جمعرات، 27 نومبر، 2014

"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"

سائنس کا خاتمہ یا احیائے نو 


نیو یارک ٹائمز کے سابق سائنس ایڈیٹرWaidemar Kaempffertنے اپنی کتاب "Exploration In Science"کے آخر میں اپنے تجزیے کا نچوڑبیان کرتے ہوئے صفحہ 279پرلکھا ہے کہ”انسان اس کرہئ ارض پر قریب ایک لاکھ سال سے آباد ہے لیکن اس کے اخلاقی شعور کو بیدار ہوئے صرف پانچ ہزار سال کا عرصہ ہوا ہے۔ اگر نوع انسانی کا صحیح مطالعہ صرف انسان سے کیا جا سکتا ہے تو اس باب میں سائنس ہنوز اپنے دورِ جہالت میں ہے۔وہ ایٹم کے متعلق تو بہت کچھ جانتی ہے لیکن انسان کے متعلق جو کائنات کا سب سے زیادہ دلچسپ اور اہم موضوع ہے بہت کم جانتی ہے۔ سائنس کو ابھی ایک نشاۃِ ثانیہ کی ضرورت ہے، اس کی نمود کے لیے شاید ابھی ایک سو سال درکار ہوں۔ جب ایسا ہوا تو پھر سائنس انسان کی صلاحیتوں اورکمزوریوں کی تحقیق کے لیے کم از کم اتنا وقت تو دے گی جتنا وقت یہ دوائیوں اور پلاسٹک کی تحقیق کے لیے صرف کرتی ہے۔ اب تک سائنس نے انسان کو صرف یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے ماحول کو کس طرح مسخر کر سکتا ہے۔ اس نے ابھی انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے، ایسا کیوں کرتا ہے اور اس کے لیے تسخیر خویش کس طرح ممکن ہے۔“1953ء میں لکھی جانے والی مذکورہ کتاب مجھے گذشتہ روز اس وقت یاد آئی جب میں UOG کے سابق ڈائریکٹر سائنسزعلم دوست محقق و ماہر طبیعات ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی سے ملنے گیا تو معمول کے مطابق خوشگوار مسکراہٹ سے استقبال کرنے کے بعد اُنہوں نے حالات حاضرہ پر گفتگو شروع کر دی۔ ڈاکٹر درانی 4 مئی 1949ء کو ضلع گجرات کے ہی معتبر خانوادے میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور نظریاتی فزکس کے ماہر کے طور پر بڑی جامعات میں خدمات انجام دیں۔ وہ مختلف جامعات سے بطور پروفیسر ڈائریکٹر اور وائس چانسلر منسلک رہے۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں۔ سنجیدہ مزاج اور علمی گفتگو کے رمز شناس ڈاکٹر اعجاز درانی آداب حیات سے آگاہ ہیں اور سائنسی موضوعات کے علاوہ سماجی فلاحی اور سیاست کے نشیب و فراز پر سیر حاصل گفتگو میں مہارت رکھتے ہیں۔  باتوں ہی باتوں میں ڈاکٹر درانی کی نئی کتاب"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"کا تذکرہ ہوا۔ فراخ دل محقق نے اپنی کتاب پیش کی جسے میں نے بصدشکریہ وصول پایا۔ میں سیاسیات و تاریخ کا طالب علم ہوں اسے میری نالائقی کے سوا کیا کہئیے کہ مجھے مادی علوم سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ مگر فوکو ہاما کی کتاب”تاریخ کا خاتمہ“ پر نظر رکھنے والے طالبعلم کے لیے سائنس بالخصوص فزکس کے محقق کی جانب سے ملنے والی کتاب کا عنوان”من گھڑت کہانیاں!سائنس کا خاتمہ اور احیائے نو“ توجہ کا مرکز بن گیا۔ سائنسی تحقیقی اُصولوں اور فزکس کے کُلیئوں سے سجی یہ کتاب انگلستان کے نامور پبلشرMELROSEنے شائع کی ہے۔412صفحات پر مشتمل یہ پیپر بیک کتاب پانچ حصوں فئیری ٹیلز، فیوژن فزکس، سپیس پلازمہ، رئیلٹی سٹڈیز(ٹیررازم)، ہائپر رئیلٹی سٹڈیز(منی میٹرز اینڈ سائیکو فزکس) پر مشتمل ہے جس میں جامع تعارف اور پُر مغزاختتامیے کے علاوہ 34تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ سائنس کے حوالے سے من گھڑت کہانیوں کے ٹائٹل نے ہی چونکا دیا۔ میرے جیسے ”غیر سائنسی“ لوگوں نے تو سُن رکھا ہے کہ سائنس اٹل حقیقتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں پھر ڈاکٹر درانی انہیں افسانوی کیوں کہتے ہیں؟ میری اس اُلجھن کو ریڈنگ یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر جمیز آرنلڈ کروتھرکی کتاب"The Great Design"میں موجود اقتباس نے حل کیا کہ ”نظام ِفطرت اپنی گہری بنیادی سادگی میں اس قدر تحیر انگیز ہے کہ دنیائے سائنس میں کسی موضوع پر حرفِ آخر آخری انسان کے لیے ہی چھوڑ دینا پڑتا ہے۔“خیرڈاکٹر درانی کی کتاب سے یہ تو عیاں ہوتا ہے کہ سائنس کی نشاۃ ثانیہ کی جو تحریک مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شروع ہوئی تھی اس کی بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ڈاکٹر درانی پاکستان میں سوشل فزکس کے حوالے سے لکھنے والے خال خال قلمکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے تحقیق و گیان کے امتزاج کو موضوع قلم بنایا۔ ان کی تحریر یں عمرانی طبیعات کی عکاس ہیں۔ 
