‏شیخ عبدالرشید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏شیخ عبدالرشید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 17 اپریل، 2017

ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کاکردار

ترجمہ کاری انسانی مزاج، تاریخ اور تمدن کی دریافت اور شناخت کا اہم ذریعہ ہے۔ انسان رنگ و نسل،لسانی و جغرافیائی بندشوں اور سیاسی و سماجی تفرقات کی وجہ سے انسان ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہے، وہ ترجمہ کاری کے ذریعے ایک زبان کو اپنی زبان کے حروف تہجی میں ڈھالنے سے انسانی سطح پر ایک دوسرے سے تعارف و آگاہی حاصل کرتا ہے۔خود کو ذہنی و جذباتی سطح پرباخبر رکھنے اور دوسروں کے مسائل و وسائل اور خوشی و غم کو جاننے اور ان میں شریک ہونے کے لیے ترجمہ ہی ایک ایسا وسیلہ ہے جو خبر کا ذریعہ بنتا ہے۔ ترجمہ کاری درحقیقت انسانوں میں اشترا ک کا قرینہ پید اکرنے کا فن ہے۔ زبان کے فروغ، تمدن سے آشنائی، کائنات کی دریافت و بازیافت اور تاریخ کے وقوف کے لیے ایک سے زیادہ زبانوں سے رابطہ پید ا کرنا لازمی ہے۔ اسی تناظر میں آج عالمگیریت کے عہد شباب میں ترجمہ کاری کو علم کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ آج کی علمی معیشت کے دور میں بھی علوم کی وسعت اور فروغ میں ترجمہ کاری کا کردار نمایاں ترین ہے۔ جدید دنیا کے عالمی انکشافات، سائنسی تحقیقات اور ادبی سرگرمیاں ترجمے کے وسیلے سے اگلے ہی لمحے ساری دنیا تک پہنچ رہے ہیں۔ ترجمہ کاری وہ فن ہے جو زبانوں، تہذیوں، تاریخوں اور اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

نت نئے علوم کے اس عہد میں تراجم کی افادیت و اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ روح عصر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگی رکھنے والی پاکستان کی جدید جامعہ ”یونیورسٹی آف گجرات“ میں ایک عشرہ قبل ہی ”مرکز السنہ و علوم ترجمہ“ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس مرکز کو رئیس الجامعہ ڈاکٹر ضیاء القیوم کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے، وہ خود کمپیوٹر سائنس کے استاد اور ”مشین ٹرانسلیشن“ میں تخصیصی مہارت کے حامل ہیں ان کی راہنمائی میں اس مرکز کے علم دوست سربراہ ڈاکٹر غلام علی نے شب و روزکی جہد ِمسلسل اور اصحابِ لگن پر مشتمل ٹیم کے تعاون سے اس مرکز علوم ترجمہ کو حقیقی معنوں میں مرکز ِفضیلت بنا دیا ہے۔ پاکستان بھر میں اس مرکز کی کارکردگی کو خوب سراہا جاتا ہے۔ اس مرکز کے زیر انتظام”دارالترجمہ“ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ جس میں علمی و ادبی تراجم کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب کے قوانین کے اردو تراجم کا قومی فریضہ بھی کامل تندہی سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اس مرکز السنہ و علوم ترجمہ کا ایک قابل ذکر و تحسین کام علوم ترجمہ اور ترجمہ کاری کے فہم و ادراک کے لیے بیداری مہم کا آغاز اور اس کے لیے سیمینار،سپموزیم، کانفرنسوں اور مکالماتی نشستوں کا مسلسل اہتمام کرنا ہے اور ترجمہ کاری کوقومی بیانیے کی تشکیل میں معاون بنانے کے لیے مباحث ومکالمے کو فروغ دینا ہے۔ اسی حوالے سے13اپریل بروز جمعرات جامعہ گجرات کی مرکزی قائد اعظم لائبریری کے نمائش ہال میں ”ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کا کردار“کے موضوع پر خصوصی فکری نشست کا انعقاد ممکن بنایا گیا۔ یونیورسٹی آف گجرات کے رجسٹرار ڈاکٹر طاہرعقیل نے صدارت کی جبکہ ممتازدانشورتجزیہ کاراورصاحب اسلوب کالم نگاروسعت اللہ خاں مہمان خصوصی تھے۔ محفل کا آغازعطاء اللہ کی تلاوت قرآن حکیم سے ہوا۔ صدر شعبہ ڈاکٹر غلام علی نے کہا کہ ترجمے کا فن انسانیت کی تاریخ میں بین الاقوامی نقطہ نظر کی پیداوار ہے اور آفاقی انداز نظر پید اکرنے کا اہم وسیلہ بھی۔ آج ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کا کردار غیر معمولی اہمیت کاحامل ہے۔ صحافتی مقاصد کے لیے ترجمے اور طریقہ ہائے ترجمہ پر سب سے زیادہ اثر میڈیا کے بدلتے ہوئے کردار نے ہی ڈالا ہے۔ اب میڈیا کی ذمہ داری صرف آگاہ کرنا یا ابلاغ نہیں ہے بلکہ میڈیا معلومات کا طے شدہ پالیسیوں اور نظریاتی بنیادوں پر مخصوص معلومات یا تصویر کے کسی ایک ترجیحاتی رُخ کا سامعین وناظر تک ابلاغ ہے۔ آج ابلاغ کے مقصد سے موجود متن کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ چنانچہ میڈیا کا کردار محض خبر کا نہیں بلکہ طے شدہ اہداف و مقاصد کے لیے میڈیا اہم ہتھیار بن گیا ہے۔ ترجمہ اور ترجمہ کاری ایک فن اور معلومات کی منقلی کا عمل ہے۔ مگر صحافت کے میدان میں ترجمہ فعال کردار کا حامل ہے۔ اس لیے آج ترجمہ کاری کے فروغ کے لیے میڈیا کے کردار کا جائزہ ناگزیر ہے۔ مہمان خصوصی و کالم نگار وسعت اللہ خاں نے کہا کہ زبان کسی بھی معاشرے کی تہذیبی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ترجمہ کاری کا عمل زبان کو لسانی، ثقافتی اور تہذیبی حوالوں سے وسعت بخشتے ہوئے ذہنی رویوں کو کشادہ کرتا ہے۔ عصر حاضر میں میڈیا کو ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے سماج و معاشرہ کی مثبت تشکیل نو میں ہاتھ بٹانے کی ضرورت ہے۔ ترجمہ کا عمل کسی قوم، ملک یا تہذیب کی پہچان کا باعث بنتا ہے چنانچہ دنیا کے بہترین و ارفع ادب کو پاکستان کی مقامی و قومی زبانوں  میں منتقل کرتے ہوئے ہم بہتر سماجی تبدیلیوں سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ ترجمہ کاری ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔ میڈیا کو خبر کی عوام تک ترسیل کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کو خبر کی عوام تک ترسیل کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا میں ترجمے کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس قومی ضرورت کے حوالے سے صحافیوں کی تربیت کا کوئی نظام اور انتظام موجود نہیں۔ رجسٹرار ڈاکٹر طاہر عقیل نے کہا کہ مختلف مسائل کا دیانتدارانہ تجزیہ ہی ان کے حل میں معاون ہو سکتا ہے۔ وسعت اللہ خان ایک کامیاب اور حساس تجزیہ نگار ہیں، انہوں نے صحافیانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی کھلے سچ کو بیان کیاہے۔ بلاشبہ لفظی ترجمہ کی ابلاغی اہمیت ا س کی تاریخی اہمیت میں ضم ہوجاتی ہیں۔ ترجمہ ایک ایسی مشقت ہے جو مترجم سے ہر ممکن قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ جامعہ گجرات کا مرکز علوم ترجمہ اپنے سربراہ ڈاکٹر غلام علی قیادت میں قومی فرائض کی ادائیگی میں نئی تاریخ رقم کر رہا ہے اور اس یونیورسٹی کا سنٹر آف ایکسیلنس بن چکا ہے۔ تقریب میں شعبہ ابلاغیات کے استاد زاہد بلال،ثوبیہ عابد، ڈاکٹر ذکیہ بانو، ممتاز دانشور افتخار بھٹہ اور چیف لائبریرین کاظم علی سید نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ 
بلاشبہ میڈیا کی اپنی ضروریات اور تکنیکی مسائل ہیں اور برق رفتاری تراجم کی روح کو ملیا میٹ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ میڈیا کا مقصد فوری اور جلد ترسیل ہے معیار ترجمہ نہیں۔ اس میں ضرورت ابلاغ کی ہے لسانیات کی نہیں۔ صحافتی متن کا ترجمہ آزاد ترجمہ کہلاتا ہے۔میڈیا میں منتخب متن کے ترجمے کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے صحافت اور ترجمہ کا تعلق بہت اہم ہے لیکن ناظرین و سامعین کا ذہن ترجمے اور میڈیا کے تعلق کی طرف  جاتا ہی نہیں، حالانکہ صحافی ترجمان بھی ہوتا ہے۔ صحافی کے وظائف یعنی خبر کا انتخاب،تحقیق، تحریر اور اس کی ایڈیٹنگ کا عمل سمجھنے سے میڈیا میں ترجمے کے کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صحافت میدان عمل ہے اور بدلتے ہوئے حالات و تناظر میں کوئی صحافی خود کو جتنا زیادہ اچھا مترجم بنائے گا،اتنا ہی اچھا صحافی سمجھا جائے گا۔ اس سیمینار سے اس بات کی ضرورت بھی محسوس ہوئی کہ ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کے کردار کی خواہش کی تکمیل کے لیے لازم ہے کہ مرکز السنہ و علوم ترجمہ میڈیا کے لوگوں کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام کرے تاکہ میڈیا میں ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جو ترجمہ کاری کی اہمیت و افادیت سے آشنا ہوں۔ جامعات قوم کی کردا ر سازی میں اہمیت کی حامل ہیں۔ میڈیا عوامی رائے عامہ کی تشکیل میں نئی راہیں متعین کرنے میں سازگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ترجمہ کاری میں صحافتی ضروریات کے پیش نظر یقینا لفظ و معنی کے ذائقے میں کئی بار تبدیلی آ جاتی ہے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ ہمیں دونوں شعبوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہے۔ ایک یونانی مقولہ ہے کہ ”ترجمہ ہمیشہ ایک بھنی ہوئی سٹرابیری ہی رہے گا“ یعنی ترجمے کے دوران اصل چیز کے ذائقے میں فرق ضرور پڑتا ہے۔ 


جمعرات، 23 جون، 2016

روزہ، پیروی د ین کا ایک اہم تقاضا ہے



حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کہ فرمان نبویؐ ہے کہ آدمی بظاہر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج و عمرہ کا عمل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ آپؐ نے تمام اعمال ِخیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور نبی رحمتؐ نے فرمایا، مگر قیامت کے دن وہ صرف عقل کے بقدر اس کا بدلہ پائے گا۔ اس حدیث نبویؐ میں عقل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عقل سے مراد فہم و شعور ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آدمی ذکر و عبادت کے اعمال تو کرتا ہے مگر ان اعمال کا اجر ان کے فارم یا کمیت کے اعتبار سے نہیں ملتا بلکہ عمل کی روح کے اعتبار سے دیا جاتا ہے۔ آدمی نے جس درجہ شعور کے ساتھ عبادت کی ہو گی اسی درجہ شعور کے اعتبار سے اس کے عمل کا انعام مقرر کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی عبادت کرتا ہے لیکن قرآن حکیم کے مطابق سہو یعنی غیر حاضر دماغی سے عبادت کرتا ہے تو وہ عبادتی افعال تو کر رہا ہوتا ہے لیکن عقل و شعور کے اعتبار سے وہ حالتِ غفلت میں ہوتا ہے۔ رسم عبادت ادا کرنے والا ایسا آدمی صرف غیر مطلوب عبادت کرتا ہے۔ ذکر و عبادت کی مطلوب اور حقیقی صورت وہ ہے جب عبادت کرنے والے کا وہ حال ہو جائے جیسا قرآن مجید کی سورہ انفعال میں ہے کہ خدا کی یاد سے اس کا دل دہل اُٹھے یا سورۃ الزمر کے لفظوں میں اسکے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ایسا آدمی ہی زندہ اور حرکی شعور کے ساتھ عبادت کا عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے بڑے انعامات اس کو دئیے جائیں گے جس نے زندہ شعور کے ساتھ ذکر وعبادت کا عمل کیا۔ 
ماہِ صیام ہے اس میں روزہ ہی کو لے لیں۔ سورۃ بقرہئ میں ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن سکو۔ یعنی روزہ اس لیے رکھاجائے کہ پرہیز گار بنا یا جا سکے۔ اس حکم قرآن سے ایک بات واضح ہوئی کہ جو روزہ نہیں رکھتا وہ ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا۔ جتنی عبادتیں ہیں ان میں ہم کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں تو وہ نیکی میں شمار ہوتا ہے۔ جتنی عبادتیں ہم پر فرض ہیں ان سب کا تعلق نیکو کاری سے ہے سوائے روزے کے۔ کیونکہ روزہ نیکو کاری سے آگے پرہیز گاری میں آتاہے۔ روزہ کچھ کرنے کا نام نہیں بلکہ کچھ چیزوں سے رُک جانے کا نام ہے۔ روزہ روح و جسم میں سال بھر میں پیدا ہو جانے والے فسادی عناصر کے خاتمہ کے لیے اینٹی بائیو ٹک ہے یہ گناہوں سے بچنے کے لیے سالانہ ویکسینیشن ہے۔ یہ تربیتی کو رس ہے متقی بننے کے لیے۔ یہ محض بھوک، پیاس کی سالانہ رسم نہیں ہے۔ آپ نے سرکس میں دیکھا ہو گا کہ شیر جیسا خونحوار جانور کس طرح مالک کے اشاروں پر آگ کے پہیوں میں سے گذر جاتا ہے۔ گلی محلوں میں لوگ ریچھ کو لیے پھرتے ہیں یہ درندہ مالک کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ سدھانے سے، تربیت سے درندہ فرمانبردار ہو جاتا ہے۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا درندوں کو سدھایا کیسے جاتا ہے کہ وہ فرمان برداربن جاتے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلے گا کہ سدھانے والا پہلے ان جانوروں کو بھوکا رکھتا ہے اور بھوک میں سدھاتا ہے۔ بھوک اور فرمانبرداری لازم و ملزوم ہیں یعنی فرمانبرداری آپ نے اختیار کرنی ہے۔ متقی بننا ہے تو بھوک و پیاس کے بغیر ممکن نہیں۔اسی لیے تمام اُمتوں پر روزے فرض کیے گئے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس تربیتی کورس میں بھوک و پیاس تربیت کا ذریعہ ہے مقصد نہیں۔ اس کے ذریعے بھوک و پیاس کے تجربے سے گزارنا مقصود ہے تاکہ تربیت کی جا سکے اور یہ اخلاقی ڈسپلن و ضبط کا سالانہ تربیتی پروگرام ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں پر روک لگانا ہی پرہیز گاری ہے۔ اسلام اور ایمان کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے رُک جائے۔ روزہ ہر سال یہی سبق یاد دلانے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ نیکی بڑی معتبر ہے جس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔ روزے کے اعلیٰ درجے کو حاصل کرنے کے لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر اپنے آپ کو غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہونے سے بچائے۔ 
روزہ میں آدمی کو خود عائد پابندی کی وجہ سے بھوک و پیاس کے تجربے سے گذرناہے تاکہ تقویٰ کے معیار کو پا سکے۔ لیکن ہم رمضان میں پہلے سے زیادہ کھاتے ہیں،ہماری خوراک بڑھ جاتی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں اس لیے کہ حدیث ہے کہ رمضان میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ بس اسی آڑ میں ہم کھائے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ روح رمضان کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں رزق بڑھنے سے مراد خوراک میں اضافہ نہیں ہے، روزے کا تو مقصد ہی بھوک و افلاس کا تجربہ کرنا ہے روزے تو پہلی اُمتوں پر بھی فرض ہوئے۔ حضرت آدمؑ پر بھی فرض ہوئے ان کے دور میں تو خوراک ایسی تھی ہی نہیں صرف پھل کھائے جاتے تھے۔ 
رزق بڑھنے کے روحانی معنی معرفت میں اضافہ کے معنوں میں ہے۔ قانون فطرت ہے کہ انسان کو جب شاک پہنچتا ہے تو اس کا دماغ متحرک ہو جاتا ہے۔ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہمارے تمام حواس بیدار ہو جاتے ہیں۔ تخیل کی بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ بڑی بڑی باتیں سامنے آتی ہیں، انکشاف ہوتے ہیں۔ بھوک و پیاس کا تجربہ دراصل انسان کی تخلیقی فکر بڑھانے کے لیے ہے۔ اس سے انسان کی روحانی غذا میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کوجنت ملی تو باغات کے ہجوم میں اسے ایک پھل کھانے سے روک دیا گیا۔ آدم ؑنے یہ پابندی خود پر عائد کر لی۔ یعنی وہ جنت میں حالت روزہ میں تھے مگر اُنہوں نے جب یہ پابندی توڑی تو جنت سے نکال دئیے گئے۔ یہ واقعہ آج بھی پیغام دیتا ہے کہ جو اللہ کی لگائی ہوئی روک پر رُک جائے گا وہی جنت میں جائے گا۔ جو روکنے پر بھی نہیں رُکے گا، پرہیز گار نہیں ہوگا، نافرمان ہو گا، جنت اسکے لیے نہیں ہے۔ 
