سوموار، 17 اگست، 2015

مستقبل کا پاکستان اور یونیورسٹی آف گجرات



زندگی کا عمومی تجربہ یہ ہے کہ چیزیں جتنے فاصلے پر ہوتی ہیں، اتنی ہی چھوٹی نظر آتی ہیں، تاہم تاریخ کا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ شخصیات اور واقعات سے فاصلہ جتنا بڑھتا جاتا ہے ، وہ اتنے ہی نمایاں ہوتے جاتے ہیں، عہد جدید کے ہنگامہ بکف اور تغیر آشنا منظر پر پاکستان اور پاکستانیت ایک نئے ڈھنگ سے ظاہر ہو رہی ہے، جو لوگ پاکستانیت کے اس تجربے میں شامل ہیں انہیں ابھی واقعات کے بہاﺅ میں جنم لیتی ہوئی نئی تقدیر کے خدوخال کا شاید پورا ادراک نہ ہو ، لیکن یہ احساس بہرحال عام ہے کہ ملت اسلامیہ میں کسی نہ کسی سطح پر ایک نئی لہر حیات پیدا ہوئی ہے ۔ پاکستانیت کے اس نئے احساس میں اپنی شناخت پانے کی حیرت بھی ہے اور اضطراب سے پیدا ہونے والا خوف بھی۔ 68 سالہ تاریخ کا حامل پاکستان، نظریاتی و عملی الجھاﺅ کا شکار رہنے کے بعد دہشت گردی کے خون آلود عشرے سے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے ا ور اس منظر نامے پر آج کا پاکستان مذکورہ حیرت اور خوف کے درمیان ایک ایسی بستی ہے جہاں آواز اذاں کی گونج میں نگاہیں افق پر ایک نئی صبح کا منظر ڈھونڈ رہی ہیں۔ وہ صبح جو پاکستان کا خواب بھی ہے اور اس کی تقدیر بھی۔ 
اس تناظر میں ظہور پاکستان کی جدوجہد کا عمیق جائزہ لیں تو اس کے باطن میں ایک علمی تقاضا بھی پوشیدہ نظر آتا ہے، جسے پورا کیے بغیر اس کے وجود اور اس کی حرکت تاریخ کو سمجھنا ممکن نہیں۔ اقوام کے سفر تاریخ میں ہر مرحلے پر کوئی نہ کوئی سوال ایسا ہوتا ہے جس سے محدود تناظر میں ہی سہی پوری معنویت اور اس کی سمت سفر وابستہ ہوتی ہے۔ تاریخ دراصل ایسے ہی سوالوں کی دریافت، ان کے درست جواب کی تلاش یا ان سے انحراف کی کوشش کا ایک مسلسل رزمیہ ہے ۔ سوالوں کی انسانی کائنات میں یہ درمیدگی ہی دراصل انسانی معنویت کو زمانے کے دھارے میں مختلف مکانی تہذیبوں کے سانچے میں دریافت کرتے جانے یا اسے برقرار رکھنے کی صورت ہے۔ 
فکری و نظری انگڑائی کے ساتھ ہم نے 2015 کا جشن آزادی منایا، آزادی کا جشن محض مسرت و افتخار کا تقاضا ہی نہیں کرتا بلکہ زندہ قوموں میں ایسے روشن دنوں کی یاد تجدید عہد اور خود احتسابی کے لمحات کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یونیورسٹی آف گجرات جو اپنے متحرک فکری و عملی کردار کی بدولت ملک بھر میں ”دانش گاہ گجرات“ کے نام سے پہچانی جاتی ہے اس کی وژنری قیادت نے ایک بار پھر پاکستانیت کے خیال افروز تصور کا دیا روشن کیا اور اسے قومی تاریخ کی منڈیر پر رکھ دیا تاکہ ترقی و خوشحالی کے مسافروں کی راہ روشن کرنے میں اپنا قومی کردار ادا کر سکے۔ گذشتہ کئی عشروں سے عام پاکستانی بگڑتے سنورتے حالات کی کشمکش میں یہ سوال بلند آواز دہرانے لگے ہیں کہ وطن نے انہیں کیا دیا ہے ؟ ہماری شخصی حرمت اور اجتماعی شوکت کا خواب کا بوس کیونکر ہوا؟ ایسے ہی کئی سوال چیلنج بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور نئی نسلوں میں مایوسی بانٹ رہے ہیں ۔