سوشل فزکس کی اصطلاح سب سے پہلے بیلجئیم کے ماہر شماریاتAdolphe Queteletنے1835میں استعمال کی۔ اس کی شماریاتی فکر سے فرانسیسی ماہر عمرانیات Agust Comteنے اختلاف کیا۔ اس کے لیےSociologieکی اصطلاح ایجاد کی۔ آگسٹ کومٹے کے مطابق عمرانی طبیعات کی اصطلاح سے مراد معاشرتی قوانین یا سائنس آف سویلائزیشن ہے۔ ا س نے اپنی کتاب"Positive Philoseply"کے حصہ ششم میں لکھا ہے کہSocial physics would complete the scientific description of the world Galileo, Newton and others had begun.ڈاکٹر درانی کی کتاب عمرانی طبیعات کے اس پرانے سفر کا نیا سنگ میل ہے۔ چونکہ نظریاتی فزکس کے حوالے سے ڈاکٹر درانی ماہرین طبیعات کے طے کردہ طرز ِکُہن پر نہیں اڑتے بلکہ اُنہوں نے طبیعاتی علوم کو معاشرتی شعور کے امتزاج سے روحِ عصر سے مطابقت دی ہے۔ عمرانی طبیعات پر لکھنے والے محققین دنیا بھر میں سراہے جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں سائنسی اندازِ فکر سے عاری ”سائنسدان“ اسے بغاوت سمجھتے ہیں۔ کتاب کے اوراق واضح کرتے ہیں کہ مصنف سائنسی علوم میں محض مقلد نہیں سائنس کی روح کے مطابق بدعتی ہیں اسی لیے اُنہوں نے اپنے لیے نئی راہ کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب کے تعارف میں ہی ڈاکٹر درانی نے اپنے مخصوص اسلوب میں روایتی محققین اور تحقیق کے قدیم مکتبہ فکر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور نہ صرف اس حوالے سے سوالات اُٹھائے ہیں بلکہ تحقیق کے نئے زاویوں پرروشنی بھی ڈالی ہے۔ 
ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب کے ٹائٹل کو رپرنظر ڈالیں تو اس پر رکھی صلیب اکیسویں صدی کے انسان کے المیوں کی داستان نظر آتی ہے یہ کورJeremy Kayنے ڈیزائن کیا ہے جو ڈاکٹر درانی کے فکر و عمل کا استعارہ ہے۔ محققانہ دماغ کے مالک ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی فکر مند قلب کے حامل انسان ہیں اُن کا مزاج فلسفیانہ و دانشورانہ ہے۔ وہ اطلاقی طبیعات کی طرف مائل نہیں اور نہ ہی انسانی فکر و فلسفے کو لیبارٹریوں کی قربان گاہ پر قربان کرنے کے عادی ہیں بلکہ وہ نظریاتی طبیعات میں دلچسپی لیتے ہیں جس نے انہیں گیان دھیان کی طرف مائل کر رکھا ہے۔ عہد حاضر کی صورتحال پر ان کا دِل درد محسوس کرتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ تاریخی جبر کے شکار انسانوں کو ناروا اور ناخوشگوار نظریات و متبرکات کو سننا اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی بناء پرآج ہم سب مصلوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ معلومات کے سیلاب میں بہتا انسان سوچ و بچار سے عاری ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر درانی نے صلیب کو کتاب کے ٹائٹل پر رکھ کر خود فکر وآگہی کے لیے تزکیہء نفس شروع کر دیا اور اس سفر میں تحقیق و آگہی اور خیال و تجزیے کی جو منزلیں طے کیں انہیں مضامین کی صورت دے کر جمع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر درانی کی محققانہ کھوج او ر درویشانہ عرق ریزی دیکھ کر لگتا ہے کہ اشفاق احمد مرحوم نے غلط نہیں کہا تھا کہ صوفی اور سائنسدان ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اُنہوں نے علم طبیعات کے قدیم و جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ عصری حقائق مثلاً دہشت گردی اسکے محرکات، معاملات اور اثرات کا سائنسی انداز ِ فکر سے تجزیہ کیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے طبیعات کی عینک سے دنیا کے مالی معاملات اور تحلیلی طبیعات کو بھی موضوع قلم بنایا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر درانی کی کتابScientific Writingsبھی اپنے منفرد موضوعات کی وجہ سے محققین اور تجزیہ نگاروں سے داد و تحسین وصول کر چکی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب بھی بلاشبہ بحث و نتائج کے حوالے سے نئی جہتیں اور پہلو متعارف کروا رہی ہے۔ اُمید ہے کہ علم طبیعات کے محققین، استاد اور طالبعلم ہی اس سے مستفید نہیں ہونگے بلکہ عمرانی شعور سے بہرہ مند ہر پڑھا لکھا شخص اس کتاب سے فیضاب ہو گا۔ اس کتاب نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈاکٹر درانی مستند محقق، نامور اُستاد ہی نہیں بلکہ انسانی تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے والے عمرانی شعور کے مالک درویش بھی ہیں۔ بلاشبہ روح عصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں تحقیق و تدریس اور فکر و دانش کے ایسے امتزاج کی ضرورت ہے۔ 

