سوموار، 16 مئی، 2016

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار 



ہمارا دین رحمت جس ضابطہ حیات کی دعوت دیتا ہے اس میں اجتماعی فوز و فلاح کا راز مضمر ہے اور ایک ایسے خدا پرست معاشرے کا داعی ہے جس کے افراد ایک خالق و مالک کے رشتے سے باہم اخوت و محبت رکھتے ہیں، ان کی پوری زندگی انتہائی نظم و ضبط اور کامل اطاعت کا مظہر ہو اور اس میں انتشار، افتراق، بے ترتیبی کا گذر نہ ہو، اس کے رکوع و سجود بھی انہی صفات کے حامل ہوں اور تمام شعبہئ ہائے حیات میں بھی یکجہتی کا مظاہرہ دکھائی دے۔ 
اسلام کے تصور مدنیت میں لوگوں کے شعور کی تربیت اسی اساس پر ہے کہ عبادت صرف دعا اور مناجات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی معنویت زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس تناظر میں سماج میں مسجد کے مقام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض مقام صلوٰۃ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کا دارالامارت بھی ہے اور اس کا منبر مقام وعظ و تذکیر ہی نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے اعلانات کی سرکاری جگہ ہے۔ اسلام کا یہ امتیازی وصف ہے کہ اس نے مساجدکی تقدیس و حرمت کو وسیع معنویت عطا کی ہے اور انہیں اس نظام حیات کی تربیت گاہ قرار دیا ہے جو دین و دنیا دونوں پر محیط ہے۔ تھنکرز فورم کڑیانوالہ کے سماجی راہنما عاطف رزاق بٹ اور کیئرز پاکستان دہمتھل کے سرپرست پروفیسرتنویر احمد نوید سماج سدھار کے لیے ہر لمحہ متحرک رہتے ہیں اور اس کار خیر کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ علاقے میں اسلامی بھائی چارے کا فروغ ان کے مشن کی نمایاں ترجیح ہے انہوں نے بڑی جہاندیدگی سے ”فلاح معاشرہ میں مساجد اور آئمہ مساجد کا کردار“ کے موضوع پر چراغ اعظم ٹرسٹ بھنگرانوالہ کے اشتراک سے مکالمے کی فکر انگیز محفل کا اہتمام کیا اور خلوص نیت سے علاقہ کے ممتاز علمائے دین اور آئمہ مساجد جو مختلف مسالک سے تعلق رکھتے تھے ان کو مدعو کیا۔ مکالمے میں مجھ نا چیز سمیت، جامعہ گجرات کے پروفیسر ڈاکٹر غلام علی کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ اتوار 15 مئی کے روز امریکہ میں مقیم دانشور جاوید اعظم چوہدری کی میزبانی میں مکالمے کی محفل میں شرکت خوشگوار حیرت کا موجب بنی۔میزبان چوہدری جاوید اعظم نے تعارفی کلمات میں واضح کیا کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں مسجد کا رول کلیدی رہا ہے۔ رسول اللہ ؐاور اصحاب رسولؐ کی زندگی میں مسجد دینی، سماجی اور سیاسی تمام قسم کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا مرکز ہوتی تھی مگر آج کل محلوں میں مساجد جزیرے بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کو آباد کرنا اور معاشرے سے جوڑنا لازمی ہے۔ میں نے عرض کیا ابتدائے اسلام میں نبی کریم ؐ امام بھی تھے اور خطیب بھی اور اسی طرح خلفائے راشدین، امراء و قائدین سب امامت و خطابت کے منصب پر فائز ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کسی مسجد کے امام و خطیب کے لیے علم و اخلاق کے اعتبار سے مضبوط ہونا معاشرہ کی فلاح کے لیے ناگذیر ہے۔ چونکہ امام و خطیب ہی کے ذریعے مسجد اپنا روحانی، ثقافتی اور سماجی کردار ادا کرتی ہے اس لیے ان کی حیثیت مسجدوں کے ستون اور معمار کی سی ہوتی ہے۔ 
مسجد مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی، اخلاقی، اصلاحی، تعلیمی، تمدنی، ثقافتی، تہذیبی، سیاسی اور اجتماعی امور کی راہنمائی ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔ مسجد دین کی ہمہ گیر یت اور جامعیت کو مستحکم کرنے والے ادارے کی حیثیت کی حامل ہے۔ مسجد مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ثمر آور کردار کی ضامن ہے۔ قرون اولیٰ میں مسجد کی حیثیت دارالخلافہ سے لے کر غرباء و مساکین کی قیام گاہ تک تھی۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوتی اور یہیں سے دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات کے اطوار طے ہوتے تھے۔ یہ خلیفہ کا مسکن اور معاہدات کی جگہ تھی۔ اجتماعی کاموں کی منصوبہ بندی اور مفاد عامہ کی فلاح کی پالیسیاں مسجد میں ہی تشکیل پاتی تھیں۔ جب تک سماج میں مسجد کو یہ مقام حاصل رہا، مسلمان امت واحدہ رہے لیکن جیسے جیسے سماج اور مسجد میں فاصلہ بڑھتا گیا، نظم ختم ہوتا گیا، انتشار، فرقہ واریت اور دین سے دوری بھی بڑھتی گئی۔ مساجد ہی تعلیم و تربیت کا مرکز ہوتی تھیں۔ جامعہ الازھر پہلے ایک مسجد ہی تھی اور اپنے کردار سے جامعہ میں تبدیل ہو گئی۔ اس سے مسلم سماج پر مسجد کے اثرات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات کم ہونے کی وجہ سے مسلم سماج کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ مسجد کا سب سے اہم کام مسلمانوں میں اجتماعیت کا قیام اور اسے پائیدار بنانا تھا مگر ہمارے ہاں مسجدیں مسلکی کش مکش کے مراکز بن کر رہ گئی ہیں۔ آج جب ہم ہر لحاظ سے نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ مسجد کو مسلم سماج سے مطلوب سطح پر جوڑ دیا جائے۔ مسلمانوں کی فکر سازی اور سماجی اصلاح دونوں کام مسجد سے لیے جا سکتے ہیں مسجد کی انتظامیہ اور اس کا امام صحیح شعور سے بہر ہ ور ہو جائے تو مسجد امت مسلمہ کے لیے ایک فکر ساز ادارے یعنی تھنک ٹینک کا کام کر سکتی ہے۔ ایسے ہی جیسے شروع میں نبی کریم ؐ نے مسجد کو مقام و مرکزیت دی تھی۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد کو مرکز بنانے سے بہت سے تنازعے، فتنے اور فروعات ختم ہو جائیں گے۔ یقین مانیں مسجد کو اپنا حقیقی مقام مل جائے تو سماج سے بڑے مسائل ختم کیے جا سکتے ہیں۔ 