روزہ رکھتے ہوئے ہم شعوری طور پر اس کا فہم بھی رکھتے ہیں۔ کیا ہماری بھوک و پیاس کسی تخلیقی فکر کو جنم دیتی ہے۔ ہمارا احساس بیدار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہمارا قلب اطاعت و فرمابنرداری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ فرمان نبوی ؐ ہے کہ اللہ کے نزدیک صرف وہ روزہ مقبول ہے جو ایمان و احتساب کے جذبے کے ساتھ رکھا جائے۔ حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو بدکلامی اور فضول گوئی نہ کرے۔ نہ شور و شر کرے۔ کوئی اگر اس کو گالی دے اور لڑنے اور جھگڑنے پر آمادہ ہو تو یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ 
حضرت ابوعبیدہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دیا جائے۔ وسط میں سوال آیا، کس سے پھاڑ دے۔ ارشاد ہوا، ”جھوٹ یا غیبت سے“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ روزہ رکھتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ اس تربیتی کورس سے مجھے سال بھر غلط کاریوں سے بچنا ہے، وعدہ خلافی نہیں کرنی، ناجائز منافع نہیں کمانا، کسی کا حق نہیں مارنا، کسی کا رزق نہیں چھیننا، کوئی لڑے بھی تو اس سے لڑائی نہیں کرنی۔ فرض دیانتداری سے ادا کرناہے۔ مجھے ماہِ صیام میں اپنا عزم اور حوصلہ مستحکم کرنا ہے تاکہ میں سارا سال نیکیوں کے موسم بہار کی مہک پھیلاتا رہوں۔ عام طور پر ہمارا روزہ محض دن بھر کی بھوک و پیاس کا نام بن کررہ جاتا ہے،کیونکہ یہ رسم بن کر رہ گیا ہے اس میں ہمارے شعور کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس ماہ کے تربیتی کورس کے ثمرات سارے سال پر محیط ہونے چاہئیں۔ اگر ہم تربیتی کورس مکمل کرنے کے دعوے کے باوجود سال بھر اس پر عمل پیرا ہونے میں نا کام رہیں تو کیا کسی فیل ہو جانے والے کو انعام سے نوازا جا سکتا ہے؟
عرض یہ ہے کہ ہمیں اپنی ریاضت و عبادت کو اپنے شعور کا حصہ بنانا ہے۔ فکرو اجتہاد سے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے مطیع و فرمانبردار بندوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ آیات الٰہیہ کی کورانہ تقلید نہیں کرتے۔ یعنی وہ ان پر حکیمانہ غور کرتے ہیں۔ سورۃ الاسراء میں ہے کہ اورجو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں اندھا رہے گا۔ اور راستے سے یک قلم بھٹکا ہوا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں روح عبادت سے آشنائی کے لیے کوئی ذہنی بیداری کا درس نہیں دیتا ہے۔ کوئی ادارہ یا تحریک نہیں جو art of thinkingفن تفکّر کی روشنی میں ہماری فکر ی راہنمائی کرے۔ کوئی قرآنی پیغام عام نہیں کرتا کہ تم تفکر نہیں کرتے، عقل سے کام نہیں لیتے۔ انعام اور اجر کے لیے لازم ہے کہ ہماری عبادت میں ہمارا شعوری حصہ بھی ہو۔ 
علامہ ابن القیم ؒنے روزہ کے اسرار و مقاصد پر یوں روشنی ڈالی ہے کہ ”روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ فاسد مادہ کے جمع ہو جانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے،جو چیزیں مانع صحت ہیں ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوارح میں جو خرابیاں ہواوہوس کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں و ہ اس سے دفع ہوتی ہیں، و ہ صحت کے لیے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممدو معاون ہے۔“

پیر، 13 جون، 2016

انسان کون ہے۔۔۔؟


کہاجاتا ہے کہ جن دنوں روسی ناول نگار گوگول پیٹرز برگ میں بے کاری کے دن گزار رہا تھا۔ پشکن کی سفارش پر اسے یونیورسٹی میں لیکچرر کی نوکری مل گئی۔ مگر وہاں گوگول ایک لیکچر دے کر بھاگ گیا اور دوبارہ یونیورسٹی نہیں گیا۔ پشکن نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا”جتنا مجھے آتا تھا میں نے پڑھا دیا۔ اب میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں، وہاں جا کر طالبعلموں کو کیا پڑھاؤں گا۔“ میں نے بھی علمی ذوق کے حامل اورکتاب دوستی کے پیامبر دانشور دوست پروفیسر میاں انعام الرحمن سے اپنی کم مائیگی اور نالائقی کا تذکرہ کیا اور پڑھنے لکھنے سے معذرت چاہی۔ مگر کیا کیا جائے کہ میاں صاحب مبالغہ کی حد تک ”بابرکت“ شخص ہیں اور حلقہئ یاراں میں ان کا شمار ایسے افراد میں ہوتا ہے کہ جن سے کسی بھی نشست و گفتگو کے بعد علمی تشنگی بڑھ جاتی ہے وہ جب بھی گوجرانوالہ سے تشریف لاتے ہیں، کتابوں کی باتیں کرتے ہیں اور کتب بینی کا درس دیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں آئے اور بڑی محبت سے عالمی شہرت یافتہ یہودی مذہبی و روحانی سکالر ابراہام جوشو اہیشل کی کتابWho is Man?کا اُردو ترجمہ عنایت کیا، اور اپنے مخصوص علمی انداز بیاں سے کتاب، صاحب کتاب اور مترجمین کا تعارف بھی کروایا اور مجھے کتاب پڑھنے کی ”دعا“ بھی دی۔ میں نے کتاب لی،شکریہ ادا کیا اور پھرمیری نظر ٹائٹل پر ہی ٹھہر گئی ”انسان کون ہے؟“ اور دیگر تحریریں، تقدیم و ترجمہ، قیصر شہزاد، عاصم بخشی۔ سادہ مگر بامعنی ٹائٹل ایک راسخ العقیدہ روحانی عالم کی انسان بارے سوچنے اور فکر کرنے کی جسارت کا عکاس دکھائی دیا۔ میں نے ورق اُلٹنے شروع کیے اور پھرمیری بے قراری سطر سطر بڑھتی گئی۔صفحہ نمبر366پر پہنچا تو لگا ابھی تو شروع کیا تھا۔ فکر، تجزیے، روحانیت سے بھرپور تحریر اور محبت،محنت کے امتزاج سے قابل فہم ترجمہ نے مزہ دو آتشہ کر دیا۔”انسان بیک وقت باقی نامیاتی فطرت کا حصہ بھی ہے اور روح الہٰی کے لا متناہی فیضان کا بھی۔ دائرہ وجود میں ایک اقلیت ہوتے ہوئے اس کا مقام خدا اور درندوں کے درمیان کہیں ہے۔ تنہا رہنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث اسے ان دونوں میں سے کسی ایک سے مل جانا ہو گا“۔
والٹیر نے کہا تھا کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا تھا اور انسان نے اس کے جواب میں خدا کو اپنی صورت کے مطابق بنا لیا۔ جی ہاں!خدا، کائنات اور انسان کی تثلیت میں انسان کی اہمیت مسلم ہے۔ قرآن مجید ”والناس“ پر ختم ہوتا ہے اور انسان کے معنی آنکھ کی پتلی کے بھی ہیں۔ گویا انسان کائنات کی آنکھ ہے جس کا نورحق ہے کہ خدا کا عرفان اور کائنات کی پہچان انسان کے وجود سے ہی وابستہ ہے۔ اس یہودی روحانی عالم کے قلم و فکر میں بھی ہمیں خدا انسان کی تلاش میں نظر آتا ہے۔375صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مکتبہئ اشارات اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ فلسفے کے استاد ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی نے اسے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ دونوں مترجمین نے بیسویں صدی کے اہم دانشوروں کی اہم تحریروں کو اُردو میں منتقل کرنے کے جس کارِخیر کا آغاز کیا تھا یہ کتاب اس کی اہم کڑی ہے۔ اس کتاب میں ابراہام جوشوا ہیشل کی کتاب ”انسان کون ہے؟“ اور ان کی مختلف کتابوں سے منتخب کردہ گیارہ مزید اجزاء کا ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ہیشل کے فراہم کردہ حواشی آخر میں دئیے گئے ہیں جبکہ مترجمین کے توضیحی تبصرے فٹ نوٹس میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کتاب کے آخر میں ہیشل کی تحریروں اور انکی فکر پر کیے گئے تحریری کام کی مختصر کتابیات کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ فہرست میں پہلے حصے میں ہیشل کی تحریروں کی فہرست ہے جبکہ دوسرے حصے میں ہیشل کے حوالے سے لکھی جانے والی چودہ تحریروں کی فہرست دی گئی ہے۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کمال مہارت سے26صفحات کے جامع مقدمہ میں مصنف، اسکی شخصیت اور فکر کا بھرپور تعارف کروایا ہے۔ یہ مقدمہ جہاں ہیشل کی فکر و خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا ہے وہیں ڈاکٹر قیصر شہزاد جیسے فلسفے کے استاد کی فکری و قلمی مہارت کا عکاس بھی ہے۔ آخر میں ڈاکٹر عاصم بخشی نے تجزیاتی انداز میں مطالعہئ ہیشل کے حوالے سے چند معنی خیز گذارشات بھی رقم کی ہیں۔