منگل، 25 نومبر، 2014

”سائنٹفک تحریریں“ ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کی کتاب

 ایک جائزہ


ممتاز مؤرخ ایچ جی ویلز نے اپنے ایک مقالے”سائنس اور دنیا“ میں لکھا ہے کہ ”میں نے ایک ایسی قد آور دوربین دیکھی ہے جو ابھی زیر تعمیر ہی ہے۔ وہ مجھے نہایت کامیاب نظر آئی وہ میرے اعصاب پر مسلط ہو گئی۔ میں مہینوں اس کے متعلق سوچتا رہا۔ میں عزائم اور ادراک کے اس دیو قد شاہکار کی موجودگی میں کوتاہ قد نظر آیا۔ اس کے با وجود میں کہوں گا کہ دوربین بنانا اتنا ضرور ی نہیں، جتنا فلاحِ انسانیت کا خیال۔“ بلاشبہ سائنس نے روز بروز نئی نئی باتیں بتا کر انسان کے دل و دماغ میں ایک بے چینی اور تڑپ پید ا کر رکھی ہے۔جس کی بدولت آج انسان علم اور سمجھ کی منزل پر رواں دواں ہے تا ہم یہ سفر ابھی نا تما م ہے۔ اس صورت میں انسانی روح بے تابی کے ساتھ سائنس کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتی ہے چنانچہ سائنسدان کوشاں ہیں کہ وہ علم کو ترقی دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔ سائنس کا دائرہ عمل علم اور آلات کی ترقی کے ساتھ ساتھ بہت پھیل گیا ہے۔ اب سائنس کا خاص طریقہ اور تحقیق کے نتائج و نظریات معیشت، معاشرت، سیاست بلکہ ہر فن اور ہنر پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ دراصل سائنس کا صحیح مقام اب کائنات کی پیدائش یا تخلیق اور تسخیر سے لے کر انسان کی حقیقت اور اس کے تمام رازوں تک پہنچ جاتا ہے۔ سائنس علمی و عملی دونوں لحاظ سے زندگی کے عمل، قیام اور ترقی کے لیے لازمی امر کی حیثیت رکھتی ہے۔ سائنسدان اپنے علم ہی کے ذریعے خلقِ خدا کی خدمت کی کوئی نہ کوئی صورت نکال سکتا ہے۔ انسانی معاشرے کی بہتری، ترقی اور حفاظت کے لیے معاشی مسائل، دہشت گردی اور جمہوریت وغیرہ آج کے اہم ترمسائل ہیں۔ان مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے غور و فکر کرنا ہی حقیقی فرزندانِ انسانیت کا فریضہ ہے۔ 
خطہ یونان گجرات کے علمی و سماجی گھرانے کے فرزند سابق یوینورسٹی آف گجرات کے ڈائر یکٹر سائنسزڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی سائنس کی ایک اہم شاخ طبیعات کے محقق و ماہر ہیں۔ وہ صرف طبیعات کے محقق ہی نہیں سائنسی اندازِ فکر کے حامل لکھاری بھی ہیں۔ لہٰذا عصرِ حاضر کے مادی اور سماجی مسائل کا سائنسی تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ سنجیدہ فکرانسان،محنتی استاد اور دانشور ہیں۔ حال ہی میں ان کے شب و روز کے سائنسی تجربات اور فکری ریاضیت کے حامل تحقیقی مقالات کا مجموعہ منظر عام پر آیا ہے"Scientific Writings"کے نام سے انکی اسمِ بامسمٰی کتاب برطانیہ کے مشہور اشاعتی ادارےMelroseBooksنے شائع کی ہے۔160صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کے تجزباتی فکر کے حامل17دانشورانہ مقالہ جات شامل ہیں جن میں جدید فزکس کی نصابی اہمیت کے ساتھ ساتھ طبیعات کی معاشرتی افادیت کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ کتاب فزکس کے مضمون پر مصنف کی مہارت کی مظہر ہے۔ موصوف نے موضوعات کے چناؤ اور تجزیے میں جدید نظریات و تصورات سے استفادہ کر کے واضع کیاہے کہ جتنا انسان کا تجربہ، عقل اور شعور بڑھتا جائے گا سائنس کا دائرہ اتنا ہی وسیع تر ہوتا جائے گا۔ 
جدید مادی سائنس میں کوانٹم فزکس کا غلبہ ہے۔ کوانٹم فزکس کی بدولت ایٹم کو اس کی   بے شمار تفصیلات کے ساتھ اتنی اچھی طرح سمجھا جاتا ہے کہ اب اس کی صداقت میں کوئی شک نہیں ہے۔ جو ں جوں بصری، ریڈیائی، ایکس شعائی، کائناتی شعائی مشاہدات کیے جا رہے ہیں، توں توں معلوم شدہ طبیعاتی اصولوں کی صحت پر اعتبار بڑھتا جا رہا ہے۔ تا ہم کوانٹم نے جو فلسفیانہ مسائل چھیڑے ہیں وہ بہت اہم، لیکن تکنیکی اور مشکل ہیں۔ کوانٹم فزکس سے پہلے دنیا کو بالکل پیش گوئی سمجھا جاتا تھا۔ ماضی کے واقعات حال کا تعین کرتے تھے اس تیقن کی نفی اتنی پریشان کن تھی کہ آئن سٹائن کو کہنا پڑا”خدا کائنات کے ساتھ پانسے کا کھیل نہیں کھیلتا“۔ اور اس نے کوانٹم میکانیات کی مخالفت کی۔ آئن سٹائن کے بلند مقام کے باوجود اس کے معاصرین نے ان سے اختلاف کیا۔ کوانٹم فزکس نے ہمیں یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ حقیقت کے بارے میں ہمارا موجودہ تصور بہت سادہ ہے۔ مشاہدے کے عمل نے بعض امکانات کو حقیقت بننے پر مجبور کر دیا اور دیگر امکانات کو حقیقت کے زمرے سے خارج کر دیا۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشاہدہ کس کے ذریعے اور کس کا؟ نوبل انعام یافتہ ماہرِ طبیعات یوجین پی وگنر کے مطابق یہ سوال ناگذیر طور پر انسانی شعور کو کائنات کی موجودہ حالت کا تعین کرنے والے عامل کی حیثیت سے سامنے لاتا ہے۔ گو طبیعات کی یہ تفیسر منتازعہ ہے تا ہم اس سے وجود اور حقیقت کے مسائل پر موجودہ سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ پُرکشش اور دلچسپ کوانٹم فزکس کائنات کے ُاس رُخ کی طرف کھڑکی کھولتی ہے جو ہماری عام قوت ِمشاہدہ کی پہنچ سے باہر ہے۔”کوپن ہاگن“ تشریح کا دعویٰ ہے کہ کوانٹم میکانیات ان تمام صورتوں سے پنٹ سکتی ہے جو چند حقیقی یا ضربی تجربات کے تصورات سے متعلق ہوں۔ 
کوانٹم فزکس اور کوانٹم میکانیات کے قدری تصورات کی روشنی میں ہی ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی نے زندگی کے مادی اور غیر مادی مسائل کا تجزیہ کیا ہے مصنف کی ”سائنٹفک تحریروں میں اضافیت، کشش ِثقل سے الیکٹرو میگنٹ ازم، کلاسیکل فزکس، تخلیق ِکائنات، ریاضیاتی فزکس، سائنسی انقلاب جیسے نیچرل سائنس کے موضوعات ہیں تو ساتھ ہی ساتھ عصر حاضر کے نمایاں سیاسی، سماجی و معاشی مسائل کا تحقیقی مطالعہ بھی کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشیات کی مختصر تاریخ، سٹاک مارکیٹ میں تشویش و ندامت، دہشت گردی کی سائنسی وضاحت، نیوکلیئر ٹیررازم کے اثرات، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فزکس کا نسخہ، نئی جمہوریت کے لیے اتفاقِ رائے بذریعہ کوانٹم پارلیمنٹ، مونا لیزا کی ناقابل بیان مسکراہٹ اور کوانٹم مکینکس جیسے عنوانات بھی شامل ہیں۔ جدید عمرانی مسائل کا طبیعاتی تجزیہ کر کے مصنف نے سماجی طبیعات کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور ثابت کیا ہے کہ سائنس انسان کی جملہ ضروریات سے تعلق رکھتی ہے۔ آج طبیعاتی علوم کا دائرہ عمل اتنا پھیل گیا ہے کہ طبیعات کے مخصوص مظاہر اور تحقیق کے نتیجے اور نظر یے معیشت، معاشرت، سیاست بلکہ آرٹ پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ سائنس کے سچے طالبعلم کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اس کا علم محض کتابوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ خود مشاہدے اور تجربے کی بناء پر انسان زندگی کے لیے سازگار معاونات و ممدات کو کرۂ ِ ارض پر کار فرما دیکھتا ہے۔ 
ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کے مقالات وسعت مطالعہ، تنقیدی رویے، سائنسی تجزیے اور سائنٹفک فکر کے عکاس ہیں۔ میں انھیں انکی اس کتاب پر مبارکباد دیتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ انکی تحریری سائنس کے طالبعلموں کے لیے بالعموم اور طبیعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بالخصوص مشعلِ راہ ثابت ہونگی اور وہ خود ”سماجی طبیعات“ کے جدید تصورات کی روشنی میں مادی و غیر مادی، سائنسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے تحقیق، تدریس اور تحریر کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ 