عصری منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو عیاں ہوتا ہے کہ غیر مسلم معاشروں میں موجود اقلیتی مسلمانوں کی مساجد مسلم اکثریتی معاشرے کی مساجد سے زیادہ فعال اور بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ مساجد اسلامک سنٹرز کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپنی مساجد کو آباد اور فعال کرنے کے لیے ہمیں انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا تاکہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکیں۔ لوگ اس طرف دلچسپی لیں گے، اس طرف آئیں گے تو ہی اصلاح اور فلاح کی تربیت ممکن ہو گی۔ ہماری مساجد میں خواتین کا داخلہ بند کر کے 52 فیصد مسلمانوں کو ویسے ہی لا تعلق کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں مجتہدانہ فکر سے کام لینا ہو گا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مساجد کے ساتھ کمیونٹی سنٹرز ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگ وہاں آئیں اپنی اپنی دلچسپی کے کاموں میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ نماز پنجگانہ بھی خشوع و خضوع سے ادا کریں۔ مساجد میں کتب خانوں کی ثقافت متعارف کروانی پڑے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ہم ایئر کنڈیشنر تو مساجد میں لگا لیتے ہیں، ڈیجیٹل لائبریری قائم نہیں کرتے۔ہمیں مساجد کے فلاحی کردار کو بحال کرنے کے لیے مختلف فلاحی تنظیموں کے تعاون سے مسجدوں میں رضا کار ڈاکٹر اور فرسٹ ایڈ کی فراہمی ممکن بنانی ہو گی۔ محلہ داروں میں آگاہی مہم متعارف کروانی ہو گی۔ مساجد میں ریفریشر کورسز شروع کروانے ہوں گے۔ نمازیوں اور مسجد آنے والوں میں باہمی بھائی چارگی سے ایک دوسرے سے تعاون اور امداد کو پروان چڑھانا ہو گا۔ صرف مسجد کے لیے چندہ مانگنے کی بجائے غریب اور مستحق اہل محلہ کی مدد کے لیے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔ مسجد کے ساتھ ہم بزرگ شہریوں کے بیٹھنے، اخبار پڑھنے کی سہولت وغیرہ کا انتظام کردیں تو مسجد میں آنے کا رجحان بڑھ جائے گا۔ مسجدوں میں ان موضوعات پر گفتگو کو عام کرنا جن پر ملت اسلامیہ متحد ہے۔ مسلمان اللہ کے سپاہی ہیں جن کا مرکز اور چھاؤ نی مسجد ہے۔ آئمہ مساجد کو مل بیٹھ کر اپنی اپنی مسجد کو آباد کرنے کے لیے زمینی حقائق،عصری چیلنجوں اور مستقبل کی مشکلات کے ادراک کے پیش نظر باہمی اتفاق سے لائحہ عمل ترتیب دینا ہے اور امام و راہبر کا فریضہ ادا کرنا ہے۔مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علامہ رضا المصطفیٰ، قاری محمد عیسیٰ، قاری محمد نعیم، قاری غلام نبی، حافظ محمد الیاس، قاری ذوالفقار جلالی، قاری غلام محمد، قاری ساجد وٹو اور مذہبی سیاسی شخصیت فیاض شاہد بٹ سمیت شرکاء نے کمال محبت و شفقت سے میری گفتگو کو سنا اور مثبت انداز میں میری بات کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر غلام علی نے جدید علوم کے تقاضوں اور دینی ہم آہنگی کے ثمرات سے آگاہ کیا اور برداشت، رواداری،تحمل اور تحرک کو نصب العین بنانے کی ترغیب دی اور خطبوں کو جوش کی بجائے ہوش سے ترتیب دینے کی استدعا کی۔ اس مکالمے میں شریک ہر فرد خلوص نیت سے اتفاق و اتحاد کا داعی نظر آرہا تھا۔ مکالمے کی ایسی کاوشیں ہی افہام و تفہیم سے اسلام کی حقیقی روح کے تعارف کے لیے نا گذیر ہیں۔ منتظمین و میزبان جزائے خیر کے حقدار ہیں۔ مکالمے میں شریک مختلف الخیال علماء کی شرکت اور تحمل و تدبر قابل تحسین تھا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے محلے کی مساجد میں جانے کا اعادہ کیا۔  
مسلکی اور گروہی تضادات میں بٹے معاشرے میں مساجد اور آئمہ مساجد کے فعال کردار سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ مسجد کے کردار کو بحیثیت ادارہ فروغ دے کر مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مساجد کو امت مسلمہ کی یکجائی کا مرکز و محور بنا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی مسیحا کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھنا ہے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق علاقائی اور مقامی سطح پر اقدامات کرنے ہیں۔ سماج میں نیک لوگوں کی کمی نہیں،انہیں اعتماد دینے اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔مسجد کا سماجی کردار وسیع ہو گا تو امامت کے ادارے کی اہمیت بھی بڑھے گی اور مسجد کے امام کو ”دو رکعت کا امام“ سمجھنے کے رویے میں تبدیلی پیدا ہو گی اور پھر سماجی علوم کے حامل علوم دین سے بہرہ مند با صلاحیت اور زرخیز فکر علما وفضلا امامت کی طرف آئیں گے۔ جن سے عوام کی دینی و سماجی ذہن سازی ہو سکے گی۔ مساجد اور آئمہ کے کردار سے ہماری مدنی اور تہذیبی زندگی میں اسلام کی روح نظر آنے لگے گی۔ 

