظر سے وفاقیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقیت کی اصل روح اس کی دستوری اور اداراتی ساخت میں نہیں بلکہ خود معاشرے میں موجود ہوتی ہے۔ وفاقی حکومتیں اور وفاقی دساتیر کچھ محرکات کے جواب میں وجود میں آتے ہیں، چنانچہ یہ نظام شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان مسائل کو حل کر سکے جو ان محرکات کے ترجمان اور نمائندہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں جمہوری وفاقیت کو شعوری طور پر اپنانے اور اس کے فروغ کے لیے علمی مکالمہ ناگذیر ہے۔اس حوالے سے پاکستان کی نامور جامعہ گجرات اپنے کردار کے حوالے سے قومی دانش گاہ کا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ حسب روایت حساس آئینی اور اہم قومی مسئلے سے نسل نو کو آگاہ کرنے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کی وژنری اور محب وطن قیادت نے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ شعبہ ئسیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام تقریب میں قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی میاں عطاء ربانی کے دانشور صاحبزادے وفاق کے نمائندہ ادارے سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کو موضوع پر گفتگو کے لیے مدعو کیا سابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری قمر زمان کائرہ، ایم پی اے میجر معین نواز اور چوہدری شبیر احمد،ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علم دوست وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے سینئر سٹاف کے ہمراہ مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ 

دانش گاہیں وہ ہوتی ہیں جنہیں دانشوروں کی میزبانی کا شرف حاصل ہو،جامعہ گجرات میں قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر دانشوروں کی آمد کی روایت پختہ اور قابل تحسین ہے۔پاک سرزمین کو شاد باد رکھنا اور منزلِ مرادتک پہنچانا جن کی ذمہ داری تھی وہ پروڈا، اورایبڈو جیسے قوانین کا رزق ہو گئے، قومی یکجہتی کی علامت قیادت کے حوالے سے قحط الرجال کے اس دور میں کہیں کہیں اُمید کے کچھ جزیر ے ہیں جہاں سے وفاقیت کے کچھ علمبردار ہر تاریک رات میں اپنے عہد کا دیا جلا کر راہبری کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ ان آشفتہ سروں کی کاوشیں ہیں کہ بلوچستان کی محرومی کا تریاق ہو چلا ہے، ڈرون کی جنگ اپنے انجام کو پہنچی ہے اور سب سے بڑھ کر۔۔۔کوئی ایسا بھی ہے جو زمیں زاد ہے، رضا ربانی جیسے سنجیدہ فکر پاکستانی نہ صرف جمہور کی اُمید ہیں بلکہ جمہوریت کی آس بھی ہیں۔ ان کی آمد سے تقریب میں پاکستانیت اور وفاقیت کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ صدر ِ شعبہئ سیاسیات ڈاکٹر مشتاق احمد نے اختصار و جامعیت سے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ وفاق اور وفاقیت کا تعارف کروایا۔ گلگت  بلتستان کے سابق گورنر چوہدری قمر زمان کائرہ جو تکلم کی جولانی اور گفتگو کی روانی کے حوالے سے شہرت عام رکھتے ہیں اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نے پاکستان میں صوبوں، اکائیوں اور مرکز کے درمیان تناؤ کم کرکے اعتماد کی فضا کو بحال کیا ہے۔ پاکستان قائدا عظم کے وفاقیت پر کامل یقین کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ غیر متوازن قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔ کڑے مرحلے پر رضا ربانی نے بطور چیئرمین کمیٹی وفاقیت کے استحکام کے لیے اکائیوں کو بہت کچھ لوٹا یا،ہماری قومی سیاسی اور آئینی تاریخ میں ان کا اجتہادی کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اپنے خصوصی خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی ممالک کے پاس حکومتوں کے درمیان بڑی حد تک باہمی انحصاری ہوتی ہے۔ سیاستدان، سرکاری ملازمین، شہری اور دیگر حصے دار اپنے اپنے دائروں میں نتائج پر کس طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہ چیز ایک وفاق کی سیاسی زندگی کے قلب تک جاتی ہے۔ وہ جمہوریتیں اور وفاقی نظام جن کو یکجہتی کے چیلنج کا سامنا ہو، ایک مثبت سیاسی قومیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وفاقیت کی طرف بتدریج بڑھتا ہوا رُحجان جمہوری انتظام کاری کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اُبھرا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ابھی بڑی تگ و دو کی ضرورت ہے۔ عوام اور اکائیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست پاکستان کا استحکام ہے۔ ہماری تہذیب اور ریاست مختلف صوبوں  سے جنم لیتی ہے۔ اُنہوں نے قائد اعظم کی حصولِ پاکستان کی جدوجہدکے تصور اور 11اگست1947ء کی پالیسی ساز تقریر سے وفاقِ پاکستان کی روح کو کشید کیا اور بتایا کہ تاریخ پاکستان میں اتحاد و اختلاف کے مستقبل بدلتے ہوئے دباؤ کے مقابل پاکستان میں وفاقی نظام ایک انتہا سے دوسری انتہا تک ڈانواں ڈول رہا، غیر متوان قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔ مرکزیت پسند حکومتیں قومی یکجہتی کا شعور بیدار نہ کر سکیں۔ ایسے میں اٹھارویں ترمیم خاصی اہمیت کی حامل ہے اس نے اکائیوں کو ان کے اصل مقام سے آگاہ کیا اور صوبائی خود مختاری کے تکنیکی اور آئینی معاملات پر سے گرد صاف کر دی گئی۔ صدرِ محفل ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ وفاقیت ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے متفرق لسانی اور ثقافتی گروہوں کو ایک عمومی مرکزی حکومت کے تحت متحد کرکے اتحاد و اختلاف کی متصادم قوتوں کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ کثیر نسلی اور کثیر اللسانی معاشرے ہی وفاقی ہوتے ہیں پاکستان کا معاشرہ وفاق کی خصوصیات کا حامل ہے۔ بانیان پاکستان کے تفکر میں وفاقی نظام وہ واحد ممکن العمل طریقہ کار تھا جس کے ذریعے اتحاد اور اختلاف کے متصادم دباؤوں کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکتا تھا۔ اتحاد یا اختلاف کی قوتیں جیسی بھی ہوں ان کو مناسب طور پر متوازن ہونا چاہیے تاکہ نظام چلتا رہے یہ ایک نازک معاملہ ہے، لیکن رضاربانی جیسے اٹھارویں ترمیم کے تخلیق کاروں نے پاکستان میں وفاقیت کو مرکزیت میں بدلنے سے روکنے کے لیے تاریخ ساز کردار ادا کیا، اٹھارویں ترمیم کی کوکھ سے مستحکم وفاق اور خوشحال پاکستان کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نسل نو تک اس روشنی کو پہنچائیں اور انہیں حقیقی جمہوری و وفاقی اقدار سے روشناس کرائیں۔ جامعات اس حوالے سے مثبت اور متحرک کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جامعہ گجرات قومی ذمہ داریوں سے آگاہ دانش گاہ ہے ہم اس حوالے سے پاکستانیت کے تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔ سوال و جواب کے فکر انگیز سیشن نے نئے سوالات اُٹھائے اور مہمان مقرر نے بھرپور جواب دئیے۔ سوال و جواب کی اُلجھنوں میں پاکستان میں جمہوری وفاقیت کی گتھی سلجھتی ہوئی دکھائی دینے لگی تو پنڈال پر زور تالیوں سے گونج اُٹھا۔ 
ٍ تکثیری معاشرے میں چھوٹی اکائیوں کا بڑے صوبوں سے خائف رہنا کوئی غیر معمولی مظہر نہیں یہ احساس کینیڈا و بھارت سمیت تمام وفاقی معاشروں میں مختلف درجوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ احساس نظام کے استحکام کے لیے اس وقت خطرہ بن جاتا ہے جب چھوٹے علاقوں کے شکوک و شہبات اور بے اعتمادی ایک زبردست عدم تحفظ کے احساس میں تبدیل ہو جائے۔ پاکستان میں وفاقیت کی ڈولتی کشتی کو پار لگانے کے لیے اٹھارویں ترمیم اہم موڑ ہے اس سے نئے امکانات اُبھر کر روشن مستقبل کی اُمید کو جنم دے رہے ہیں۔ بلاشہ ہمارے ہاں جمہوری وفاقیت عمدگی سے کام نہیں کر سکی یاا سے ٹھیک طرح سے کام کرنے نہیں دیا گیا، اس سے نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ وفاقیت ملک کے لیے موزوں نہیں۔ پاکستان میں وفاقی معاشرہ اپنے شدید ثقافتی و لسانی اختلافات کے ساتھ موجود ہے اس کے لیے جمہوری وفاق کا فروغ ناگذیر ہے حقیقی وفاق اور خالص جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام اس معاشرے کی بقا کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے وا ہونے والے نئے امکانات کو پروان چڑھانے کے لیے ساز گار حالات پیدا اور فراہم کیے جائیں جو اس کے کامیاب عمل درآمد کے لیے ممدو معاون اور لازمی ہیں۔ 