جمعہ، 21 نومبر، 2014

فیضؔ کے شعری آہنگ کو عام کرنا ہے

فیضؔ کے شعری آہنگ کو عام کرنا ہے



فیض احمد فیضؔ ہماری ادبی و فکری تاریخ کا ایک منور استعارہ ہیں۔ دانشور، شاعر، استاد، نقاد، مدیر، مزدور انقلابی راہنما، یہ سب ان کی ہمہ پہلو شخصیت کی نمایاں جہتیں ہیں۔ دنیا انہیں ظلم و جبر، آمریت و سامراجیت اور استحصال و استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر جانتی ہے۔ 
پرصغیر پاک و ہند کے نوآبادیاتی عہد میں اُردو ادب میں ترقی پسندوں نے استعمار، سامراج اور بالا دست طبقوں کے خلاف بیداری اور فروغِ شعور کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ایسا کرنے والے ترقی پسند دانشوروں میں فیضؔ کا نام ہر اول دستے  میں شامل ہے۔ تقسیم ہند کے بعد بھی فیضؔ کی منفرد اور تواناء آواز سب سے نمایاں اور مؤثر رہی۔ انہوں نے شعر و فکر کے ذریعے جدوجہد، امید، اجتماعیت اور رجائیت کی بنیادوں پر ایسے عمرانی آئیڈیلز کو اُبھارا جنہوں نے سامراج اور استعمار دشمنی، انقلاب، ترقی، انسان دوستی، روشن خیالی اور خرد افروزی کی سوچ کو فروغ دیا۔ ہم وطنوں کی زبوں حالی اور شکستہ دلی کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے خیال و شعر میں مایوسی، نا امیدی اور شکست خوردگی کو کوئی جگہ نہ دی۔ ان کی شاعری کا آغاز رومان اور  وجدان میں لپٹا ہوا ہے مگر جلد ہی زندگی کے تلخ اور کڑوے حقائق اس خول کو چٹخا دیتے ہیں اور وہ ذاتی دُکھ کے ساتھ ہی عالم انسانیت پر مسلط دوسرے بے شمار دکھوں کی جلن بھی اپنے اندر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ فیض ؔ کی شاعری نے ہی اردو شاعری کا تیسری دنیا سے تعلق مضبوط کیا اور عالم انسانیت کو پیغام دیا کہ جب تک انسان کے جسدِ خاکی میں دل دھڑکتا ہے انسان کبھی ٹوٹ نہیں سکتا اور جب تک انسانوں کے مابین احساس کا رشتہ قائم ہے انسان اور انسانیت کبھی آزادی، امن اور ترقی کی آرزو سے محروم نہیں ہو سکتے۔ فیضؔ ایسے انسانی مناظر کے شاعر ہیں جن سے آگے بہتر سے بہتر دنیا آباد ہے۔ فیضؔ کی شعری فکر کے راستے پر چل کر ہی انسان ایک نئے زمانے میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہ سفر رجائیت سے شروع ہو کر حالات کو بدلنے کے حوصلے تک لے آتا ہے۔ اس کا اظہار ان کی نظم ’سوچ‘ میں بھی ملتا ہے اور اس حوصلے سے نکلنے والی رجائیت ’چند روز مری جاں فقط چند ہی روز‘، اور ’اے دِلِ بے تاب ٹھہر!‘ دونوں نظموں میں عیاں ہے۔ جبکہ نظم ’سوچ‘ مارکسی تعبیر کے حوالے سے دُکھ، درد کا بڑا عمیق اور اچھا تجزیہ بھی ہے۔ 
فیضؔ چونکہ حساس دل کے ساتھ بیدار ذہن بھی رکھتے تھے اس لئے دنیاوی درد و غم کی طرف ان کا رویہ فراری نہیں رہا۔  ’مرے ہم دم مرے دوست‘ میں واضح اشارہ کرتے ہیں کہ وہ غم جس نے انسانوں کی اکثریت کو زندگی کو تمام حلاوتوں سے محروم رکھا ہے اس کا مداوا نہ تو ہمدردوں کے حرفِ تسلی میں پوشیدہ ہے اور نہ شعراء کے شیریں نغموں میں بلکہ عوام اپنے مصائب کے مسیحا خود ہی ہیں۔ ’سوچ‘ میں واشگاف کہتے ہیں کہ آج حیاتِ انسانی جن سرمایہ دارانہ لعنتوں میں گرفتار ہے ان سے نجات کی واحد صورت عالمگیر عوامی جدوجہد ہی ہے۔ عوامی طاقت پر انحصار اور اعتماد  ترقی پسند فکر کا جزو لانیفک رہا ہے چنانچہ فیضؔ کی شاعری بھی اسی یقین کی مبلغ ہے۔ 
فیضؔ کو استعمار سے نفرت ہے۔ سرمایہ داری، جاگیرداریت، طبقاتی کشمکش استحصالی قوتوں، سب سے نفرت ہے لیکن شدید نفرت کے باوجود ان کے شعروں میں نفرت کا بے ہنگم شور سنائی نہیں دیتا بلکہ ان کے مترنم لفظوں کے پیچھے ہمارے ماضی کی گونج سنائی دیتی ہے اور حال کا آہ و فغاں بول رہا ہوتا ہے اور ہمارا مستقبل جگمگا رہا ہوتا ہے۔ وہ روحِ عصر کی بلیغ و جمیل ترجمانی کرنے کے ساتھ مثبت سماجی انقلاب کے داعی بھی تھے۔ دنیا ہمیشہ ان دانشوروں اور مفکروں میں دلچسپی لیتی رہی ہے جو اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔  مگر جو اس کو بدلنے کی آرزو یا کوشش کرے اسکی پرستش کرتی ہے۔فیض احمد فیضؔ بھی باعمل دانشوروں یا شاعروں کی اسی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں جس میں کرسٹوفر کا ڈویل،  ہیمنگوے،  پیبلو نرودا،  لورکا،  ناظم حکمت،  اگستینونیتو نمایاں ہیں۔  آل احمد سرور نے بجا کہا تھا کہ ”فیض صاحب ِطرز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باشعور شاعر بھی ہیں اور ایسا کم از کم برصغیر کی حد تک کوئی دوسرا شاعر نہیں ہے“۔  
فیضؔ ایسے خوش بخت شاعر ہیں جو خواص و عام دونوں کو میں یکساں مقبول ہیں۔ عصرِ حاضر میں شاید ہی کوئی ذی فہم ہو جس کے شعور کی سطح ان کا کلام سننے یا پڑھنے کے بعد بلند نہ ہوئی ہو یا پھر شاید ہی کوئی شاعر یا ادیب ایسا ہو جو فیضؔ کی شاعری اور شخصیت سے متاثر نہ ہوا ہو۔ یہ فیضؔ ہی تھے جنہوں نے ظلم کو ظلم کہنے کا سلیقہ سکھایا، طرز کہن پر اڑے رہنے کی بجائے انکار کی جرات بخشی، رجز کی زبان دی اور ستم گری سے نبرد آزمائی میں ہماری ہمت بندھائی۔ انہوں نے ہی مشاہدۂ حق کی گفتگو میں حسن کی لطافتوں کا رنگ بھر کر گفتگو کو زیادہ بامعنی، دلکش اور پُر اثر بنا دیا۔ اسی لئے ان کے زیادہ تر اشعار ضرب المثل بن گئے۔ 
کہتے ہیں کہ ہر عہد اپنے ایک شاعر کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ فیضؔ کی شاعری بھی ان کی ذات اور ان کے زمانے دونوں کا پتہ دیتی ہے۔بلاشبہ عہد ساز شاعر تھے بلکہ آج بھی انہی کا دور ہے اور ہم ابھی تک عہدِ فیض میں ہی جی رہے ہیں۔ انہوں نے منفرد اصطلاحوں، تشبیہوں، ترکیبوں، اچھوتی علامتوں اور مؤثر فکر سے اردو ادب کے خزانے کو ایسے مالا مال کیا کہ ان کا طرز فغاں اوروں کا طرز بیاں ٹھہرا۔ 