جمعہ، 6 مئی، 2016

سرشت بہار زندہ ہے

سرشت بہار زندہ ہے 


زندہ قومیں زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہیں جبکہ مردہ قومیں مردوں کی پرستش کرتی ہیں۔ ماضی پرست قوم ہونے کے ناطے ہمارے ہاں ”عظمت رفتہ“ کا سحر اس قدر طاری ہے کہ ہمیں زندہ لوگوں میں کوئی بڑا آدمی نظر ہی نہیں آتا۔ ہم رشک کی بجائے حسد کرنے کے عادی ہیں۔ بت پرستی کے اس عالم میں زندہ لوگوں سے محبت کے اظہار، ان کی تعریف و تحسین کے لیے ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پر وقار تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو مجھے حیرت ہوئی لیکن خوشی بھی ہوئی کہ ’سرشت بہار زندہ ہے“۔وطن عزیز کے قابل قدر ماہرین تعلیم اور اعلیٰ تعلیم  کے راہبر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر HEC ڈاکٹر ارشد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اینمل اینڈ ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو تعلیم، تدریس، تحقیق کے حوالے سے قومی خدمات پر حکومت پاکستان نے ستارہئ امتیاز اور تمغہئ امتیاز سے نوازا تو اعلیٰ تعلیم کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس خوشی کے اجتماعی اظہار کے لیے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر شاہد صدیقی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل سائنسز یونیورسٹی اسلام آبادکے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ طو رپر ”شامِ اعزاز“ کی میزبانی کا اعلان کیا اور گذشتہ دنوں لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں شاندار، باوقار اور علم پرور عشائیے کا اہتمام کر کے واضح کیا کہ صاحب علم او ربا عمل لوگ زندہ قومی ہیروز کی قدر کرتے ہیں۔کیونکہ عظیم دماغ دوسروں کے اثرات سے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ مرعوب بلکہ ان کے وجود کی وسعت کا انداز کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر جاوید اکرم کا گھر ان کے ذوق جمال کا عکاس تھا اور حسنِ انتظام ان کی انتظامی صلاحیتوں کا کھلا ثبوت کہ آنے والوں کے لیے شرکت بلا شبہ اعزاز سے کم نہ تھی۔تقریب اتنی پروقار تھی کہ پنجاب کی 35 جامعات کے سربراہان یہاں اپنی اپنی شریک حیات کے ساتھ اعتماد اور محبت سے کھنچے چلے آئے،ایسا لگ رہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم محض ایک پیشہ نہیں اس سے وابستہ لوگ ایک فیملی ہیں۔ 
جامعات کے سربراہان کو داد دینے کے لیے ممتاز تجزیہ نگار و اینکر سہیل وڑائچ، سینئر صحافی سجاد میر، جوان فکر اینکر حبیب اکرم، تعلیم دوست کالم نگار نعیم مسعود، ڈی جی پی آر کے  ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع ایم این اے چوہدری جعفر اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق بھی پیش پیش تھے۔ 
شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات  ڈاکٹر ضیاء القیوم جس گرمجوشی اور محبت سے مہمانوں کو ’جی آیاں نوں‘کہنے میں مصروف عمل تھے اسے دیکھ کر مجھے مدر ٹریسا کی یہ بات یاد آرہی تھی کہ ”اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس کو کتنا کم یا کتنا زیادہ دے رہے ہیں بلکہ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم جو کچھ دے رہے ہیں اس دینے میں ہماری محبت کس قدر شامل ہے“۔ 
ستارہئ امتیاز کے حامل مہمانان گرامی پنڈال میں آئے تو ایسے ہی تھا جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آ جائے۔ عالموں کی آمد سے شب بھی منور ہو گئی۔ جس کو بھی مبارک دی جاتی وہ عجز و انکساری کا پیکر بن جاتا۔اور برملا کہہ دیتا یہ میرا نہیں میرے شعبے کا اعزاز ہے، یہ ہائر ایجوکیشن کے لیے افتخار کی بات ہے۔ کارکردگی، محنت،ریاضت اور کاوش کے شجر پر پھل ضرور آتا ہے اور ایسے موقعوں پر لوگ ثمر دار درخت یافرد کی طرف اشارہ کر کے ضرور کہتے ہیں کہ 
؎  دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے  
دانہ زمین کی تہہ دار گہرائیوں اور اندھے غاروں میں سفر کر کے کس طرح زمین کا سینہ چیر کر باہر آتا ہے، یہ دانہ ہی جانتا ہے مگر اس کی ذات میں اپنے آپ کو دکھانے اور ذات کااظہار کرنے کے لیے جس ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد، ڈاکٹر ارشد علی، ڈاکٹر محمد علی شاہ یا ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کو تحقیق و تعلیم کے میدان میں کتنی جان مارنا پڑی اس کا اندازہ شاید دور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود یہ سارے تشکر و عاجزی کا جو مظاہرہ کر رہے تھے اس سے نوبل انعام دینے کی وہ تقریب ضرور یاد آرہی تھی جس میں عظیم امریکی ادیب ولیم فاکنر کو نوبل انعام ملا تھا، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ انعام وصول کرنے سویڈن گیا تو اس نے کہا ”یہ انعام مجھے نہیں میرے کام کو دیا گیا ہے“اسی خیال سے میں آگے بڑھا مگر درویش منش چیئر مین HEC ڈاکٹر مختار احمد سے پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا کہ آپ کو یہ ستارہئ امتیاز کیوں ملا……؟  بہت سے لوگ مصروف عمل ہیں تو پھر سرکاری انتخاب آپ کیوں؟ تاہم میں نے یہی سوال پاس بیٹھے محترم ڈاکٹر ضیاء القیوم سے ذرا بدل کر پوچھ لیا کہ ان لوگوں کی امتیازی صفت کیا ہے جو باقی لوگوں میں کم ہے۔ ان کی کونسی کرامت ہے کہ انہیں یہ اعزاز ملا ہے؟ ڈاکٹر ضیاء القیوم مسکرائے اور بولے کہ ایک عربی مقولہ ہے ”الاستقامۃ فوق الکرامۃ“ یعنی استقامت کرامت سے بھی اوپر ہے۔ یہ استقامت والے لوگ ہیں یہ کام اور محنت کرتے نہیں ہیں کئی عشروں سے کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔  میں ضیائے دانش گاہ گجرات کی بات سن کر چپ ہو گیا اور میرے ذہن میں بنجمن ڈزرائیلی کا یہ قول مچلنے لگا کہ ”زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہے جو بہترین معلومات رکھتا ہو“۔  

ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے اپنے انداز میں مہمانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسی تقریبات کو اعلیٰ تعلیم کے غیر رسمی تعلقات سے تعبیر کرنا چاہیے جہاں نئی روایات جنم لیتی ہیں۔ محترم سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ تقریب دیگر سربراہان جامعات کے لیے بھی امید افزاء ہے اور پھر غیر رسمی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے تعمیری و تطہیری پہلوؤں پر کھل کر گفتگو نئے اعزازات کے لیے راستہ ہموار کرنے کا موجب ہو گی۔ سینئر صحافی سجاد میر نے مبارکباد دی اور کہا کہ اتنے بڑے بڑے عالموں، محققوں بلکہ استادوں کے استادوں کی محفل میں آنا خوشی کی بات ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری تحقیق کو جدت و اختراع کے ساتھ ساتھ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے۔ اینکر حبیب اکرم نے کہا کہ میں نے تو دوران تعلیم مشکل سے اپنے وائس چانسلر کو قریب سے دیکھا تھا جبکہ آج اتنے زیادہ وائس چانسلرز کی موجودگی میں خوش اور حیران ہوں او رموقع غنیمت جان کر چیئر مین HEC سے گذارش کروں گا کہ قومی زبان کے نفاذ کے لیے اعلیٰ تعلیم میں قومی زبان کے کردار پر بھی بھرپور کام کیا جائے۔ تمغہئ امتیاز کے حامل ڈاکٹر محمد علی شاہ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو عیاں ہو رہا تھا کہ دنیا کے اعزازات اس پر جوش شخص پر واری واری جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ٹھنڈ ااور متوازن رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی سائنسی تحقیق کی گرمی کو ان کی صوفیاء کے کلام سے محبت ٹھنڈا رکھتی ہے،وہ مٹی کی خوشبو سے رچی بسی پاکستانی فکر کے علمبردار ہیں وہ کامل درویش کی طرح شکریہ ادا کر رہے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن سے اس کے عظیم اور ناقابل فراموش کارناموں کے بارے میں کسی نے پوچھاتو اس نے ایک ہی بات کہی تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اظہار محبت کرتا تھا اسی لیے زندگی نے بھی اپنے تمام راز آئن سٹائن پرافشاکردیئے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی یہ خوبی آئن سٹائن سے ہی مماثلت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد اپنی درویشی اور شیریں گفتگو اور متانت کے باعث جانِ محفل نظر آرہے تھے۔ ہر ایک ان کے گرد جمع ہو کر ان سے دعائیں ضرور لیتا۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓنے ایک بار فرمایا،وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بنا سکیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہو تو وہ ان میں انہی کے ایک شخص کی طرح رہے، او رجب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہو، یعنی اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیر وہ لوگوں کے درمیان عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لے، مگر اسی کے ساتھ وہ اتنا بے نفس ہو کہ اسے عہدہ پر بٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو، اس کے باوجود لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی۔ اسی تعریب کا کرشمہ میں نے اس شامِ اعزاز میں دیکھا۔ مجھے لگا کہ اختیار کو مختار سے نسبت یونہی نہیں ہو گئی، فضّلِ ربی ضرور ہے اور بے وجہ بھی نہیں ہے وہ بلا شبہ ستاروں کی اس محفل میں چودھویں کے چاندکی طرح تھے۔ 
مجھے خوشی ہے کہ جس لمحہ ان اعزازات پانے والی ہستیوں کی ستائش کی جا رہی تھی،میں لفظوں کی مالا لیے ان کے ساتھ کھڑا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ رب العالمین! امتیاز کے حامل ان ماہرین تعلیم کی روح اور دل کو سکون و راحت نصیب کرے۔ 
یہ تقریب ’ہیروورشپ‘کی نہیں تاریخی شعور کی عکاس تھی۔تاریخی شعور ہی ہے کہ جس میں ماضی اور حال کا وجدان دونوں شامل ہیں۔ تاریخی شعور انسان کو اپنے عہد کے ساتھ سانس لیتے انسانوں کی ہڈیوں میں موجود محبت کے ذروں کو لفظ اور احترام میں سمو دینے کا حوصلہ بخشتا ہے اور یہی فکر ہمیں اپنے ہم عصروں، وقت اور زمانے کا احساس دلاتی ہے اور پھر لوگ اور گروہ حسد کرنے کی بجائے رشک کرنے کی راہ پر بامراد ٹھہرتے ہیں۔ یہ شامِ اعزاز نوید دے رہی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کی اگواکاری کا فریضہ تاریخی شعورکے حامل رشک کرنے والے مثبت فکر لوگوں کے کاندھوں پر ہے جو اس قوم کے لیے روشن مستقبل کی ضامن اچھی خبر ہے۔  