منگل، 3 مئی، 2016

قوانین کا اُردو ترجمہ:نفاذِ اُردو کی جانب اہم قدم


کوئی قوم اپنے نظام عدل اور معاشرتی انصاف کے تصور کو اس وقت تک بامعنی اور مفید نہیں بنا سکتی جب تک عام آدمی اپنے حقوق کے شعور اور اپنے فرائض کے فہم سے پوری طرح ہمکنار نہیں ہو جاتا۔ چونکہ پاکستانی قوانین کی زبان انگریزی رہی ہے اس لیے کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے قانون کا فہم ہمیشہ ہی ناممکن رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ نے اُردو کے بطور قومی زبان نفاذ کے حوالے سے اپنے فیصلے میں اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”عدالتی کاروائی کی سماعت میں اکثر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنت شاقہ اور کئی بے نوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہے اور اکثر فاضل وکلاء اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کہ درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی پیچیدہ اور ناقابل فہم ہو جاتے ہیں۔ یہ فنی پیچیدگی تو اپنی جگہ مگر آئین کے آرٹیکل251کے عدم نفاذ کا ایک پہلو اس سے بھی کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ہمارا آئین پاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکمران جب ان سے مخاطب ہوں تو ایک پرائی زبان میں نہیں بلکہ قومی یا صوبائی زبان میں گفتگو کریں۔ یہ نہ صرف عزت نفس کا معاملہ ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور دستور کا تقاضا بھی ہے ایک غیر ملکی زبان میں لوگوں پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں، یہ سامراجیت کا ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے“۔ عدالت عظمیٰ پاکستان نے اپنے تاریخ ساز فیصلے کے ذریعے اُردو کے بطور قومی زبان نافذ العمل کرنے کے احکامات جاری کیے تو حکومتِ پنجاب نے خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی قیادت میں بروقت قد م اُٹھاتے ہوئے، قانون تک عام آدمی کی رسائی کے لیے قوانین کے اُردو ترجمے کا فیصلہ کیا،چنانچہ حکومت پنجاب کی وزرات قانون و پارلیمانی اُمور نے فیصلہ کیا کہ قوانین کامعیاری، درست اور قابل فہم ترجمہ کروایا جائے۔ سیکرٹری قانون و پارلیمانی اُمور ڈاکٹرابو الحسن نجمی جیسے زیرک، مستعد اور محنتی شخص نے اس کام کو انجام دینے کے لیے گہری دلچسپی اور لگن کا اظہار کیا۔ ان کی ٹیم ایڈیشنل سیکرٹری فضل عباس رانا اور ڈپٹی سیکرٹری طارق علی نے تگ و دو اور کھری کاوشوں سے اس کا انتظام مکمل کیا اور پھر ایک ٹینڈر کے ذریعے اس کام کی تکمیل کے لیے میرٹ اور صرف میرٹ پر قرعہ فال یونیورسٹی آف گجرات کے نام نکلا۔ قوانین کے اُردو ترجمے کے لیے پہلے پندرہ ہزار صفحات پر کام کے آغازکے لیے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ اور شعبہئ قانون کے درمیان قومی تقاضے کے حامل معاہدے پر دستخطوں کی پُروقار تقریب دانش گاہ گجرات کے قائد اعظم آڈیٹوریم میں منعقدہوئی۔ تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم، سیکرٹری قانون پنجاب ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر محمد لطیف، اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بھگیو، سنیئر صحافی سجاد میر، حبیب اکرم اور ڈاکٹر اسلم ڈوگر، کمشنر انکم ٹیکس لاہور خالد محمود خاں، مشینی ترجمہ کے ماہر ڈاکٹر سرمد حسین، نامور سفارت کار و مترجم توحید احمد، مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر سعادت سعید،ڈائریکٹر لاء فیڈرل لاء منسٹری شیربابر خاں سمیت ادب، صحافت، سیاست اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شرکاء میں شامل تھیں۔ صدر مرکز السنہ و علوم ترجمہ جامعہ گجرات نے دھیمے مزاج سے پختہ عزم کا اظہار اور معاہدے کی تفصیلات جس طرح بیان کیں اس سے واضح تھا کہ ترجمے کا کام جذبے اور عشق کا کام ہے بلاشبہ محنت اور محبت کے امتزاج کی حامل ریاضت ہی ڈاکٹر غلام علی اور ان کے مترجمین کی ٹیم کا نمایاں وصف ہے۔ شیخ الجامعہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے برملا اعلان کیا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس عظیم قومی خدمت کی ادائیگی کے لیے قرعہئ فال جامعہ گجرات کے نام نکلا ہے۔ قوانین کے اُردو ترجمے کی ذمہ داری سونپے جانا حکومت پنجاب کی جانب سے اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ جامعہ اپنی قومی، سماجی اور علمی ذمہ داریوں سے پوری طرح آشنا ہے۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم نے مزید وضاحت کی کہ ہم جامعات کے سماجی کردار کے حوالے سے ایک واضح تصور رکھتے ہیں۔ جامعات ہی وہ ادارے ہیں جہاں قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرمحمد لطیف نے زور دیا کہ قوانین کو ہمیشہ عوام ہی کی زبان میں مدون ہونا چاہیے۔چیئرمین اکادمی ادبیات اسلام آباد ڈاکٹر قاسم بھگیونے فراخدلی سے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی حامی بھری۔دانشورصحافی سجاد میر نے کہا کہ اپنی زبان سے دوری دراصل حقائق پر پردہ ڈالنے کا نام ہے۔ ترجمہ عظمت و توقیر کا نام ہے۔ حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں اور قوانین کے قومی زبان میں معیاری تراجم وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ڈاکٹر سرمد حسین نے وضاحت کی کہ ترجمہ مشکل اور تخلیقی کام ہے قوانین کے اُردو ترجمہ کے سلسلے میں تقریباً دس لاکھ الفاظ کا ترجمہ کیا جائے گا اس کے لیے مشینی ترجمہ کی مدد ضروری ہے۔ 
ڈاکٹر سید ابو الحسن نجمی سیکرٹری لاء پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ قوانین کے اطلاق کے لیے عوامی شعور ضروری امر ہے او ر عوامی شعور اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب قوانین کی تدوین عوام الناس کی اپنی زبان میں ہو۔ قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ قوانین کے تراجم میں معیار اور ترجمہ کا یکساں ہونا ضروری ہے۔ قوانین کے ترجمہ کے سلسلہ میں یونیورسٹی آف گجرات کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء القیوم اورسربراہ مرکز السنہ و علوم ترجمہ ڈاکٹر غلام علی اور ان کی ٹیم کی نیک نیتی، حب الوطنی، قومی زبان سے محبت اور اس کارِ خیر کے لیے سنجیدہ کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ شعبہئ قانون پنجاب نے ترجمے کے لیے جامعہ گجرات کے جس مرکز  CeLTSکا انتخاب کیا اس کا خاص وصف یہی ہے کہ یہ پاکستان میں علوم ترجمہ کا پہلا مرکز ہے جہاں علوم ترجمہ کے حوالے سے بی ایس اور ایم فل سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سے قبل یہ کئی معیاری تراجم کر چکا ہے۔ اس مرکز سے بین الاقوامی معیار کا تحقیقی جریدہPJLTSشائع ہوتا ہے جو HECکا منظور شدہ ہے۔ اسی شعبے سے کثیر الکسانی مجلہ ”مترجم“ بھی شائع ہوتا ہے۔ ایسے ہی کئی کارنامے مختصر مدت میں اس مرکز کے ماتھے پر سجے ہیں۔ مختصر مگر کارکردگی سے بھری تاریخ کے حاملCeLTSجامعہ گجرات کو حکومت پنجاب نے کھلے مقابلے میں ترجمے کے لیے موزوں ترین ادارہ قرار دیا ہے۔ گوئٹے نے کہا تھا کہ جملہ اُمور عالم میں جو سرگرمیاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل اور قدروقیمت رکھتی ہیں، ان میں ترجمہ بھی شامل ہے۔تقریب کے آخر میں جامعہ گجرات اور حکومت پنجاب کے شعبہئ قانون و پارلیمانی اُمور کے درمیان معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر ضیاء القیوم اور سیکرٹری قانون ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی نے دستخط کیے، دستاویزات کا تبادلہ ہوا تو حاضرین کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا کسی کی زبان نہیں تھی۔ برصغیر میں آریاؤں نے قانون کو سنکرت کے حصار میں محدود کر دیا۔ انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ کے زیر سایہ ہماری مقامی اور قومی زبان کی تحقیر کا نیا دورشروع ہوا اور آج تک مسلط ہے۔ انگریزی زبان نے طبقاتی تفریق کی نئی خلیج پیدا کی۔ تا ہم آئین پاکستان جو ہمارے سیاسی اور تہذیبی شعور کا علمبردار ہے، اس کے آرٹیکل251اور آرٹیکل28میں محکمومانہ سوچ کو خیر باد کہہ دیا گیا۔ اس سلسلے میں اُردو کے قومی زبان کے طور پر نفاذ کے لیے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عدالت نے شعبہ ئ ترجمہ بھی قائم کیا ہے۔ مختصراً یہی کہ یہ ہماری پسند یا نا پسند کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ہماری تن آسانی کا بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اُردو کو بطور سرکاری زبان یقینی بنایا جائے اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی جائے۔ میری بلکہ پوری قوم کی دُعائیں یونیورسٹی آف گجرات کے ساتھ ہیں جس نے اس آئینی تقاضے کی تکمیل کے لیے قومی دانش گاہ کا فریضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شعبہ علوم ترجمہ اس قوم کے تہذیبی، سیاسی اور قانونی شعور کی نشاۃ ثانیہ کے لیے قابل فخر کام کر رہا ہے۔ قوانین کا اُردوترجمہ ہمارے آئین  اورپاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ قوانین کا اُردو ترجمہ عوام کی منشاء کا اظہار ہے۔ 