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے 
بول، زباں اب تک تیری ہے 

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے 
فروغ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم 
یہ ان کے وجدان و بیان اور فکر و شاعری کی کرامت ہی ہے کہ وہ مرنے کے بعد آج بھی عصر رواں کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں، شاید اسی تسلسل کی کوکھ سے ہی وہ فکر و نظر پیدا ہو جو اپنے خیال و افکار سے ہمارے مستقبل کو روشن کر دے،کیونکہ افکار تازہ سے ہی جہانِ نو پیدا ہوتا ہے۔
مگردھیرے دھیرے فیضؔ اور نسل ِ نو کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہماری نسل کا فرض ہے کہ وقت کی خلیج پر فیضیات کا پُل بنا دے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ فیضؔ کے ہم خیال فیضیات کو نئی نسل تک پوری قوت کے ساتھ منتقل کیوں نہیں کر پا رہے حالانکہ فیضؔ سے محبت کے دعویداروں کو یہ کام دلجمعی اور لگن سے کرنا چاہئے تھا کیونکہ فیضؔ کے نظریاتی دوست اسکی فکر کے مبلغ ہیں مجاور نہیں۔ صد افسوس! ہم بڑے لوگوں کے مرنے کے بعد صرف ان کا بُت بنا لیتے ہیں۔اس قوم نے اقبالؔ کو بھی مجاوروں کے ہاتھوں ہی گنوایا، جنہوں نے فکر اقبال کو آگے بڑھانے کی بجائے اس کے مزار پر چادر چڑھانے کو ذریعہ معاش بنا کر اس مجاوری کو اقبالیات کہنا شروع کر دیا۔ اقبال کے بعد ہمارے پاس فیضؔ تھے اس لیے سلسلہ چلتا رہا مگر فیض ؔکے بعد تو ایسے، جیسے خُدا ہم سے روٹھ ہی گیا ہے۔ آج ہم بڑے آدمی، بڑے شاعر، بڑے دانشور کو ترس گئے ہیں۔ ہر طرف قحط الرجال ہے اور اگر نہیں ہے،  تو پھر قہر الرجال ضرور ہے۔ خدا نہ کرے کہ فیضؔ بھی مجاوروں کے ہاتھوں گم ہو جائیں۔ فیضؔ سے محبت کرنے والوں کا فریضہ ہے کہ فیضؔ کے افکار و سخُن کو آگے بڑھائیں ان کی فکر کا چراغ بجھنے نہ دیں۔ فیضؔ بطور نقاد جو کسوٹی پیش کرتے ہیں وہ خود بھی اس پر پورا اترتے تھے۔
چشمِ نم، جان شوریدہ کافی نہیں 
تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں 
آج بازار میں پابجولاں چلو 
او رپھر کہتے ہیں: 
رخت دل باندھ لو، دل فگارو چلو 
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو 
آج ہم میں سے کتنے اس کے لیے تیار ہیں …………؟ 
آج ہم صوبائیت، نسلیت، لسانیت، عالمگیریت، فرقہ واریت، دہشت گردی، انتہا پسندی کے جس عفریت و کینسر کا شکار ہیں اس نے قوم کو مایوس کر دیا ہے۔ کوئی نہیں ہے جو اس بکھرتے سماج کی ڈھارس بندھائے، اسے امید دے…… اگر کوئی ہے تو بس فیضؔ ہی ہے۔ فیض ؔ کی رجائیت، اسکا مثبت انقلاب ہی ہماری  بے بسی کا علاج ہے۔ ہمیں فیض کی رجائی فکر اور  اس کے شعری آہنگ کو عام کرنا ہو گا کیونکہ ہمیں اس قوم کو، اس وطن کو بچانا ہے۔

ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں 
ابھی گرانی شب میں کچھ کمی نہیں آئی 
نجاتِ دیدہ و دِل کی گھڑی نہیں آئی 
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی 

جمعرات، 20 نومبر، 2014

فیض احمد فیض : جس کی آج بھی ضرورت ہے

دانشور صوفی شاعر،جس کی آج بھی ضرورت ہے


مچل رہا ہے رگِ زندگی میں خون بہار 
اُلجھ رہے ہیں پرانے غموں سے روح کے تار 
چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیارِ حبیب 
ہیں انتظار میں اگلی محبتوں کے مزار 
محبتیں جو فنا ہو گئی ہیں میرے ندیم 

دانش و افکار کسی پراسرار دنیا سے نازل نہیں ہوتے جس کو مرزا غالب نے ”عالم غیب“ کا نام دیا ہے بلکہ فکر و دانش زندگی کے بدلتے ہوئے سانچوں کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔ کسی قوم یا ملک کے لیے دانشور کا ہونا لازمی ہے کہ دانشور قلمکار ہی وہ چراغ ہوتا ہے جس کی روشنی میں قوم اور راہنما عملی قدم اُٹھاتے ہیں۔ سچا لکھاری یا ادیب اپنے سماج کے اجتماعی شعورکاآئینہ دار ہوتا ہے جو معاشرہ کو اپنے احساسات سے باخبر بھی کرتا ہے اور اسے بدلتا بھی ہے۔ 
سگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا کہ"Everywhere I go, a poet has been there before me"یعنی میں جہاں بھی جاتا ہوں، جو سائنسی تحقیق کرتا ہوں، کوئی شاعر وہی بات پہلے ہی بیان کر چکا ہوتا ہے۔
فیض احمد فیضؔ ہماری ادبی و شعری اور فکری وتہذیبی حیات کا سب سے روشن، اہم اور زندہ حوالہ ہیں۔ شاعر، نقاد، صحافی، استاد، فوجی افسر، ٹریڈ یونین رہ نما سب انکی ہمہ گیر شخصیت کی مختلف جہتیں اور نمایاں پہلو ہیں جو ہماری قلمی، تہذیبی، ثقافتی اور ادبی زندگی میں منفرد، قابل فخر اور مثالی شناخت رکھتے ہیں۔وہ عالمی سطح پر انسانی مساوات ومحبت اور انسان دوستی کے آرزو مند راہ نما، امن و آزادی کے ترجمان اور مجبوروں، محروموں اور مظلوموں کی حمایت کرنے والے شاعر کی حیثیت میں روشن علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی نظر مشرقی و مغربی ادب پر بہت گہری تھی چنانچہ مشرقی و مغربی ادب کی اعلیٰ اقدار، احساس و یقین کے ساتھ ان کے ہاں جلوہ فگن ہوتی رہیں۔ اگرچہ اشتراکیت کے فلسفے سے ان کی وابستگی گہری تھی مگر فیض ؔنے کورانہ تقلید کی بجائے اپنے تواناء شعور، پختہ ادبی ذوق اور منفرد شعری و جدان کے ہمراہ اسے اپنی فکر کا جزو بنایا اور شاعری کی مثبت روایت اور ثقافتی ورثے کو قائم رکھا۔ ڈاکٹر اعجاز حسین کو کہنا پڑا کہ ”فن کاری اورندرتِ خیال کا اتنا حسین امتزاج دور جدید میں کسی شاعر کے یہاں نہیں دکھائی دیتا۔ سیدھے سادے الفاظ کو بغیر تشبہیہ و استعارے کے شعر کی صورت میں پیش کرنا اور تاثیر و معنویت پیدا کرنا فیض کا خاص کارنامہ ہے “۔
فیض کی شاعری زرد پتوں کے اس بن کے نام ہے جو درد کی انجمن ہے جہاں کلرک ہیں، پوسٹ مین ہیں، تانگے والے ہیں، کارخانوں کے بھوکے مزدور ہیں، اناج اگانے والے کسان ہیں، دکھی مائیں ہیں، طالبعلم ہیں۔ فیض کی فکر کا حقیقی محور سماجی و معاشی استحصال ہے۔ اس لیے وہ سرمایہ دارانہ نظام کو تمام برائیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ شعوری طور پر ترقی پسند ہیں لیکن دوسرے ترقی پسندوں کے برعکس وہ افکار وجذبات کی رو میں نہیں بہتے بلکہ ان کے ہاں غصہ، گھن گرج اور ہما ہمی کے آثار کہیں نمایاں نہیں ہوتے بلکہ وہ انتہا پسندی سے گریز کرکے اپنی بات دھیمے لہجے میں بڑے اعتدال کے ساتھ کرنے کے عادی ہیں۔ وہ تلخ و ترش واقعات کی شدت کو شعر کے لطیف پردوں میں اس طرح اُجاگر کرتے ہیں کہ شعریت اور سیاست دونوں ایک دوسرے میں بالکل شیرو شکر ہو گئے 
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا 
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا 