بدھ، 4 مئی، 2016

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم کا کردار اور امکانات

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم 
کا کردار اور امکانات 


ممتاز ماہر سیاسیات ہیرالڈ لاسکی کا ایک مضمون"The Obsolescence of Federalism"   ء میں شائع ہوا جس میں اس نے اعلان کیا تھا کہ ”وفاقیت کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا“ اور نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت اپنی روایتی ہیئت،وظائف کی حد بندی، غیر لچک پذیری اور فطری قدامت پسندی کے باعث زندگی کی اس رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتی جسے سرمایہ داری جیسے دیو قامت نظام نے پروان چڑھایا ہے لہذا اب غیر مرکزیت والی واحدانی حکومت بیسویں صدی کے درمیان کے حالات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس کے باوجود وہ مسائل جو وفاقیت کے لیے الجھن کا باعث ہیں اور وہ مسائل جو وفاقی نظام میں از خود موجود ہیں، انہیں جاننے کے باوجود دنیا نے وفاقی نظام کو نہ صرف زندہ رکھا ہے بلکہ اس نے ترقی پذیر ملکوں میں مقبولیت بھی حاصل کی ہے۔ 
آج بھی دنیا کی آبادی کا چالیس فیصد حصہ وفاقی ممالک میں رہتا ہے وفاقی نظام ہائے حکومت کے حامل 28 ممالک میں حیرت انگیز کثیر جہتی پائی جاتی ہے ان میں نہ صرف دنیا کے متمول ترین ممالک جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ بلکہ مائکرونیشیا اور سینٹ کٹس اور نیوس جیسی مختصر جزیریاتی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ دنیا کے دس گنجان ترین ممالک میں سے چھ اور رقبے کے اعتبار سے دس بڑے ممالک میں سے آٹھ وفاقی ہیں۔سر آئیور جیننگز نے کہا تھا کہ ”کوئی بھی وفاقی نظام نظام کو نہ اپناتا، اگر وہ اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا“۔ دنیا میں اس وقت وفاقیت ہی بڑھتی ہوئی مقبولیت حاصل نہیں کر رہی بلکہ اس کے مآخذوں، بنیادوں اور خصوصیات کو سمجھنا بھی اہم گیا ہے۔ 
پاکستان بھی ایک وفاقی ملک ہے، کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں وفاقی نظام اچھے طریقے سے کام نہیں کر سکا کیونکہ مرکز گریز قوتوں اور مرکز مائل قوتوں میں توازن نہیں رہا۔ یہاں نظام اور مزاج کا رجحان مرکزیت کی طرف تھا جس سے و فاقی اور علاقائی عدم توازن پیدا ہوا۔ اس کے باوجود اٹھارویں آئینی ترمیم اس سفر میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی کوکھ سے جمہوری اور شراکتی وفاقیت کے استحکام کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ لیونگسٹن نے عمرانی نقطعہئ نظر سے وفاقیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقیت کی اصل روح اس کی دستوری اور اداراتی ساخت میں نہیں بلکہ خود معاشرے میں موجود ہوتی ہے۔ وفاقی حکومتیں اور وفاقی دساتیر کچھ محرکات کے جواب میں وجود میں آتے ہیں، چنانچہ یہ نظام شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان مسائل کو حل کر سکے جو ان محرکات کے ترجمان اور نمائندہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں جمہوری وفاقیت کو شعوری طور پر اپنانے اور اس کے فروغ کے لیے علمی مکالمہ ناگذیر ہے۔اس حوالے سے پاکستان کی نامور جامعہ گجرات اپنے کردار کے حوالے سے قومی دانش گاہ کا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ حسب روایت حساس آئینی اور اہم قومی مسئلے سے نسل نو کو آگاہ کرنے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کی وژنری اور محب وطن قیادت نے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ شعبہ ئسیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام تقریب میں قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی میاں عطاء ربانی کے دانشور صاحبزادے وفاق کے نمائندہ ادارے سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کو موضوع پر گفتگو کے لیے مدعو کیا سابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری قمر زمان کائرہ، ایم پی اے میجر معین نواز اور چوہدری شبیر احمد،ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علم دوست وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے سینئر سٹاف کے ہمراہ مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ 