اس گھمبیر صورتحال میں پاکستانی سماج فہم کے بحران کا شکار ہو کر عدم اطمینان کا لقمہ بنا ہوا ہے ۔ ایسے میں جامعہ گجرات کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے جشن آزادی کی تقریبات کو غنیمت جانتے ہوئے اسے محض رسمی طور پر منانے کی بجائے کھلی آنکھوں ، کھلے ذہنوں اور کھلے دلوں کے ساتھ منانے کی نہ صرف ہدایات جاری کیں بلکہ اس کی راہنمائی کا بھرپور فریضہ بھی انجام دیا۔ یونیورسٹیوں کا اصل کام ہی طالبعلموں کی سوچ، فکر اور شخصیت کی تعمیر ہے۔ تحقیق و تجسٍس کے تناظر میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کامل حب الوطنی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بر ملا اعلان کیا کہ: 
جب بھی دیکھئے وطن سے یہی گلہ 
وطن سے یہ نہیں ملا، وطن سے وہ نہیں ملا 
کوئی ایسا نہیں جو یہ بھی کہہ دے 
وطن کو تو نے کیا دیا ، وطن کو میں نے کیا دیا 
اور پھر جامعہ گجرات میں تمام تقریبات کا بنیادی تصور ہی یہ رہا کہ ’ہم نے وطن کو کیا دیا ہے ‘ اسی تصور پر جامعہ گجرات میں اساتذہ، طالبعلموں اور سٹاف میں فکر انگیز مکالمے کا آغاز ہوا، یکم اگست سے ہی یونیورسٹی آف گجرات کی تمام تر کاروائیوں میں ”وطن کو ہم نے کیا دیا“ فکری و عملی طور پر ایک تحریک کی حیثیت اختیار کر گیا ۔ جامعہ گجرات کی اجتماعی دانش نے پاکستانی سماج کو نئی رفعتوں سے آشنائی دینے کے لیے طالبعلموں کو ہم آواز بنایا۔ یونیورسٹی آف گجرات کے ڈائریکٹوریٹ آف پریس ، میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز اور ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس سروسز سنٹر نے باہمی اشتراک سے کئی تقریبات کا اہتمام کیا۔ طالبعلموں کے لےے فکری مباحثوں اور مکالموں کا اہتمام کیا گیا ۔ شعبہ ¿ ابلاغ عامہ میںریڈیو ایف ایم 106.6 کیمپس وائس سے فکری راہنمائی کے لیے کئی پروگرام خصوصی طور پر ترتیب دیئے گئے اور نشر کیے گئے۔ ان پروگراموں میں دیدہ ور ماہر تعلیم وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے ملکی حالات ، معاشی اور معاشرتی مسائل پر اٹھنے والے سوالات کے فکر انگیز جوابات سے جامعہ گجرات میں پاکستانیت کی ایک پوری فضا قائم کر دی اور کہا کہ ننگ، بھوک، افلاس، ناخواندگی کے عذاب تو ہمارے پرکھوں کے لیے بھی اجنبی نہیں تھے، لیکن ایسا تھا کہ انہیں فروغ گلشن و صوت ہزار کے کسی موسم کا خواب زندہ رکھتا تھا۔ ہمارے خواب کہیں کھو گئے ہیں، ہمارے سینوں میں دفن ہو گئے ہیں.... انہی خوابوں کی دریافت و بازیافت کے لیے 13 اگست کو جامعہ میں ”مقاصد پاکستان: پس منظر و پیش منظر“ کے عنوان سے قومی سیمینار کا انعقاد ممکن بنایا گیا ۔ سنٹر ل لائبریری آڈیٹوریم میں ڈاکٹر مشاہد اللہ اور محمد یعقوب نے سنجیدہ قومی سیمینار کے لیے انتظامات اس محبت سے کیے کہ کوئی ان کے حسن انتظام کی داد دئےے بغیر نہ رہ سکا۔ پاکستان میں پاکستانیت کے نامور استاد پروفیسر فتح محمد ملک ، اجتہادی فکر و دانش کے پیکر ڈاکٹر خالد مسعود، تاریخ کے سینئر استاد ڈاکٹر جاوید حیدر سید اور ادب کے روشن خیال استاد ڈاکٹر سفیر احمد کو ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی صدارت میں مدعو کیا گیا ، مہمانوں کی آمد اور گفتگو سے واضح ہو گیا کہ خواب سینوں میں دفن بھی ہو جائیں تو مرتے نہیں۔ سنجیدہ مکالموں اور خیال افروز تقریروں میں بانی پاکستانی کے قول زریں ”اتحاد ، یقین اور تنظیم“ کی روح منشور کی حیثیت رکھتی تھی۔ حاضرین کے ساتھ سوال و جواب کی طویل اور فکری تڑپ کی حامل نشست حقیقی معنوں میں حاصل سیمینار تھی۔ سیمینار کا لب لباب یہی تھا کہ : 