فیض صاحب کی ترقی پسندی کھرے معاشرتی تجزیے کی حامل ہے۔ سٹیفن سپینڈر کا کہنا ہے کہ ”ادیبوں کو ان کے سیاسی نظریات سے نہیں سماجی تجزیے کی سچائی سے جاننا ضروری ہے“۔ 
انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہے 
جو گاہ گاہ جنون اختیار کرتے ہیں 
فیض احمد فیضؔ بے پایاں خلوص اور محبت کے آدمی ہیں، بغض و عناد اور کینے سے نا آشنا، پھر بھی عمر بھر جتنی گالیاں فیض صاحب کو دی گئیں شاید ہی کسی اورکو دی گئی ہوں۔ اس کے باوجود فیض صاحب نے جس اعلیٰ ظرفی اور صبر کا مظاہرہ کیا اسی بناء پر کئی لوگ انہیں صوفی سلسلے میں شامل کرتے ہیں۔ مرحوم اشفاق احمد نے فیض کو ملامتی صوفی قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ”یہ ادب، یہ صبر، ایسا دھیما پن، اس قدر در گذرکم سخنی اور احتجاج سے گریز، یہ صوفیوں کے کام ہیں۔ ان سب کو فیض نے اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے،اوپر سے ملامتی رنگ یہ اختیار کیا ہے کہ اشتراکیت کا گھنٹہ بجاتے پھرتے ہیں کہ کوئی قریب نہ آئے اور محبوب کا راز نہ کھل جائے۔ واہ بابا ٹل واہ! کیا کہنے، چوری کر، تے بھن گھر رب دا،ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ۔ میرا تعلق چونکہ خانوادے سے ہے اور میں مسلمان بادشاہوں کا پرستار ہوں اور ملوکیت کو ہی اسلام سمجھتا ہوں۔ اس لیے میری اور بابا ٹل کی نہیں بن سکتی۔ لیکن کبھی اکیلے بیٹھے بیٹھے خاموش اور چپ چاپ میں سوچا کرتا ہوں کہ اگر فیض صاحب حضور سرور کائنات ؐ کے زمانے میں ہوتے تو ان کے چہیتے غلاموں میں سے ہوتے۔ جب بھی کسی بد زبان، تند خو، بد اندیش یہودی دوکاندار کی دراز دستی کی خبر پہنچتی تو حضور ؐ کبھی کبھی ضرور فرماتے: آج فیض کو بھیجو، یہ بھی دھیما ہے، صابر ہے، بردبار ہے، احتجا ج نہیں کرتا، پتھر بھی کھا لیتا ہے۔ ہمارے مسلک پر عمل کرتا ہے“۔
اشفاق احمد کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہے یقینافیض صاحب تصوف کے پختہ کار داعی بھی تھے۔ اپنے عہد کے بہت سے صوفیاء سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔ وہ لاہور کے صوفی بابا ملنگ صاحب کے چاہنے والوں میں سے تھے۔ واصف علی واصف، اشفاق احمد اور سید فخر الدین بلے سے قریبی تعلق رہا۔ ایک دفعہ ان سے استفسار کیا گیا کہ صوفیوں کا سوشلسٹ کامریڈوں سے کیسے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ صوفی ہی حقیقی کامریڈ ہوتے ہیں۔ پھرفیض صاحب نے ہی اناء الحق کو سیاسی انداز میں اپنانے کا اسلوب اختیار کیا۔ ان کی شاعری میں مادھو لعل حسین اور بلھے شاہ کی انکھ، میاں میر کی انسان دوستی، شاہ عبدالطیف بھٹائی کا سُر سنگیت، وارث شاہ کی رومانویت اور خواجہ فرید کی شیرینی جا بجا نظر آتی ہے۔ اپنے ہم عصر حاسدین کی ہزار مخالفتوں اور مخاصتوں کے باوجود لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ فیض نے صرف غم جاناں اور غم روزگار کا فرق ہی نہیں سمجھایا بلکہ یہ بھی بتایا کہ غم روزگار کو غم جاناں بنانے کے لیے کتنی ریاضت کرنا پڑتی ہے بلکہ فیض کی ساری زندگی ہی انسانوں اور انسانیت کی اعلیٰ قدروں پر صرف ہوئی۔
آج پاکستانی سماج میں جو بگاڑ ہے اس میں امن اور انسان دوستی کی اشد ضرورت ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو فیض صاحب اپنی وفات کے بعد آج بھی سیاسی و سماجی حالات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ کسی بھی بڑے ادیب و شاعر کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے بعد آنے والے زمانوں کے احساسات اور اپنے سماج کی خواہشات، خوابوں، امنگوں اور آرزوں سے آشناہی نہیں ہوتا بلکہ اپنے قلم کے ذریعے انہیں صفحہئ قرطاس پر منتقل کرتا ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی releventہوتا ہے۔ فیض نے فلسفیانہ سطح پر جو خواب دیکھے پاکستان کا عام آدمی عام رنگ میں آج بھی وہی خواب دیکھ رہا ہے۔ ان کے بعد یہاں جبرو استحصال میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اس نے اس سماج اور آج کے مسائل نے فیض احمد فیض ؔکو اور زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ محترمہ افضل توصیف سچ کہتی ہیں کہ ”فیض اگر آج اپنی دنیا کو پلٹ کر دیکھ سکتے تو پھر یہاں آنے کے لیے بے قرار ہو جاتے، سارے کام ادھورے پڑے ہیں“۔عدم برداشت، سیاسی و سماجی استحصال، طبقاتی کشمکش غرض کچھ نہیں بدلا بلکہ اوربڑھ گیا ہے چنانچہ آج ہمارے حالات فکر ِفیضؔ کی ترسیل ِنو کے متقاضی ہیں اور اہم اسی کے ابلاغ اور احیاء کے خواہشمند ہیں۔ البیلے اور محبوب شاعر فیض احمد فیض کے ذکر جمیل سے ان کے چاہنے والوں کا جی نہیں بھرتا، حالانکہ فیض ٹھہرا ہو اپانی نہیں ہے جسے دیکھ کر خوش ہو ا جائے بلکہ فکر فیض کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم 
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے 