اُردو کتاب کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ پیش لفظ مصنف کی بیٹی سوزانہ ہیشل نے لکھا ہے جو خود ڈار ٹماؤتھ کالج امریکہ میں شعبہئ مذاہب کی پروفیسر ہیں اور لکھتی ہیں کہ ”میرے والد نے ایک ایسے ماحول میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئیے جہاں مسلمان علماء کے ساتھ ان کے بہت کم روابط ہو سکے۔ البتہ وہ عربی زبان سے واقف تھے اور انہوں نے ازمنہ وسطیٰ کے یہودی اور مسلمان فلسفیوں پر کام بھی کیا۔ موسیٰ ابن میمون کی سوانح لکھتے ہوئے انہوں نے اسلام کا ذکر مدح و توصیف کے ساتھ کیا اور اسکے توحید قطعی کے نظریہ اور ہر طرح کے شرک کی مخالفت پر کھل کر تعریف کی۔ یہ جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا کہ انکی تحریریں پاکستان کے مسلمان قارئین تک پہنچ رہی ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے مسلم قارئین سے مل کر بہت خوش ہوتے“۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”تاریخ کے دائرے میں ایک ایسا کام کر جانا جو مراد خداوندی کی تکمیل کا راستہ ہموار کرے۔ تاریخ کے تاریک اور خطرناک زمانہ حال میں، جب کہ ایمان و مذہب کو کئی طرح کی تحریفات کا سامنا ہے،یہ اہم کتاب اردو میں سامنے لائی جا رہی ہے۔“
ترجمے سے محبت کرنے والے مترجمین کی یہ کاوش یاد دلاتی ہے کہ یورپ نے اپنی نشاۃ ثانیہ کے دوران ترجمہ کاری کے ذریعے ہی یونانی اور اسلامی فکر و فلسفہ، فکری تحریکوں، سماجی رویوں، تاریخ و سیاست اور سائنس و طب سے متعلقہ صدیوں پر مبنی علمی و فکری ورثہ کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ترجمہ کاری کا فن نہ ہوتا تو شاید مختلف علوم ارتقائے انسانیت میں کردار ادا کرنے سے محروم رہتے۔ تھیالوجی جیسے خشک موضوع سے تعلق رکھنے والی کتاب کا ترجمہ مشکل کام ہے،تاہم اس کتاب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مترجمین ادراک رکھتے ہیں کہ ترجمے میں الفاظ کا صحیح استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے، اگر مترجم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو مرکزی خیال، مجموعی تاثر اور خیال کی شدت تینوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی کی کاوش قابل تحسین ہے کہ مترجمین لفظوں کے سیاق و سباق سے آشنائی کی بدولت رواں، قابل فہم اور با مقصد ترجمہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بخشی کے اپنے الفاظ میں ”شاعرانہ، صوفیانہ، فلسفیانہ اور ادبی روایت کی امین، اردو جیسی ایک نسبتاًجدید زبان میں ہیشل کا ترجمہ شاید ہمیں کچھ ایسے نئے اور نادر زاویے کھولنے میں مدد دے جن سے مغربی جدیدیت سے متاثر مشرقی ذہن نہ صرف اپنی روایت کا تازہ احیاء کر سکے بلکہ تہذیبی روایتوں کا ملاپ بھی ممکن ہو، یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ شاید اب ہم تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں تہذیبی روایتوں کے دم توڑتے معرکوں سے زیادہ ہمیں انسان اور ایک عالمگیر ابھرتی تہذیب کی راہ متعین کرانے کی ضرورت ہے“۔ 
کتاب کے کل بارہ ابواب میں سے تین ابواب کا ترجمہ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کیا ہے جن میں ”نبی کس طرح کا انسان ہوتا ہے؟“، ”انسان کون ہے؟“ اور ”ہم مل کر کیا کر سکتے ہیں؟۔“جبکہ نو ابواب، ”دعا بطور نظام حیات“، ”الہٰیات عمق“، ”تین نکاتِ آغاز“، ”ارفع“، ”سرّ“، ”ایک وجودیاتی مفروضہ“، ”انفعال خداوندی“، ”مذہب: آزاد معاشرے میں“، ”ابن میمون کے آخری ایام“، کا ترجمہ ڈاکٹر عاصم بخشی نے کیا ہے۔خوبی یہ ہے کہ دوران مطالعہ یہ کم مواقع پر کھٹکتا ہے کہ مختلف ابواب کا ترجمہ مختلف قلمکاروں کی سعی ہے۔ یہ دونوں مترجمین کی قلمی یکجہتی اور فکری محبت کا ثبوت ہے۔  