ظلمت کدہ ¿ غم سے نکلنا سیکھو
تدبیر سے تقدیر بدلنا سیکھو
تاریکی ماحول کا ماتم کب تک 
خواہش ہے تجلی کی تو جلنا سیکھو
چودہ اگست علی الصبح جامعہ کی مسجد میں تمام نمازیوں نے سر بسجود ہو کر نعمت پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور امام جامعہ ڈاکٹر محمد نواز کی پر سوز اور رقعت انگیز دعا میں خصوصی شرکت کی ۔ نمناک آنکھوں سے پاکستان کی سلامتی، بقا اور خوشحالی کے لیے دل کے ارمان دعا و مناجات کا روپ دھار کر فضا میں بکھرے تو فضل ربی کی مہک مسرور کن ہو کر درو دیوار کو روشن کر گئی ۔ ملی نغموں کی صدا نے ماحول کو گرما دیا ۔ پرچم کشائی کی تقریب میں پاکستانیت کے علمبردار او رمبلغ دانشور شیخ الجامعہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم ایڈمن بلاک پہنچے تو اساتذہ، سینئر سٹاف، طالبعلموں بالخصوص طالبات کی بڑی تعداد نے پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ 21 گولوں کی سلامی دی گئی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے پروقار تقریب میں اپنے دست مبارک سے سبز ہلالی پرچم سر بلند کیا تو فضا پاکستان اور قائد اعظم زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ رئیس الجامعہ نے سینئر رفقاءکے ہمراہ پاکستان کی سالگرہ کا کیک کاٹا اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کا سورج خون شہیداں کے افق سے طلوع ہوا ہم سب ان شہداءکے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں اور ان کے خون کو یاد کرتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ ہم محض تقریبات کی بجائے آئندہ سال اس وطن کے لیے اپنے اپنے کارناموں کا تذکرہ کریں انہوں نے کہا اگلے سال جشن آزادی کے موقع پر جامعہ گجرات کے اساتذہ و طالبعلموں کی پاکستانیت سے کمٹمنٹ کے عملی نمونوں کی نمائش کی جائے گی اور یونیورسٹی آف گجرات کے عمل میں پاکستانیت اور بابائے قوم کے فرمودات کی جھلک نظر آئے گی۔ اس یونیورسٹی سے وابستہ ہر فرد اپنی اپنی بساط کے مطابق پاکستان کے لیے کچھ نہ کچھ عملی طور پر کرے گا ۔ طالبعلم اور اساتذہ پاکستان میں تعلیم، تحقیق اور سماجیات کے فروغ کو اپنا نصب العین بنائیں گے اور آئندہ سال پاکستان سے شکوﺅں کی بجائے اپنے حصے کے کام کے اظہار کے سال کے طور پر منایا جائے گا ۔ ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے سماجی ترقی کے حوالے سے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے عملی منصوبوں کا اعلان بھی کیا اور محض نعروں کی بجائے پاکستانیت کی عملی تفسیر بننے کا عہد کیا ۔ تمام حاضرین نے بھی عہد کیا کہ وہ اپنے اپنے شعبے میں محض پاکستان کے لیے آئندہ سال کچھ نہ کچھ نیا ضرور کریں گے ۔ اور آئندہ جشن آزادی حاصلات کے اظہار اور اعلان کا دن ہو گا ۔ 
یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طالبعلم معاشروں کی تقدیر میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ حصول پاکستان کی تحریک میں طالبعلموں نے ہر اول دستے کا کردار اور علی گڑھ نے اہم مرکز کا کردار ادا کیا تھا ۔ آج یونیورسٹی آف گجرات نے اس کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہی جذبہ خوشحال پاکستان کا ضامن ہو گا ۔