فیض احمد فیضؔ اور صحافت

فیض احمد فیضؔ اور صحافت  
شیخ عبدالرشید 



فیض احمد فیض ؔہماری تہذیبی حیات، ادبی و فکری تاریخ اور قلمی و صحافتی روایت کا زندہ اور روشن استعارہ ہیں۔ دانشور، شاعر، استاد، نقاد، مزدور انقلابی راہنما، مدیر و صحافی یہ سب ان کی ہشت پہلو شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ ان کی شاعری اور نثر ان کی ذات اور زمانے کا پتہ دیتی ہیں۔  اہل قلم شعوری و غیر شعوری طور پر زندگی سے خام مواد لے کر ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جس کے معنی و اقدار ایک طرف اہل قلم کے حقیقی تجربے کو دوام بخشتے ہیں تو دوسری طرف زندگی میں خیر کا اضافہ کر کے خود زندگی کو تازہ دم کرتے ہیں۔ فیضؔصاحب کی ہمہ جہت شخصیت کا ہر پہلو اپنے اندر ایک زندگی لیے ہوئے ہے۔ بطور شاعر وہ عہد ساز شاعر کہلاتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کے دوسرے پہلو بھی کم متاثر کن نہیں ہیں، وہ کئی طرح سے گلشن کا طرز بیاں نکھارتے رہے۔ ادب اور صحافت دونوں ہی ترجمان حیات ہیں، وہ اہلِ قلم جو کسی مقصد یا نظریے سے وابستہ اور کسی نصب العین کے لئے کوشاں ہوں وہ بالعموم دونوں شعبوں میں احترام اور اعتبار پیدا کر لیتے ہیں۔ فیض احمد فیضؔ بھی اسی قبیلے کے سرخیل ہیں۔ صحافت ان کی ذات کا ایک پہلو، نظریاتی جدوجہد کا ایک محاذ اور اظہار ذات کا اہم ذریعہ تھی۔ سچا قلمکار معاشرہ کے اجتماعی شعور کا آئینہ دار ہوتا ہے جو اسے اپنے احساسات سے باخبر بھی کرتا ہے اور اسے بدلتا بھی ہے۔ قلم کار ہر لمحہ کو، ہر واقعہ کو صحیح پس منظر میں سب سے پہلے سمجھ لینے کی صلاحیت اور قوت رکھتا ہے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانا اور دوسروں کو روشنی دکھانا اس کا فرض بن جاتا ہے۔ ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ ”ادیب لکھتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے یہ فرض سنبھال لیا ہے کہ اس دنیا میں جہاں آزادی کو ہر دم کھٹکا لگا رہتا ہے، آزادی کے نام کو، آزادی سے مخاطب ہونے کی سرگرمی کو جاوداں بنا دیا جائے“ بلا شبہ اہلِ قلم کو یہی فریضہ انجام دینا ہوتا ہے، فیض ؔ صاحب نے بھی سچے قلمکار کے طور پر انگلیاں خون دل میں ڈبو لیں اور ہر حلقہ زنجیر میں زباں رکھ دی۔ فیض نے خوب سے خوب ترکی جستجو میں بحرِ عقل و خرد میں غوطہ زن ہو کر غور و فکر کے بعد فلاح انسانیت کے لئے افکار تازہ کا علم بلند کیا اور اپنی شاعری اور صحافت کو سماجیات سے ہم رشتہ کر کے اپنے نصب العین کی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ بطور ادبی مدیر اور صحافی بھی فیض صاحب پُرمسرت دنیا کی تخلیق کی خاطر صبر آزما اور پُر مصائب جستجو کے عمل سے گزرے اور فکر کو تخلیقی، جری، امن پسند اور جدت پسند بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ 
یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ محققین اور نقادوں نے اپنی تمام تر توجہ فیض کی شاعری پر ہی مرکوز رکھی اور انکی شخصیت کے دیگر پہلو ؤں بشمول صحافتی کردار کو نمایاں نہیں کیا گیا۔ یہ بھی درست ہے کہ بڑے لوگوں کی ہمہ گیر زندگی کا کوئی ایک پہلو دوسرے پہلوؤں پر غالب آجاتا ہے  اسی طرح فیض کی شاعری اتنی مقبول ہوئی کہ دیگر پہلو پس منظر میں چلے گئے۔ فیض صاحب کا صحافتی کردار تین ادوار پر مشتمل ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے انہوں نے ’ادب لطیف‘کی ادارت کی تھی مگر عملی صحافت کا پہلا دور قیام پاکستان کے بعد ’پاکستان ٹائمز‘، ’امروز‘اور ’لیل و نہار‘کی ادارت کا ہے جو ایوب خاں کے مارشل لاء تک ہے دوسرا دور 1970ء اور 1971ء کا بحرانی زمانہ ہے جس میں وہ دوبارہ ’لیل و نہار‘سے منسلک ہوئے اورپھر تیسرے دورمیں بیروت سے شائع ہونے والے رسالے LOTUS کے مدیر ہوئے۔ فیض ؔ صاحب نے جس زمانے میں وادی صحافت میں قدم رکھا وہ بر صغیر میں انگریز عہد کے خلاف آزادی کی جنگ کا دور تھا۔ پہلی عالمگیر جنگ کے بعد آزادی کا شعور خاص طور پر نمایاں ہوا۔ تحریک خلافت اور تحریک عدم تعاون  نے بھی اس جدوجہد میں بڑا کردار ادا کیا۔ اسی دور میں اردو صحافت نے بھی نئی کروٹ لی اور علمی و ادبی صحافت کو فروغ حاصل ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ، محمد علی جوہرؔ، حسرت موہانیؔ، مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرتؔ اور فیض احمد فیضؔ جیسے کہنہ مشق صحافیوں نے اردو میں ادبی صحافت کی بنیاد ڈالی۔ مذکورہ بالا تمام لوگوں میں قدرِ مشترک یہی تھی کہ یہ دنیائے ادب کے رخشندہ ستارے ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت کی خاردار وادی کے مسافر بھی تھے۔  
1936ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین ہندوستان نے ادب کو ملک میں بروئے کار آنے والے سماجی عوامل سے عملاً جوڑ دیا اور نظریاتی پرچارک کے لئے خاص طور پر مشاعرے منعقد کیے جاتے اور ترقی پسندوں کی تخلیقات شائع کرنے والے اخبارات اور رسائل کو بڑی دلچسپی سے تقسیم کیا جاتا۔ ہم خیالوں کو اکٹھا کرنے میں ادبی رسائل اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ فیضؔ، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، راجندر سنگھ بیدی اور اپندر ناتھ اشک کی تخلیقات بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ادبی رسالہ میں چھپنے لگی تھیں۔ ’ہمایوں‘ اور ’ادبی دنیا‘ کے بعد لاہور ہی سے 1937ء میں ایک اور رسالہ ’ادب لطیف‘انجمن ترقی پسند مصنفین ہندوستان کی پنجاب شاخ کے زیر اہتمام منظر عام پر آیا۔ فیض کو فوراً ’ادب لطیف‘کے کام اور رسالے کی مجلس ادارت میں شامل کر لیا گیا۔ جلد ہی انہوں نے صحافت کی باریکیوں سے آگاہی حاصل کر لی اور ادبی صحافت میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے ادارت کو زندگی کا اہم جزو بنا لیا۔ اس حوالے سے مرزا ظفر الحسن، ’عہد طفلی سے عنفوان شباب تک‘ مشمولہ باتیں فیض سے ص21پر لکھتے ہیں کہ فیض کہتے ہیں:
”ادب لطیف کی ادارت کی پیش کش ہوئی تو دو تین برس اس میں کام کیا۔ اس زمانے میں لکھنے والوں کے دو بڑے گروہ تھے ایک ادب برائے ادب کا اور دوسرا ترقی پسند ادب کا۔ کئی برس تک ان دونوں کے درمیان بحثیں چلتی رہیں جس کی وجہ سے کافی مصروفیت رہی جو بجائے خود ایک بہت ہی دلچسپ اور تسکین دہ تجربہ تھا“ 