دانش گاہیں وہ ہوتی ہیں جنہیں دانشوروں کی میزبانی کا شرف حاصل ہو،جامعہ گجرات میں قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر دانشوروں کی آمد کی روایت پختہ اور قابل تحسین ہے۔پاک سرزمین کو شاد باد رکھنا اور منزلِ مرادتک پہنچانا جن کی ذمہ داری تھی وہ پروڈا، اورایبڈو جیسے قوانین کا رزق ہو گئے، قومی یکجہتی کی علامت قیادت کے حوالے سے قحط الرجال کے اس دور میں کہیں کہیں اُمید کے کچھ جزیر ے ہیں جہاں سے وفاقیت کے کچھ علمبردار ہر تاریک رات میں اپنے عہد کا دیا جلا کر راہبری کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ ان آشفتہ سروں کی کاوشیں ہیں کہ بلوچستان کی محرومی کا تریاق ہو چلا ہے، ڈرون کی جنگ اپنے انجام کو پہنچی ہے اور سب سے بڑھ کر۔۔۔کوئی ایسا بھی ہے جو زمیں زاد ہے، رضا ربانی جیسے سنجیدہ فکر پاکستانی نہ صرف جمہور کی اُمید ہیں بلکہ جمہوریت کی آس بھی ہیں۔ ان کی آمد سے تقریب میں پاکستانیت اور وفاقیت کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ صدر ِ شعبہئ سیاسیات ڈاکٹر مشتاق احمد نے اختصار و جامعیت سے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ وفاق اور وفاقیت کا تعارف کروایا۔ گلگت  بلتستان کے سابق گورنر چوہدری قمر زمان کائرہ جو تکلم کی جولانی اور گفتگو کی روانی کے حوالے سے شہرت عام رکھتے ہیں اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نے پاکستان میں صوبوں، اکائیوں اور مرکز کے درمیان تناؤ کم کرکے اعتماد کی فضا کو بحال کیا ہے۔ پاکستان قائدا عظم کے وفاقیت پر کامل یقین کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ غیر متوازن قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔ کڑے مرحلے پر رضا ربانی نے بطور چیئرمین کمیٹی وفاقیت کے استحکام کے لیے اکائیوں کو بہت کچھ لوٹا یا،ہماری قومی سیاسی اور آئینی تاریخ میں ان کا اجتہادی کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اپنے خصوصی خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی ممالک کے پاس حکومتوں کے درمیان بڑی حد تک باہمی انحصاری ہوتی ہے۔ سیاستدان، سرکاری ملازمین، شہری اور دیگر حصے دار اپنے اپنے دائروں میں نتائج پر کس طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہ چیز ایک وفاق کی سیاسی زندگی کے قلب تک جاتی ہے۔ وہ جمہوریتیں اور وفاقی نظام جن کو یکجہتی کے چیلنج کا سامنا ہو، ایک مثبت سیاسی قومیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وفاقیت کی طرف بتدریج بڑھتا ہوا رُحجان جمہوری انتظام کاری کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اُبھرا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ابھی بڑی تگ و دو کی ضرورت ہے۔ عوام اور اکائیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست پاکستان کا استحکام ہے۔ ہماری تہذیب اور ریاست مختلف صوبوں  سے جنم لیتی ہے۔ اُنہوں نے قائد اعظم کی حصولِ پاکستان کی جدوجہدکے تصور اور 11اگست1947ء کی پالیسی ساز تقریر سے وفاقِ پاکستان کی روح کو کشید کیا اور بتایا کہ تاریخ پاکستان میں اتحاد و اختلاف کے مستقبل بدلتے ہوئے دباؤ کے مقابل پاکستان میں وفاقی نظام ایک انتہا سے دوسری انتہا تک ڈانواں ڈول رہا، غیر متوان قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔ مرکزیت پسند حکومتیں قومی یکجہتی کا شعور بیدار نہ کر سکیں۔ ایسے میں اٹھارویں ترمیم خاصی اہمیت کی حامل ہے اس نے اکائیوں کو ان کے اصل مقام سے آگاہ کیا اور صوبائی خود مختاری کے تکنیکی اور آئینی معاملات پر سے گرد صاف کر دی گئی۔ صدرِ محفل ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ وفاقیت ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے متفرق لسانی اور ثقافتی گروہوں کو ایک عمومی مرکزی حکومت کے تحت متحد کرکے اتحاد و اختلاف کی متصادم قوتوں کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ کثیر نسلی اور کثیر اللسانی معاشرے ہی وفاقی ہوتے ہیں پاکستان کا معاشرہ وفاق کی خصوصیات کا حامل ہے۔ بانیان پاکستان کے تفکر میں وفاقی نظام وہ واحد ممکن العمل طریقہ کار تھا جس کے ذریعے اتحاد اور اختلاف کے متصادم دباؤوں کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکتا تھا۔ اتحاد یا اختلاف کی قوتیں جیسی بھی ہوں ان کو مناسب طور پر متوازن ہونا چاہیے تاکہ نظام چلتا رہے یہ ایک نازک معاملہ ہے، لیکن رضاربانی جیسے اٹھارویں ترمیم کے تخلیق کاروں نے پاکستان میں وفاقیت کو مرکزیت میں بدلنے سے روکنے کے لیے تاریخ ساز کردار ادا کیا، اٹھارویں ترمیم کی کوکھ سے مستحکم وفاق اور خوشحال پاکستان کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نسل نو تک اس روشنی کو پہنچائیں اور انہیں حقیقی جمہوری و وفاقی اقدار سے روشناس کرائیں۔ جامعات اس حوالے سے مثبت اور متحرک کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جامعہ گجرات قومی ذمہ داریوں سے آگاہ دانش گاہ ہے ہم اس حوالے سے پاکستانیت کے تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔ سوال و جواب کے فکر انگیز سیشن نے نئے سوالات اُٹھائے اور مہمان مقرر نے بھرپور جواب دئیے۔ سوال و جواب کی اُلجھنوں میں پاکستان میں جمہوری وفاقیت کی گتھی سلجھتی ہوئی دکھائی دینے لگی تو پنڈال پر زور تالیوں سے گونج اُٹھا۔ 
ٍ تکثیری معاشرے میں چھوٹی اکائیوں کا بڑے صوبوں سے خائف رہنا کوئی غیر معمولی مظہر نہیں یہ احساس کینیڈا و بھارت سمیت تمام وفاقی معاشروں میں مختلف درجوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ احساس نظام کے استحکام کے لیے اس وقت خطرہ بن جاتا ہے جب چھوٹے علاقوں کے شکوک و شہبات اور بے اعتمادی ایک زبردست عدم تحفظ کے احساس میں تبدیل ہو جائے۔ پاکستان میں وفاقیت کی ڈولتی کشتی کو پار لگانے کے لیے اٹھارویں ترمیم اہم موڑ ہے اس سے نئے امکانات اُبھر کر روشن مستقبل کی اُمید کو جنم دے رہے ہیں۔ بلاشہ ہمارے ہاں جمہوری وفاقیت عمدگی سے کام نہیں کر سکی یاا سے ٹھیک طرح سے کام کرنے نہیں دیا گیا، اس سے نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ وفاقیت ملک کے لیے موزوں نہیں۔ پاکستان میں وفاقی معاشرہ اپنے شدید ثقافتی و لسانی اختلافات کے ساتھ موجود ہے اس کے لیے جمہوری وفاق کا فروغ ناگذیر ہے حقیقی وفاق اور خالص جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام اس معاشرے کی بقا کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے وا ہونے والے نئے امکانات کو پروان چڑھانے کے لیے ساز گار حالات پیدا اور فراہم کیے جائیں جو اس کے کامیاب عمل درآمد کے لیے ممدو معاون اور لازمی ہیں۔ 