جمعرات، 21 اپریل، 2016

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست 


حضرت علامہ اقبال مقدر کے سکندر تھے۔ انہیں ہر طرح سے تاریخ میں اعلیٰ مقام حاصل ہوا۔ فکری و فنی پہلو میں ان کی مہارت نے اپنا لوہا منوایا تو نجی زندگی میں بھی وہ کم خوش قسمت نہ تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ فارسی کا عظیم شاعر فردوسی لاچارگی کی موت مرا، عطا ر جیسا عظیم فارسی شاعر معمولی سپاہی کی تلوار سے جاں بحق ہوا۔ جعفر زٹلی حق بات کہنے پر ہاتھی سے کچل دیا گیا۔ انشاء اللہ خاں جیسا شاندار شعر کہنے والا شاعر بھی شاہی عتاب کا نشانہ بنا۔ اس تناظر میں شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال خوش قسمت رہے۔ ان کی علالت میں علاج اور تیمار داری ایسی شاہانہ تھی کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اس کی آرزو کرتے ہیں۔
شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ محمد اقبال آغاز شباب کے سوا کسی دور میں بھی صحیح معنوں میں تندرست و توانا نہیں رہے۔ حالانکہ علامہ اقبال کے خاندانی ”جینز“بہت عمدہ تھے،ان کے خاندان کے اکثر افراد دراز عمر رہے۔ ان کے والد نے 93 سال، والدہ نے پچھتر سال،بھائی اور بہن نے اسی سال سے زائد جبکہ بیٹے جاوید اقبال نے بھی نوے سال سے زیادہ عمر پائی۔ تاہم حضرت علامہ اکسٹھ سال چند ماہ کی عمر میں ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اقبال کی کم عمری کی وجوہات میں ان کی کمزور طبیعت، تساہل پسندی، فشار اعصاب، تمباکو نوشی، بدپرہیزی اور کشتوں کا استعمال وغیرہ بیان کی جاتی ہیں۔ علامہ زندگی بھر مختلف بیماریوں کا شکار رہے۔ عوارض چشم، عوارض گردہ، نقرس، عوارض قلب، عوارض ریوہ، عوارض گوراشی، درد گلو، امراض دہان، ملیریا اور کم خوابی جیسی امراض کا ساتھ زندگی بھر رہا۔ علامہ اقبال نے اپنی بیماریوں کا تذکرہ خود بہت تفصیل سے کر رکھا ہے اور اپنی بیماریوں اور کیفیتوں کو خوب رقم کیا۔ ان کے مطبوعہ ساڑھے چودہ سو خطوط میں سے 251 خطوط میں ان کی بیماریوں کا ذکر ہے۔ علامہ کی آخری عمر کی کئی نظموں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ مسلسل بیماریوں کے حملوں کے باوجود علامہ اقبال وبائی امراض اور ان کے حملوں میں محفوظ رہے۔ 1918ء میں لاہور میں جان لیوا انفلوائنزا کی وبا میں لاکھوں شہری لقمہئ اجل بن گئے پھر طاعون کی وبا کے وقت بھی علامہ کا مدافعتی نظام کامیاب رہااور وہ محفوظ رہے۔ 
علامہ اقبال علالت و علاج کے معاملے میں بھی خوش قسمت رہے اور انہیں وقت کے لحاظ سے بہترین طبی امداد میسر رہی۔ تیس سے زیادہ حکیموں اور ڈاکٹروں کے نام ان کے معا لجین کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ ان معالجین میں مقامی اور غیر ملکی ماہرین جن میں برطانوی، جرمن اور فرانسیسی طبیب بھی شامل ہیں۔ حکیم عبدالوہاب انصاری المعروف حکیم نابینا دہلی، حکیم اجمل خاں، حکیم سید ضیاء الحسن بھوپال، حکیم سلطان محمود، حکیم محمد حسن قریشی، حکیم گورداس پور، حکیم سید زادہ، حکیم محمد افضل اور حکیم فقیر محمد کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبدالباسط انصاری، ڈاکٹر احمد بخش خاں بہادر، ڈاکٹر رحمان، ڈاکٹر بوس، ڈاکٹر حسن محمدحیات، ڈاکٹر مظفر علی، ڈاکٹر ڈک، ڈاکٹر یار محمد خاں، ڈاکٹر کرم، ڈاکٹر کرنل امر چند، ڈاکٹر کیپٹن الہٰی بخش، ڈاکٹر برج موہن ورما، ڈاکٹر عباس علی، ڈاکٹر ذیلنتر، ڈاکٹر محمد یوسف، ڈاکٹر متھرا داس، ڈاکٹر جمعیت سنگھ، ڈاکٹر عبدالقیوم کے نام نمایاں ہیں۔ ایام شباب سے ہی صحت کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہنے والے علامہ کو زندگی کے آخری سالوں میں جس جان لیوا بیماری نے ان کو مبتلائے اذیت رکھا، وہ 1934 میں کھانسی اور زکام سے شروع ہوئی۔ سید نذیر نیازی کے مشہور مضمون ”آخری علالت“ کے مطابق 1934 میں 10 جنوری عید الفطر کا دن تھا وہ حسب معمول نماز کے لیے شاہی مسجد گئے،اس روز تیز اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ علامہ عام لباس میں گئے تو وہاں مسجد کے کھلے صحن میں انہیں ٹھنڈ لگ گئی۔ واپس آگئے،سویاں کھائیں اور والد مرحوم کی تقلید میں دودھ کی بجائے دہی میں ملا کر کھائیں۔ حکیم فقیر محمد نے انہیں عرصہ سے دودھ اور ہر اس شے سے جو دودھ سے بنی ہو، سے پرہیز تجویز کر رکھا تھا یہ کھانے سے ان کا گلا بیٹھ گیا۔ علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہ ہوا۔ فروری میں ایکسرے ہوا تو پتہ چلا کہ قلب کے اوپر رسولی بن رہی ہے۔ ڈاکٹر نے ریڈی ایشن علاج تجویز کیا مگر علامہ متفق نہ تھے انہوں نے حکیم نابینا سے رابطہ کیا اور ان کے علاج سے بہتری آئی۔ معاملات معمولی تبدیلیوں کے ساتھ چلتے رہے 1938 کے فروری میں دمہ کا دورہ ہوا۔ 30 مارچ کو ضعف قلبی سے غشی طاری ہو گئی۔ اپریل میں چہرے، پاؤں پر ورم ہو گیا، درد پشت اور درد شانہ کے عوارض شروع ہو گئے۔ 19 اپریل سے بلغم میں کسی قدر خون آنے لگا۔ ڈاکٹر جمعیت سنگھ نے مایوسی ظاہر کی۔ ڈاکٹر امیر چند پہنچ گئے اور ڈاکٹر عبدالقیوم کو ہدایات دے کر چلے گئے، دوائی کھائی تو علامہ کا جی متلانے لگا، اس پر خمیرہ گاؤ زبان عنبری کی خوراک لی تو طبعیت بحال ہوئی۔ 20 اپریل کو طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو ڈاکٹروں نے Mersalyl کا ٹیکہ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹیکے سے پیشتر چونکہ ان دنوں ایمونیم کلورائیڈ دینا ضروری تھا تاکہ پیشاب کھل کر آجائے۔ ڈاکٹر عبدالقیوم نے دوائی تیار کی اور ذائقہ بدلنے کے لیے تھوڑا سا ”گلیسرینزا“ بھی ملا دیا۔ اس کے باوجود علامہ کو دوائی ناگوار لگی اور انہوں نے ناگواریت کا اظہار بھی کیا۔ صبح سے علامہ کی چارپائی جاوید منزل کے پورچ میں تھی رات ہوتے ہی خنکی ہونے لگی اور رات گئے علامہ نے چارپائی اندر لے جانے کا کہا۔علی بخش اور ڈاکٹر قیوم چارپائی ان کے کمرہ خاص میں لے گئے۔ چارپائی رکھ کر ڈاکٹر قیوم کمرے سے نکل کر باہر سستانے لگے۔ علامہ نے علی بخش کو کہا کہ میرے شانے دباؤ پھر بیٹھے بیٹھے پاؤں پھیلا لیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”یا اللہ، یہاں درد ہے اس کے ساتھ ہی سر پیچھے کی طرف گرنے لگا،علی بخش نے سہارا دیا تو علامہ نے قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کر لیں اور پیدا کرنے والے کے دربار میں سرخرو ہو گئے۔ 21 اپریل 1938 ء بمطابق 19 صفر بروز جمعرات صبح سوا پانچ بجے علامہ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ علی بخش نے گھبرا کر ڈاکٹر صاحب کو آواز دی۔ڈاکٹر عبدالقیوم دوڑتے ہوئے اندر پہنچے تو علامہ کی آنکھیں بند اور لبوں پر ہلکا سا تبسم سا تھا۔ اس وقت ہر طرف فجر کی اذانوں کی پر سطوت صدائیں گونج رہی تھیں پھر ڈاکٹر عبدالقیوم نے ہی ریڈیو والوں کو فون پر علامہ کے انتقال کی خبر دی۔ لوگ جوق در جوق جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اخباروں نے خصوصی ضمیمے شائع کیے، سکول، کالج، عدالتیں سب ادارے بند رہے عبدالمجید سالکؔ کے بقول ”جاوید منزل اس بیوہ کی طرح نظر آرہی تھی جس کا سہاگ اجڑ گیا ہو“۔ چوہدری محمد حسین نے، راجہ حسن اختر اور ڈاکٹر مظفر الدین قریشی کے ہمراہ اقبال کو شاہی مسجد کے کسی حجرے میں دفن کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے لیے سرکاری اجازت کی ضرورت تھی۔ پنجاب حکومت کے سربراہ سکندر حیات کلکتہ کے دورے پر تھے۔ میاں امیر الدین نے ٹیلی گراف کے ذریعے ان سے رابطہ کر کے اجازت طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور اسلامیہ کالج کے میدان میں تدفین کا کہا۔ لیکن علامہ کے دوست احباب ڈٹے رہے اور انہوں نے براہ راست صوبہ کے گورنر سر ہنری کریگ سے رابطہ کر کے دہلی سے اجازت منگوا لی اور مسجد شاہی کے بائیں جانب والے قطعہ زمین پر علامہ کی لحد کی تیاری شروع ہو گئی۔ علامہ کی رہائش گاہ پر عقید ت مندوں کی آمد پانچ بجے عصر تک جاری رہی پھر علامہ کا جنازہ جاوید منزل سے برآمد ہوا۔ جنازے کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تاکہ ہر شخص آسانی سے کندھا دے سکے، ہر مذہب، مسلک اور فکر کے لوگ ہجوم کی صو رت ساتھ ساتھ تھے۔ جنازہ قلعہ گوجر سنگھ اور خیابان فلیمنگ سے ہوتا ہوا، اسلامیہ کالج سے گذر کر قلعہ لاہور کے قریب پہنچا، پہلے حضوری باغ پھر شاہی مسجد کی سیڑھیوں کے قریب رکھ دیا گیا۔ 60 ہزار سے زیادہ کا ہجوم شام سات بجے شاہی مسجد کے صحن پہنچا اور وہاں جنازہ رکھ کر علامہ کے بڑے بھائی عطا محمد کا انتظار ہونے لگا جو سیالکوٹ سے نہیں پہنچ پائے تھے۔ ساڑھے آٹھ بجے مولانا غلام مرشد نے نماز جنازہ پڑھائی، اسی اثناء میں سیالکوٹ سے رشتہ دار پہنچ گئے۔ کہرام مچ گیا۔ عطا محمد روتے روتے مجمع کو ہٹاتے جاتے اور کہتے لوگو مجھے میرے بھائی کا چہرہ دیکھ لینے دو، اس نے کہا تھا اس کے چہرے پر مرنے کے بعد تبسم ہو گا ۔یقیناہو گا۔ علامہ نے خود کہا تھا کہ

نشان مرد مومن باتو گویم 
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست

(مرد مومن کی علامت سے کہتا ہوں کہ جب اس پر موت آئے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ رہتی ہے) 