مارٹن بیوبر یا کانٹ کے انسان کے بارے اٹھائے گئے فلسفیانہ سوالوں یا مباحث کے برعکس ہیشل نے ابتداء ہی میں واضح کر دیا کہ انسان کون ہے؟ کوئی سوال نہیں بلکہ ایک مسئلہ ہے۔ سوال تو کم علمی یا تجسس کی کوکھ سے جنم لیتا ہے لیکن مسئلہ ضرورت سے زیادہ جاننے اور علم میں محسوس ہونے والے داخلی تعارض سے پیدا ہوتا ہے۔ ہیشل تصور انسان کے تاریخی تناظر کا علمی جائزہ لیتا ہے۔ اور آخر میں مارٹن ہائیڈیگر اور وجودیت کے فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے مفکرین کے تصور انسان کو ہدف تنقید بناتا ہے۔ ان سے ہیشل کا اختلاف یہ ہے کہ یہ انسان کو بے نام، بے چہرہ اور بے حس وجود کا ایک پہلو قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کا اہم مسئلہ اس کا ”ہونا“ نہیں اسکا ”جینا“ ہے۔ ہیشل انسان کا تعلق مردہ یا   لا تعلق ماورائیت سے جوڑنے کی بجائے ”خدا“ کی زندہ ماورائیت سے جوڑتا ہے اور اسے الوہی انداز میں جینے کی تعلیم دیتا ہے۔ عمیق نظروں سے مطالعہ کیا جائے تو ہیشل کا تصور انسان فلسفیانہ اور منطقی حوالے سے بھی اپنے معاصرین کے تصور انسان پر سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم خود انسان کو اس حوالے سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ بیدل نے کیا خوب کہا تھا کہ دونوں عالم خاک ہوئے تب کہیں انسان کا نقش بنا۔ اے انسان، اے بہار نیستی اپنی قدر کو پہچان؟ ایسا ہی پیغام ہیشل کا ہے وہ لکھتا ہے ”کائنات تو مکمل ہو چکی ہے، لیکن شاہکار ابھی نامکمل ہے اور ابھی بھی تاریخ کے اندر تخلیق کیا جا رہا ہے۔ خدا کے عظیم تر منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسان کی ضرورت ہے…… زندگی،مٹی اور پارسائی وہ سانچہ ہے جس میں خدا تاریخ کی تشکیلِ جدید چاہتا ہے…… خدا رحمت اور پارسائی کا حکم دیتا ہے اور اس کا یہ حکم محض عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ تاریخ اور زمانے میں ہی بجا لایا جاسکتا ہے۔ خدائی مشن کی تکمیل انسان صرف تاریخ کے اندر ہی کر سکتا ہے“
یہ کتاب تشنہ ذہنوں کی پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ فکری اور روحانی تشنگی بڑھانے کے لیے ہے۔ ایسے میں جب دنیا ایک روحانی صحرا بن چکی ہے۔ انسان اس کرب سے نکلنے کے کسی راستے اور انسان ہونے کی کسی نئی معنویت کے متلاشی ہیں۔ کیا انبیاء کے پیغام کو زندہ رکھنے کے دعویداروں سے کسی مدد کی توقع کی جاسکتی ہے؟ یا پھر کسی موجود کو ”انسان“ کہلانے کے قابل کیا شے بناتی ہے؟ میں ہوں! مگر یہ ”میں“ کون ہے؟  اور ”ہونے“ سے کیا مراد ہے؟۔ مذہب کہاں مل سکتا ہے؟ ایسے ہی بہت سوال اس کتاب میں اٹھائے گئے تاکہ انسان فہمی کو کائنات کے وسیع تناظر میں پرکھا جا سکے۔ ایسے ہی بہت سے سوال جو آج کے دور کے انسان کو در پیش ہیں اور ہم سب کی توجہ کے طالب ہیں 
یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے علامہ اقبال کے خطبات بہت یاد آئے۔ آج بھی ہمیں فہم انسان و مذہب کے لیے فکری تغیراور مذہبی افکار کی تشکیل جدید کی اشد ضرورت ہے۔ایسے میں اس کتاب کا اردو ترجمہ اور اس کا مطالعہ ایک اہم بات ہے۔ یہ کتاب مذکورہ مضامین کے حوالے سے پختہ فکر بحث میں معاون ہو سکتی ہے۔ ہیشل کے خیال میں بین المذاہب سرگرمی کی شرط اول ہی ایمان ہے۔ اہل مذاہب کو مکالمہ عقاید پر مباحثے کی نیت سے نہیں بلکہ ”الہٰیات عمق“ کی سطح پر کرنا چاہیے۔ ہیشل کے مباحث سے مذہبی فکر نو کی امید بھی جنم لیتی ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی تاریخ سے آشنائی کے باوجود وہ مایوس آدمی نہیں تھا۔ وہ سچے اور کھرے مذہبی انسان کی طرح پُر امید شخص تھا۔ اس کی تحریروں کے مطالعے سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ مذہبی انسان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ امید ہی تغیر کی جان ہے،شاید اسی لیے وہائیٹ ہیڈ نے کہا تھا کہ ”زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے۔ اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔ اس کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلتی رہیں گی“۔