منگل، 3 مئی، 2016

قوانین کا اُردو ترجمہ:نفاذِ اُردو کی جانب اہم قدم


کوئی قوم اپنے نظام عدل اور معاشرتی انصاف کے تصور کو اس وقت تک بامعنی اور مفید نہیں بنا سکتی جب تک عام آدمی اپنے حقوق کے شعور اور اپنے فرائض کے فہم سے پوری طرح ہمکنار نہیں ہو جاتا۔ چونکہ پاکستانی قوانین کی زبان انگریزی رہی ہے اس لیے کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے قانون کا فہم ہمیشہ ہی ناممکن رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ نے اُردو کے بطور قومی زبان نفاذ کے حوالے سے اپنے فیصلے میں اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”عدالتی کاروائی کی سماعت میں اکثر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنت شاقہ اور کئی بے نوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہے اور اکثر فاضل وکلاء اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کہ درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی پیچیدہ اور ناقابل فہم ہو جاتے ہیں۔ یہ فنی پیچیدگی تو اپنی جگہ مگر آئین کے آرٹیکل251کے عدم نفاذ کا ایک پہلو اس سے بھی کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ہمارا آئین پاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکمران جب ان سے مخاطب ہوں تو ایک پرائی زبان میں نہیں بلکہ قومی یا صوبائی زبان میں گفتگو کریں۔ یہ نہ صرف عزت نفس کا معاملہ ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور دستور کا تقاضا بھی ہے ایک غیر ملکی زبان میں لوگوں پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں، یہ سامراجیت کا ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے“۔ عدالت عظمیٰ پاکستان نے اپنے تاریخ ساز فیصلے کے ذریعے اُردو کے بطور قومی زبان نافذ العمل کرنے کے احکامات جاری کیے تو حکومتِ پنجاب نے خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی قیادت میں بروقت قد م اُٹھاتے ہوئے، قانون تک عام آدمی کی رسائی کے لیے قوانین کے اُردو ترجمے کا فیصلہ کیا،چنانچہ حکومت پنجاب کی وزرات قانون و پارلیمانی اُمور نے فیصلہ کیا کہ قوانین کامعیاری، درست اور قابل فہم ترجمہ کروایا جائے۔ سیکرٹری قانون و پارلیمانی اُمور ڈاکٹرابو الحسن نجمی جیسے زیرک، مستعد اور محنتی شخص نے اس کام کو انجام دینے کے لیے گہری دلچسپی اور لگن کا اظہار کیا۔ ان کی ٹیم ایڈیشنل سیکرٹری فضل عباس رانا اور ڈپٹی سیکرٹری طارق علی نے تگ و دو اور کھری کاوشوں سے اس کا انتظام مکمل کیا اور پھر ایک ٹینڈر کے ذریعے اس کام کی تکمیل کے لیے میرٹ اور صرف میرٹ پر قرعہ فال یونیورسٹی آف گجرات کے نام نکلا۔ قوانین کے اُردو ترجمے کے لیے پہلے پندرہ ہزار صفحات پر کام کے آغازکے لیے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ اور شعبہئ قانون کے درمیان قومی تقاضے کے حامل معاہدے پر دستخطوں کی پُروقار تقریب دانش گاہ گجرات کے قائد اعظم آڈیٹوریم میں منعقدہوئی۔ تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم، سیکرٹری قانون پنجاب ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر محمد لطیف، اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بھگیو، سنیئر صحافی سجاد میر، حبیب اکرم اور ڈاکٹر اسلم ڈوگر، کمشنر انکم ٹیکس لاہور خالد محمود خاں، مشینی ترجمہ کے ماہر ڈاکٹر سرمد حسین، نامور سفارت کار و مترجم توحید احمد، مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر سعادت سعید،ڈائریکٹر لاء فیڈرل لاء منسٹری شیربابر خاں سمیت ادب، صحافت، سیاست اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شرکاء میں شامل تھیں۔ صدر مرکز السنہ و علوم ترجمہ جامعہ گجرات نے دھیمے مزاج سے پختہ عزم کا اظہار اور معاہدے کی تفصیلات جس طرح بیان کیں اس سے واضح تھا کہ ترجمے کا کام جذبے اور عشق کا کام ہے بلاشبہ محنت اور محبت کے امتزاج کی حامل ریاضت ہی ڈاکٹر غلام علی اور ان کے مترجمین کی ٹیم کا نمایاں وصف ہے۔ شیخ الجامعہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے برملا اعلان کیا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس عظیم قومی خدمت کی ادائیگی کے لیے قرعہئ فال جامعہ گجرات کے نام نکلا ہے۔ قوانین کے اُردو ترجمے کی ذمہ داری سونپے جانا حکومت پنجاب کی جانب سے اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ جامعہ اپنی قومی، سماجی اور علمی ذمہ داریوں سے پوری طرح آشنا ہے۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم نے مزید وضاحت کی کہ ہم جامعات کے سماجی کردار کے حوالے سے ایک واضح تصور رکھتے ہیں۔ جامعات ہی وہ ادارے ہیں جہاں قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرمحمد لطیف نے زور دیا کہ قوانین کو ہمیشہ عوام ہی کی زبان میں مدون ہونا چاہیے۔چیئرمین اکادمی ادبیات اسلام آباد ڈاکٹر قاسم بھگیونے فراخدلی سے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی حامی بھری۔دانشورصحافی سجاد میر نے کہا کہ اپنی زبان سے دوری دراصل حقائق پر پردہ ڈالنے کا نام ہے۔ ترجمہ عظمت و توقیر کا نام ہے۔ حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں اور قوانین کے قومی زبان میں معیاری تراجم وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ڈاکٹر سرمد حسین نے وضاحت کی کہ ترجمہ مشکل اور تخلیقی کام ہے قوانین کے اُردو ترجمہ کے سلسلے میں تقریباً دس لاکھ الفاظ کا ترجمہ کیا جائے گا اس کے لیے مشینی ترجمہ کی مدد ضروری ہے۔ 
ڈاکٹر سید ابو الحسن نجمی سیکرٹری لاء پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ قوانین کے اطلاق کے لیے عوامی شعور ضروری امر ہے او ر عوامی شعور اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب قوانین کی تدوین عوام الناس کی اپنی زبان میں ہو۔ قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ قوانین کے تراجم میں معیار اور ترجمہ کا یکساں ہونا ضروری ہے۔ قوانین کے ترجمہ کے سلسلہ میں یونیورسٹی آف گجرات کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء القیوم اورسربراہ مرکز السنہ و علوم ترجمہ ڈاکٹر غلام علی اور ان کی ٹیم کی نیک نیتی، حب الوطنی، قومی زبان سے محبت اور اس کارِ خیر کے لیے سنجیدہ کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ شعبہئ قانون پنجاب نے ترجمے کے لیے جامعہ گجرات کے جس مرکز  CeLTSکا انتخاب کیا اس کا خاص وصف یہی ہے کہ یہ پاکستان میں علوم ترجمہ کا پہلا مرکز ہے جہاں علوم ترجمہ کے حوالے سے بی ایس اور ایم فل سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سے قبل یہ کئی معیاری تراجم کر چکا ہے۔ اس مرکز سے بین الاقوامی معیار کا تحقیقی جریدہPJLTSشائع ہوتا ہے جو HECکا منظور شدہ ہے۔ اسی شعبے سے کثیر الکسانی مجلہ ”مترجم“ بھی شائع ہوتا ہے۔ ایسے ہی کئی کارنامے مختصر مدت میں اس مرکز کے ماتھے پر سجے ہیں۔ مختصر مگر کارکردگی سے بھری تاریخ کے حاملCeLTSجامعہ گجرات کو حکومت پنجاب نے کھلے مقابلے میں ترجمے کے لیے موزوں ترین ادارہ قرار دیا ہے۔ گوئٹے نے کہا تھا کہ جملہ اُمور عالم میں جو سرگرمیاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل اور قدروقیمت رکھتی ہیں، ان میں ترجمہ بھی شامل ہے۔تقریب کے آخر میں جامعہ گجرات اور حکومت پنجاب کے شعبہئ قانون و پارلیمانی اُمور کے درمیان معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر ضیاء القیوم اور سیکرٹری قانون ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی نے دستخط کیے، دستاویزات کا تبادلہ ہوا تو حاضرین کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا کسی کی زبان نہیں تھی۔ برصغیر میں آریاؤں نے قانون کو سنکرت کے حصار میں محدود کر دیا۔ انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ کے زیر سایہ ہماری مقامی اور قومی زبان کی تحقیر کا نیا دورشروع ہوا اور آج تک مسلط ہے۔ انگریزی زبان نے طبقاتی تفریق کی نئی خلیج پیدا کی۔ تا ہم آئین پاکستان جو ہمارے سیاسی اور تہذیبی شعور کا علمبردار ہے، اس کے آرٹیکل251اور آرٹیکل28میں محکمومانہ سوچ کو خیر باد کہہ دیا گیا۔ اس سلسلے میں اُردو کے قومی زبان کے طور پر نفاذ کے لیے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عدالت نے شعبہ ئ ترجمہ بھی قائم کیا ہے۔ مختصراً یہی کہ یہ ہماری پسند یا نا پسند کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ہماری تن آسانی کا بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اُردو کو بطور سرکاری زبان یقینی بنایا جائے اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی جائے۔ میری بلکہ پوری قوم کی دُعائیں یونیورسٹی آف گجرات کے ساتھ ہیں جس نے اس آئینی تقاضے کی تکمیل کے لیے قومی دانش گاہ کا فریضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شعبہ علوم ترجمہ اس قوم کے تہذیبی، سیاسی اور قانونی شعور کی نشاۃ ثانیہ کے لیے قابل فخر کام کر رہا ہے۔ قوانین کا اُردوترجمہ ہمارے آئین  اورپاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ قوانین کا اُردو ترجمہ عوام کی منشاء کا اظہار ہے۔