حکیم الامت کے جسد خاکی کو سوا دس بجے رات سپرد خاک کر دیا گیا۔ چند مہینوں بعد مزار کمیٹی بنا دی گئی جس نے فیصلہ کیا کہ مزار کی تعمیر کے لیے چندہ نہیں لیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر خزانہ غلام محمد نے حکومت کی جانب سے مزار کی مدد کرنا چاہی تو کمیٹی نے قبول نہیں کیا۔ افغان حکومت نے اٹلی کے ماہرین فن سے مقبرہ کا نقشہ بنوا کر بھیجا، اسے بھی قبول نہیں کیا گیاکہ اس میں کیتھولک صنعتی فن تعمیر نظر آتا ہے اور آخر میں عالمی شہرت یافتہ ماہر فن تعمیر نواب زین یار بہادر جنگ سے نقشہ بنوایا گیا اور پھر پرشکوہ مقبرہ تعمیر ہوا۔ علامہ اقبال کا مقبرہ لاہور کی سرزمین پر صدیوں ”سجدہ گاہ صاحب نظراں“ رہے گا اقبال نے کہا تھا کہ  
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری  

بدھ، 20 اپریل، 2016

پاکستان بھی تو لفظ ہے


کتاب مقدس میں ہے کہ اندھیرا ہی اندھیرا تھا، پانی ہی پانی تھا اور صرف خدا کا وجود تھا پھر اس نے چاہا کہ وہ جانا جائے اور ایک لفظ تخلیق ہوا   ”کن“ اور پھر کروڑوں سال سے دنیا میں لفظ”کن“ کا ہی جمال ہے۔ کائنات میں تخلیق کا پہلا اظہار، تخلیق اور قوت گویائی کی پہلی دلیل لفظ بنا، لفظ تخلیق کا بنیادی جزو اور کائنات اصلاً لفظ کے حُسن کاا ظہار ہے۔ لفظ اپنی معنویت میں تخلیق کی ماں ہے۔ کسی دانشور نے خوب کہا ہے کہ ہم لفظ کی صورت حال میں زندہ رہتے ہیں اور لفظ ہی ہمارا گردوپیش اور ہمارا سیاق و سباق متعین کرتے ہیں۔ لفظ تلفظ کے عمل سے لیکر معنی کے ابلاغ تک ایک ایسی کنجی کا نام ہے جو اسرار کے ہر زاویے تک رسائی کا ناگزیر اور لازمی ذریعہ ہے۔ لفظ اسم ہے، اسم پہچان۔لفظ فعل ہے، فعل کارکردگی۔ لفظ حرف ہے، حرف حقیقت۔ تمام انسانی خیالات، تصورات، تفکرات، تواہمات، نظریات، فلسفے اور مذاہب لفظوں کے استعمال سے ہی تشکیل پاتے ہیں۔ لمحہئ تنزیل میں اترا ہوا پیغام بھی لفظ ہے اور شاعر کے شعور پر ہویدا ہونے والا خیال بھی لفظ کے لباس میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ لفظ بیاں بھی ہے اور طلسم بھی، لفظ اظہار بھی ہے اور اخفاء بھی۔ لفظ بے نقاب بھی کرتا ہے اور ڈھانپ بھی لیتا ہے۔ لفظ کی اسی ہمہ گیریت اور ہمہ جہتی نے یونیورسٹی آف گجرات کی ڈیبیٹنگ سوسائٹی کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا کہ اس نے گیارہ اور بارہ اپریل کو منعقد ہونے کل پاکستان مباحثے کو لفظ 2016کے خیال سے باندھ دیا۔آل پاکستان بین الجامعاتی تقریری مقابلے یونیورسٹی آف گجرات کی قابلِ تحسین روایت ہے اس سال چوتھے کل پاکستان مقابلوں کو بھی ”لفظ“ ہی کے نام سے موسوم کیا گیا،  لفظ انسانی زندگی کو معنی دیتے ہیں تو مکالمہ ان لفظوں کی ترتیب سے نئے افکار کی پرورش کرتا ہے۔ مباحثے اور مکالمے سے نئی بحثیں جنم لیتی ہیں، مختلف خیالات ٹکراتے ہیں اور پھر یہ جدلیات کسی نئے امتزاج میں ڈھل کر تہذیبی اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔

کسی قومی دانشگاہ کا فریضہ بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کو جانے والوں کی تہذیب سے متعارف کروائے اور نئی تہذیب کے وارثوں کے ہاتھ میں نئے سوال تھما دے جن کی روشنی میں وہ زندگی کی ترقی کا سفر طے کریں۔ جامعہ گجرات کی وژنری قیادت اجتماعی شعور کی نمائندہ ہے اسی لئے اس درسگاہ کی فضا شیخ الجامعہ کی فکری ضیاء سے منور ہے اس روشنی نے چار سو لفظ اور خیال کا سویرا قائم کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم کی حب الوطنی نے ان روایتی تقریری مقابلوں کو قومی یکجہتی اور ملی آگہی کا ضامن بنا دیا۔ کل پاکستان مباحثے میں پاکستان کی تمام اکائیوں کی بھرپور نمائندگی تھی۔ ملک بھر سے چالیس ممتاز جامعات کی ٹیموں نے بھرپور شرکت کی۔ پہلی شب کو پاکستانیت کے عنوان سے ثقافتی رنگ میں رنگ دیا گیا اور گجرات یونیورسٹی کو سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، پنجاب، گلگت  بلتستان اور کشمیر کے ثقافتی رنگوں سے سجا کر پاکستانیت کا علمبردار بنا دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈی سی او گجرات لیاقت علی چٹھہ مہمان خصوصی تھے، جامعہ گجرات کی نمائندگی رجسٹرار ڈاکٹر طاہر عقیل نے کی۔ سٹوڈنٹس سروسز سنٹر کے ڈائریکٹر محمو یعقوب اور اپنی ذات میں پوری انجمن کا کردا ادا کرنے والے محمدحیدر معراج نے حسن انتظام اور والہانہ استقبال کی درخشندہ روایت کو رواج دیا۔ڈبیٹنگ سوسائٹی کے کوارڈینیٹر رانا احمد شہید اور صدر سوسائٹی آصفہ فرحت نے میزبانی کے تقاضے بھرپور انداز سے نبھائے، نظامت کے فرائض خوش گفتارعروشہ اعوان اور نورالہدیٰ نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔ مقابلوں کے بنیادی تھیم ”لفظ 2016“ کے تعارف کی ذمہ داری راقم الحروف کو سونپی گئی تو میں نے مختصراً عرض کیا کہ لفظ ہر وہ چیز ہے جسے تلفظ کیا جاسکے۔ نحویوں کے نزدیک لفظ وہ ہے جسے اسم اور حرف میں تقسیم کیا جا سکے، حرفیوں کے ہاں لفظ وہ ہے جو پہلو بدلے تو معنی بدل جاتے ہیں، فلسفیوں کے نزدیک لفظ خیال کا جسم و پیکر ہے اور صوفیوں کے نزدیک لفظ اشارہ ہے جو ماورائے حقیقت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ محی الدین ابن عربی نے کہا تھا کہ ”تمہارے نام تمہاری تربیت کرتے ہیں، اس طرح لفظ ہی ہماری شناخت کی تقسیم کرتے ہیں۔ افکار کی جنگ ہو یا اقوام کی جنگ لفظ ہی حتمی طور پر مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ ہیرلڈ پنٹر کے ایک کردار کے بقول”لفظ جس کی گرفت میں آجائیں وقت کی لگامیں اس کے ہاتھوں میں آجاتی ہیں“۔جامعہ گجرات کے چوتھے کل پاکستان مباحثے کا آغاز ہونے جا رہا ہے لفظوں کی جنگ شروع ہونے والی ہے میں تمام ٹیموں اور ان کے سپہ سالاروں کے سامنے سقراط کی آخری بات رکھنا چاہتا ہوں۔ زہر کا پیالہ پی لینے کے بعد اپنے شاگرد کو آخری نصیحت کرتے ہوئے سقراط نے کہا تھا کہ کریٹو! یاد رکھو لفظوں کا غلط استعمال دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے۔امید ہے  لفظو ں کے سوداگر آنے والے مقابلوں میں لفظ کی حرمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اس کے بعد رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا۔ شینا ڈانس، پختون اور بلوچ روایتی رقص اور بلوچ و پنجابی لوک داستانوں نے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ بانسری نے سماں باندھا تو زوہیب خاور اور نثار احمد کی مدھر آوازوں نے دلوں کے راگ چھیڑے، طبلے پر فنکارانہ کمال نے محفل کو دو آتشہ کر دیا۔ڈی سی او گجرات لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ تقریر دلیل کے ذریعے سامع کو قائل کرنے کا فن ہے۔ مقرر لفظ کی حرمت کا پاسباں ہوتا ہے۔ انہوں نے ملک بھر سے آئے ہوئے طالبعلموں اور اساتذہ کا گجرات کی سول سوسائٹی کی جانب سے خیر مقدم کیا۔ نامور مقرر اور ماہر امور طلبہ محمد حیدر معراج نے کہا کہ تقریر محنت اور منطق کا حسین امتزاج ہوتی ہے انسانی تہذیب میں فن تقریری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ فن تقریر قوموں اور قومیتوں کے درمیان امن اور یکجہتی کا فریضہ سر انجام دینے میں معاون ہوتا ہے۔

رجسٹرار ڈاکٹر طاہر عقیل نے کہا کہ لفظوں کی ہم آہنگی ہماری متوازن سوچ کی کی غماز ہوتی ہے۔ جامعہ گجرات میں صحت مند ہم نصابی سر گرمیاں تربیت کا اہم وسیلہ ہیں۔ ڈائریکٹر محمد یعقوب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ دو روزہ اردو اور انگریزی تقریری مقابلوں میں شعبہ انگریزی کی اسسٹنٹ پروفیسر محترمہ صائمہ انور، عبدالواحد، صافیہ ضیاء، کامران احمد، ہمراز شیروانی اور حیدر معراج نے منصفین کے فرائض سر انجام دیے۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ٹیم ٹرافی کی حقدار ٹھہری۔ انفرادی طور پر انگریزی مقابلوں میں UETٹیکسلا کی فاطمہ اول، رابعہ رحمان دوم اور پنجاب یونیورسٹی کے حماس سوم قرار پائے جبکہ اردو مقابلوں میں جی سی یو لاہور کے کفیل رانا پہلے، یو ای ٹی ٹکسلا کے محمد عامر دوسرے اور FASTفیصل آباد کیمپس کے حسان الرشید تیسرے نمبر پر رہے۔ حذیفہ کو انفرادی جبکہ کیڈٹ کالج پشین کی ٹیم کو حوصلہ افزائی کا انعام دیا گیا۔تقسیم انعامات کی تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر جامعہ گجرات ڈاکٹر ضیاء القیوم تھے، انہوں نے فاتح ٹیم کو ٹرافی اور انعامات کے حقدار ٹھہرنے والوں میں نقد انعامات اور ٹرافیاں اپنے دست مبارک سے تقسیم کیں۔سر پرست ڈیبٹنگ سوسائٹی ڈاکٹر طاہر عقیل نے قومی یکجہتی و قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے طالبعلموں کو بہترین سفیر قرار دیا۔ڈاکٹر ضیا القیوم نے کہا کہ مکالمہ و مباحثہ سماجی رواداری اور فکری روشن خیالی کا ضامن سمجھاجاتا ہے جامعہ گجرات طالبعلموں فکری راہنمائی اور تربیت و کردار سازی کو اولین ترجیح گردانتی ہے۔ تمام صوبوں کے نمائندگان کی موجودگی سے ان مقابلوں کو معیار اور وقار ملا ہے۔منتظمین کو اس ثمر آور مقابلے کے اہتمام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
 لفظ جو ایک علامت ہے کبھی کانوں میں رس گھولتا نغمہ، کبھی دلوں کو چھو لینے والی میٹھی بات۔ کبھی رگ وپے میں تلخی بکھیرنے والا نشتر، تو کبھی زخم مند مل کر دینے والا مرہم۔ان مقابلوں میں لفظ کے بہت سے پہلو کھل کر سامنے آئے۔ طالبعلموں کی گفتار اور فکری معیارواضح کر رہا تھا کہ کائنات رنگ و بو میں ہر رنگ لفظ سے شناخت پاتا ہے اور ہر خوشبو لفظ کے دامن سے لپٹی چلی آتی ہے۔ ایسے ہی جیسے اس عظیم دھرتی ماں کے سارے رنگ، ساری خوشبوئیں جامعہ گجرات میں لفظ کی شمع جلا کر پتنگوں کے رقص کا عکس پیش کر رہی تھیں۔ قومی تقاضو ں سے ہم آہنگ قومی یکجہتی کے عکاس ان دو روزہ کل پاکستان تقریری مقابلوں میں اس اعلان پر سب کا اتفاق تھا کہ پاکستان بھی تو لفظ ہے۔اس کی معنویت اور حرمت پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

منگل، 20 اکتوبر، 2015

نظام عدل و مساوات ہے نظام حسین ؓ


نظام عدل و مساوات ہے نظام حسین ؓ


مجھ سے کہتی ہیں ستاروں کی ضیائیں ساغر
ایک بار اور زمانے میں حسین آئے گا 
پھر کہیں وقت کے زنداںکا فسوں ٹوٹے گا 
تب کہیں گردش ایام کو چین آئے گا 

محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی ملت اسلامیہ کا غم تازہ ہو جاتا ہے۔ہر وہ شخص جسے نبی رحمت سے محبت اور اہل بیت سے تعلق ہے، ممکن نہیںکہ کربلا کی صبح قیامت اور عاشورہ کی بھیانک رات کی یاد اسے نہ تڑپائے۔ کوئی دل ایسا نہیں جو نواسہ رسول پر نہ دُکھے، کوئی آنکھ اس پر آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتی، کوئی باشعور اظہار غم کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ماہ محرم ہر سال کربلا کے غموں کی یاد ساتھ لے کر آتا ہے اس لیے گریہ و زاری، نالہ و ماتم فطری سچائی ہے۔ بلا شبہ امام عالی مقام اور ان کی عظیم قربانی کی یاد میں مجالس اور محافل کا اہتمام کرنا کار خیر ہے کیونکہ ان محفلوں کے ذریعے شہدائے کربلا کے فلسفہ ¿ حیات و شہادت کی یاد دہانی کرانا مقصود ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی امنگ کو پیدا کرنا ہے ۔ 
تیرے لہو کی ہر اک بوند کہہ رہی ہے 
کہ تیرا خون کبھی رائیگاں نہ جائے گا 
جلائیں عزم و یقیں کی جو مشعلیں تو نے 
انہیں یزید کوئی بھی بجھا نہ پائے گا
حضرت امام حسینؓ کی اپنی زندگی عزم و استقلال، صبر و ثبات اور خیر وبرکت کا ایسا نمونہ تھی کہ وہ زندگی کے جس جس راستے سے گذرے اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے روشنی کی کہکشاں چھوڑ گئے ،پھر ان کی شہادت تو خود اسلام کی حیات ثانیہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ حضرت امام حسین ؓ نے جس مقصد کے لیے اور جس آن کے ساتھ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی اس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ اسی لیے شہدائے کربلا کا تذکرہ ہمیشہ خون میں ڈوبے ہوئے الفاظ اور نمناک آنکھوں سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ نالہ و ماتم اور آہ و بکا کس لیے ....؟ کیا امام عالی مقام نے ساتھیوں سمیت جانِ عزیز کی قربانی دے کر یہی سبق دیا تھا کہ ہم ہر سال چند روز سوگ منا کر ، اہلِ بیت رسول کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کریں یا پھر کربلا متقاضی ہے کہ مسلمانان عالم شہدائے کربلا کے نقش قدم پر چل کر حق کے لیے سینہ سپر رہیں اور باطل کو قدم نہ جمانے دیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ واقعہ کربلا پر اظہارِ غم فطری ہے لیکن یہ اظہار عقیدت محض ذاتی اور شخصی نوعیت کا ہے تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں بلکہ کربلا کی تاریخ حق کی علمبرداری کے دعوے داروں سے کچھ اور تقاضا کر رہی ہے ۔ سیدنا امام حسین ؓ عظیم انسانی اقدار اور دینی قوت کے تحفظ کے لیے میدان کربلا میں جلوہ افروز ہوئے اور اپنی ، اپنی اولاد اور ساتھیوں کی جانیں قربان کر کے حق کی اس جدوجہد کو جاوداں بنا گئے ۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت کوئی شخصی واقعہ نہیں بلکہ شہادت حسینؓ اسلام کی اصل حقیقت ہے ۔ 
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم 
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیل
واقعہ کربلا کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ، میرے خیال میں حضرت امام حسین ؓ کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے، وہ کیا تھے؟ کیوں لڑے اور کیوں شہید ہوئے ؟ میرا خیال ہے کہ حسین شعور و آگہی کا نقش جادواں ہے ، حسین ؓ حقیقتوں کا ایسا سیل بے کراں ہے جو مصلحتوں کے سارے خار و خس بہا کے لیے گیا ، حسین ؓ اصولوں کا نام ہے ، انصاف کا نام ہے ، ظالم کے خلاف جہاد او رمظلوم کی قربانی کا نام ہے ۔ اسوہ ¿ حسین ؓ ہمیں سچائی اور نیکی کی منزل کا پتہ دیتا ہے اور دنیاوی مصلحتوں اور جاہ و حشم کی خاطر اصولوں سے روگردانی سے باز رکھتا ہے ۔ محرم کا مہینہ ہمیں خود احتسابی کی دعوت دینے آتا ہے کہ کیا ہم نے شہادت امام عالی مقام سے استفادہ کیا ہے ، کیا ہم نے حق و صداقت اور عدل و انصاف کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنایا ہے، قومی اور اجتماعی زندگی میں ہم کہاں تک ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہیں؟ اگر ہم اسوہ ¿ حسینی پر عمل پیرا ہوتے تو کیا سماجی انصاف سے محروم ہوتے، سیاسی طور پر یتیم، معاشی طو ر پر محروم اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتے ؟ اگر ہماری تاریخ میں کربلا کا واقعہ حقیقی معنوں میں ’زندہ‘ ہوتا تو کیا آج ہمارے ہاں، جبر و ستم کا رواج ہوتا ،یا قبضہ مافیا کا راج ہوتا ، مظلوم انصاف سے محروم اور ظالم مقتدر ہوتے ؟ اگر حضرت امام حسین ؓکی سچ کے لیے شہادت کا پیغام ہم میں رائج ہوتا تو کیاہماری حیات مصلحتوں سے آلودہ ہوتی۔ امام عالی مقام کی شہادت کا چراغ صراط مستقیم کی مانند ہمارے لیے روشن ہے مگر ہم تو راہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں ۔ہم نے دین اور روح دین کو بھی رسوم اور روایات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔ شخصیت پرستی کا رواج عام ہو جائے تو درس کربلا کسے یاد رہ سکتا ہے ۔ سید الشہداءنے کوفہ جاتے ہوئے راستے میں ”بیضہ“ کے مقام پر جو خطبہ دیا اس میں یہ بھی فرمایا کہ ”....میں حق بجانب ہوں کہ مجھے غیرت آئے۔ اور میں ان کی سرکشی اور بغاوت کو حق و عدل سے بدلنے کی کوشش کروں۔ وقت آگیا ہے کہ مومن حق کی راہ میں جان قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ میں شہادت کی موت چاہتا ہوں، ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا خود بہت بڑا جرم ہے ۔ میری ذات تم لوگوں کے لیے نمونہ ہے “ اس خطبے کی گونج آج بھی موجود ہے اور ہمیں غیرت دلا رہی ہے اور ان مراحل سے گذرنے کی دعوت بھی دے رہی ہے جن سے شہدائے کربلا گذرے۔ کربلا میں جب چراغ گل کر کے جانے کی اجازت دی گئی تو بنو عقیل، مسلم بن عوسجہ، سعد بن عبداللہ حنفی، زہیر بن قیس و دیگر اٹھے اور مشن حسینؓ کا ساتھ دینے کا برملا اور جرا ¿تمندانہ اعلان کیا۔ آج بھی پیغام حسین گونج رہا ہے مگر عقیدت و محبت کے شور میں کوئی اس پیغام کربلا پر کان دھرنے کی جرات نہیں کر رہا۔ آج وطن عزیز اور ملت اسلامیہ کی حالت زار کے تناظر میں محرم کے قیامت خیز شب و روز ہم سے انہی جذبات، عزائم اور فدا کاری و جاں نثاری کا تقاضا کر رہے ہیں ۔ روح عصر مطالبہ کر رہی ہے کہ ہم حسینی مشن کی تکمیل کے لیے کربلا کے سبق کو یاد کریں ، دہرائیں اور اس پر عمل پیرا ہوں ہمیں یہ یاد بھی رکھنا ہے اور اس پر تدبر بھی کرنا ہے کہ محض نالہ و فغاں اور اظہارِ غم فدا کاری اور جاں نثاری کا بدل نہیں ہو سکتے۔ محبت حسین ؓ شعور حسینی کو عام کرنے کا تقاضا کر رہی ہے ۔ حضرت امام حسین ؓ سے عقیدت و محبت کا حق وہی لوگ ادا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیںجو سرفروشی اور جاں نثاری کے جذبات سے سرشار ہو کر اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کو ہی اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ 
گماں تک نہ دلائے جو رخ بدلنے کا 
حسین ؓ نام ہے اس آرزو میں ڈھلنے کا 
کربلا میں شہداءنے انسانیت، حریت ، آزادی اور ضمیر کی قوت کو نئے معنی بخشے۔ جب تک انسانیت سسکتی رہے گی، مظلوم انصاف سے محروم رہیں گے ، ضمیر آزاد نہیں ہوں گے ، حقیقی معنوں میں حریت کا چراغ روشن نہیں ہو گا ، تب تک کربلا کا مشن جاری رہے گا اور ہمیں مشن حسینی میں اپنا حصہ ڈالنے کی دعوت دیتا رہے گا ۔ کربلا میں حق و باطل کے دو نظریوں کا ٹکراﺅ ہوا تھا۔ کربلا عظمت انسانی اور ظلم کے درمیاں نمایاں لکیر کا نام ہے ۔ کربلا کی داستاں ہمیں درس دے رہی ہے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ آئیے اسوہ حسینی کو مشعل راہ بنا کر انسانیت کی جنگ میں وقت کے یزیدوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں، عدل و انصاف ہی عظمت انسانی کی کلید ہے ۔ 
جیو خدا کے لیے اور مرو خدا کے لیے 
حسین والو سنو ہے یہی پیام حسینؓ 
یہی ہے دےن محمد، یہی صراط ہدیٰ
نظام عدل و مساوات ہے نظام حسینؓ 

جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

سرسید احمد خاں:فہم نو کی ضرورت ہے


انیسویں صدی کے وسط میں ہماری قومی زندگی فشار اور بحران کے سنگم پر کھڑی تھی۔ راستے گم تھے اورر اہ نما مفقود! ان نازک حالات میں جس شخص نے اعتماد اور حوصلے کے چراغ جلائے، علی گڑھ جیسی اہم تحریک کی داغ بیل ڈالی اور پھر اس کی قیادت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ اسے ہم سر سید احمد خاں کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ سر سید نے قومی زوال سے متاثر ہو کر قومی تعمیر کے لیے کمر باندھی تو زندگی کے بے شمار پہلو انہیں داغ داغ نظر آئے ۔ تہذیب و تمدن ، مذہب و معاشرت، سیاست و معیشت ، علم و ادب ، زبان اور تعلیم غرض کوئی پہلو ایسا نہ تھا جو اصلاح طلب نہ ہو ۔ ان میں سے ہر پہلو سر سید کی توجہ کا مرکز بنا اور انہوں نے ہر ایک پہلو میں زندگی کی نئی روح پھونکنے کی کوشش کی ۔ 
مولانا حالی اور سر سیدکے دوسرے معاصرین نے ان کے کام کو1857ءکے ہنگامہ رستا خیز اور برطانوی اقتدار کے قیام اور اس سے پیدا شدہ حالات کی روشنی میں ہی دیکھا ہے مگر آج ان کی وفات کے ایک سو تیرہ سال بعد بھی ان کے کام کو1857ءکے پس منظر میں دیکھنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے حالانکہ سرسید دور جدید کے پہلے مسلمان تھے جس نے آنے والے زمانے کے ایجابی مزاج کا عکس اپنے آئینہ ادراک میں دیکھ لیا تھا اور اپنی ساری جدو جہد کا رُخ ہندوستان کی فلاح و بہبود، اسلام کی نئی تفسیر و تعبیر اور ایشیاءکے نفس ہائے رمیدہ کی باز یافت کی طرف موڑ دیا تھا۔ سر ہملٹن گب نے سر سید کی قائم کردہ درسگاہ کوFirst modernist organization of Indiaقرار دیا تھا۔ 
سر سید نے اپنی تحریک کے ذریعے بے زاری، مایوسی ، غلامی اور تقلید کی ز نجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی بشارت دی۔ ان کی آنکھوںمیں اعتماد اور حوصلے کی چمک پیدا کی ۔ سر سید کا خیال تھا کہ جب تک ہم اندھی تقلید کی زنجیروں کو نہ توڑیں گے اصلاح کا کوئی کام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو گا ۔ اسی خیال کے پیش نظر زندگی اورادب میں عقلیت اور افادیت کا تصور پروان چڑھا۔ زندگی سے متعلق مسائل کو عقل کی روشنی میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش شروع ہوئی ۔ اسی طرز فکر کے باعث ان پر کفر کے فتوے لگے لیکن ان کے کفر نے ایمان کے لیے نئے راستے کھول دیئے ۔ ہمارے معاشرے میں میں عمل اور حرکت کی ایک موج پیدا ہوئی۔ مشرق و مغرب کے امتزاج سے ایک نیا معاشرہ ابھرنے لگا۔ جدید اور قدیم کے مابین سر سید تحریک نے ایک پل کا کام کیا ۔ یہ بھی یاد رہے کہ تقلید سے پرہیز اور روایت شکنی پر زور دینے کے ساتھ انہیں اپنی اچھی روایات، عقاید اور تہذیبی ورثہ سے بھی دلی تعلق تھا۔ سرسید اور ان کے رفقاءکی جدوجہد کی تہہ میں فکر و نظر کے ساتھ گہرا انسانی ، علمی اور تاریخی شعور بھی کارفرما تھا جو اپنے مفید اور کار آمد ورثہ کو برقرار رکھتے ہوئے ، دوسروں سے اچھی اور مفید اقدار کو قبول کرنے پر اصرار کرتا تھا اور اسی تصور پر زندگی کی صحت مند تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ 
آج وطن عزیز جن سماجی و فکری مسائل کا شکار ہے اس کے تدارک کے لیے بھی ہمیں ایسی ہی ہمہ جہت ، روشن خیال اور منطقی تحریک کی ضرورت ہے ۔ آج سر سید ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم نے اپنی ذات سے بلند ہو کر اخلاص اور محبت سے اپنی تہذیب کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کی ؟ اور کیا ہم نے ان کی طرح فراخدلی اور رواداری کے ساتھ ، جذباتیت سے بلند ہو کر اپنی زندگی کے راستے متعین کیے ہیں ؟ اور کیا ہم نے اس تہذیبی بحران پر جس سے آج ہم دوچار ہیں اس طرح حاوی ہونے کی کوشش کی جس کی مثال ہمیں سر سید کے عمل میں ملتی ہے ؟ 
سر سید کے سماجی اور تہذیبی تصورات اگرچہ ہمارے معاشرے میں غیر محسوس طور پر نفاد کر گئے تھے لیکن ان کا شعوری اور تفصیلی جائزہ بھی ابھی نہیںلیا گیا ؟ تعلیم کے بارے میں ان کے تصورات کی افادیت آج بھی موجود ہے مگر ان کو باضابطہ مطالعہ کے بعد مرتب شکل دینے کی آج بھی اشد ضرورت ہے ۔ 
علامہ اقبال نے بہت پہلے کہا تھا کہ ”مسلمانان ایشیا اب تک سرسید احمد خاں کی ذہنی کاوش کو سمجھنے کے قابل نہ ہو سکے“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اس حقیقت کا انکشاف مجھ پر ہوا کہ سرسید کی نگاہ ایسے وسیع و عریض اُمور پر جمی ہوئی تھی جن کا تعلق مسلمانان ایشیاءکے مذہب اور سیاست سے تھا۔ پس مسلم ایشیاءنے اب تک ان کی شخصیت کی حقیقی عظمت کا اندازہ نہیں کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی سرسید احمد خاں کی شخصیت کو عالم اسلام کے وسیع فکری پس منظر میں دیکھا اور ”وکیل “ کے ایک ادارےے میں لکھا تھا کہ ”جو آواز آج سے تیس چالیس برس پیشتر اس اسلامی دور کے آخری مجدد کی زبانی سرزمین ہند سے بلند ہوئی تھی آج مصر، استنبول اور خود ہندوستان کے ہر روشن خیال اور تعلیمافتہ شخص کی زبان پر ہے ۔ مولانا ابوالکلام نے علی گڑھ کے ایک کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ہندو اور مسلمانوں نے سر سید کی رائے کی روح کو سمجھا ہوتا اور اس کی پیروی کی ہوتی تو آج ملک کی تاریخ کا دوسرا رُخ ہوتا۔ بلاشبہ سرسید کے کارنامے ترکی کے مدحت پاشااور فواد پاشا، ایران کے حجةالاسلام شیخ ہادی نجم آبادی، مصر کے مصطفےٰ کامل، تیونس کے خیر الدین پاشا، الجیریا کے امیر عبدالقادر، طرابلس کے امام محمد سنوسی، افغانستان کے سید جمال الدین افغانی اور روس کے مفتی عالم جان کے کارناموں کے ساتھ مطالعہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 
اگر اقبال، گب اور آزاد کے دئےے ہوئے معیار اور سرسید کی جدوجہد و مساعی کے جملہ پہلو ہمارے پیش نظر رہتے تو سرسید کی حیرت انگیز ہمہ گیری اور اس کے دوررس اثرات کا عظیم الشان میدان نظروں کے سامنے آجاتا لیکن ہم نے ہمیشہ محدود دائروں میں سرسید کی عظمت کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور بقول اقبال 
اس مردخدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو 
تو بندہ آفاق ہے، وہ صاحب آفاق
حقیقت یہ ہے کہ سر سید کی فکر اور ان کی جدو جہد وسعی کی نوعیت کو سمجھنے کے لےے پاک و ہند، عالم اسلام اور ایشیا تینوں کے پس منظر سامنے ہونے چائییں۔ آج پاکستانی معاشرہ جس عدم برداشت، قنوطیت، فتویٰ بازی اور تاریخی نرگیست کا شکارہے اس کا ایک علاج سر سید احمد خاں جیسے مصلح و مدبرراہنما کی حقیقت پسندانہ روشن خیالی کا فروغ بھی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سرسید کے افکار و خدمات کی فہم نو حاصل کرکے آنے والے دنوں کو ان کی لو سے منور کریں تاکہ معاشرے سے جہالت، مایوسی اور فکری پسماندگی کا خاتمہ ہو، ہمیں ایک اور سر سید کی ضرورت ہے۔