فیض صاحب 1939ء تک ’ادب لطیف‘سے وابستہ رہے اسی دوران ان کے اندر اعلیٰ تعلیم کا خواب انگڑائیاں لینے لگا تھا۔ مہ و سال آشنائی میں فیض صاحب کہتے ہیں کہ 
”میں نے 1939ء کے وسط میں مزید تعلیم کے لئے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ ایک اطالوی بحری جہاز میں جگہ بھی مخصوص کروا لی تھی، ٹکٹ تک خرید لیا تھا، کپڑے بنوا لیے تھے،بس جہاز کی روانگی کا انتظار تھا، جہاز کے جانے میں ابھی کوئی دس دن باقی تھے جب خبر آئی کہ دوسری جنگ عظیم شروع ہو چکی ہے اور ملک سے باہر جانے کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں“
اس کے بعد فیض ؔ صاحب لاہور آگئے اور ہیلے کالج آف کامرس میں انگریزی کے لیکچرر ہو گئے انہی دنوں کے حوالے سے فیضؔ خود لکھتے ہیں کہ
 ”جب تین طرف سے فاشسٹوں کا ریلا یعنی مشرق سے برما، مغرب سے شمالی افریقہ، اور شمال سے جنوبی روس کی طرف بڑھنے لگا اور اپنا دیس بھی اس سہ شاخہ یورش کی زد میں نظر آنے لگا تو میں نے ہندوستانی فوج میں ملازمت کرلی“۔ 
فیضؔ صاحب1942ء میں لڑکپن کے دوست میجر مجید ملک کے مشور ہ پر فوج میں کپتان ہو گئے اور ان کی خدمات نشر و اشاعت اور باشندگان ملک کے شعبے کو تفویض کی گئیں۔ ان کے ہمہ گیر فرائضِ منصبی میں مختلف محاذوں سے روزانہ وائرلیس پر موصول ہونے والی خبروں کو یکجا کر کے جنگی خبر نامے تیار کرنا، ان پر تبصرے لکھنا اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے برقیوں سے لے کر اخبار و رسائل کی اشاعت تک کا کام شامل ہوتا تھا۔ فیض نے نشر و اشاعت و اطلاعات کا یہ کام اتنی قابلیت اور کامیابی سے کیا کہ 1943ء میں میجر اور 1944ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی جنگ کے اختتام پر M.B.E یعنی رُکن مملکت برطانیہ کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔ 
دوسری عالمگیر جنگ کے خاتمے کے بعد فیض فوجی ملازمت چھوڑنے کا سوچنے لگے، انہوں نے محکمہ تعلیم کو دوبارہ استادی لوٹانے کی درخواست بھی کی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک روز اچانک انہیں ایک انگریزی روزنامے کی ادارت سنبھالنے کی دعوت ملی۔ ڈاکٹر ایوب مرزا کی کتاب ”فیض نامہ“ کے مطابق فیض خود اس کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ: 
”ایک دن میاں افتخار الدین صاحب ہمارے پاس آئے اورکہا دیکھو ہم لاہور سے پاکستان ٹائمز کے نام سے انگریزی اخبار نکال رہے ہیں اور تمہارا نام چیف ایڈیٹری کے لیے طے پا گیا ہے۔ میں نے کہا میاں صاحب آپ کمال کر رہے ہیں میں نے صحافت میں کبھی قدم نہیں رکھا۔ بھلا اتنا بڑا پرچہ کیسے چلا سکتا ہوں؟ میرا سیدھا سادا سا جواب سن کرمیاں صاحب ناراض ہوئے اور کہا میں کوئی بے وقوف ہوں، تم نے مجھے جاہل سمجھاہے جو تمہارا نام تجویز کر آیا ہوں؟ اگر نا تجربہ کاری دلیل ہے تو فوج کا تمہیں کہاں تجربہ تھا؟ بس اب فوج سے ریلیز کی درخواست بھجوا دو، اور دو ماہ میں پرچہ سڑکوں  پر ہونا چاہئے“۔  
فیض صاحب نے میاں افتخار الدین کی پیش کش تھوڑے غور و فکر کے بعد قبول کر لی۔ ویسے بھی ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ بری نہ تھی۔انہوں نے فوج سے مستعفی ہو کر اخباری ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اس انہماک سے کام کیا کہ سونپی گئی ذمہ داری کے مطابق 4 فروری 1947ء کے دن ’پاکستان ٹائمز‘ کا شمارہ لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ شروع میں مدیر اعلیٰ کی مدد سے سینئر انگریز صحافی ’ڈیسمنڈینگ‘کا تقرر بھی کیا گیا جو صحافت و اشاعت کے کام کی باریکیوں سے فیض صاحب کو آشنا کر تاتھا مگر لُدمیلاوسیلئیوا کے مطابق فیضؔ نے جلد ہی فن صحافت میں مہارت حاصل کر لی اس انگریزمعاون کو خود ہی یہ احساس ہو گیا کہ بحیثیت اتالیق اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ابتداء میں پاکستان ٹائمز اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس میں چھپتا رہا مگر چند ماہ بعد پاکستان معرض وجود میں آگیا اور اسی دوران وہاں سے نکلنے والا اخبار ’ٹریبیون‘ بند ہو گیا تو PPL کے میاں افتخار الدین نے اس پریس کو بلڈنگ سمیت خرید لیا۔ فیض ؔصاحب نے اس اخبار کے لیے جو ٹیم منتخب کی وہ ان ہی کا حسن انتخاب ہو سکتا تھا مظہر علی خاں ان کے ساتھ جوائنٹ ایڈیٹر بنے تو زہیر صدیقی اور احمد علی خاں بھی ان کی ٹیم کا حصہ تھے۔ فیض کی یہ صحافتی ٹیم آگے چل کر ملکی صحافت کی نئی سمت متعین کرنے میں بھی معاون ثابت ہوئی۔ جدوجہد پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے میں ’پاکستان ٹائمز‘جیسے روزنامے کے اجراء نے تحریک پاکستان کو تقویت پہنچائی۔ پھرحصول پاکستان کے بعد تعمیر وطن کے ابتدائی مراحل میں فیض صاحب کی زیر ادارت ’پاکستان ٹائمز‘نے زور شور سے حصہ لیا۔ مختصر سے عرصے میں ہی پاکستان ٹائمز کا شمارمؤقر اور ممتاز روزناموں میں ہونے لگا چنانچہ جلد ہی پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیر انتظام ’پاکستان ٹائمز‘کے مماثل اردو روزنامہ ’امروز‘کے نام سے 4 مارچ1948ء کو جاری کیا گیا۔ اس وقت ’پاکستان ٹائمز‘کو ایک سال مکمل ہو چکا تھا۔ ’امروز‘ جاری ہوا تو فیض صاحب اس کے بھی چیف ایڈیٹر ہو گئے۔ ’امروز‘کا پہلا اداریہ بھی انہی کا رقم کردہ ہے۔انہوں نے امروز کے ادارتی عملے میں مولانا چراغ حسن حسرت، پروفیسرمحمد سرور اور حامد علی خاں کو شامل کر لیا۔ 
فیض ؔصاحب کی انتھک محنت نے دونوں اخبارات کو شہر ت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ’پاکستان ٹائمز‘ اور ’امروز‘ کے حوالے، کبھی اختلافی نوٹ کے ساتھ ہی سہی نہ صرف پاکستانی اخبارات بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لئے بھی روز مرہ کا معمول بن گیا اور فیض ؔصاحب کا شمار پاکستان کے صف اول کے مدیروں اور صحافیوں میں ہونے لگا تھا۔ 1948ء میں پاکستان میں پریس کی آزادی پر پہلی ضرب اس وقت پڑی جب پنجاب کی حکومت نے ’سویرا‘، ’نقوش‘، اور ’ادب لطیف‘ ضبط کر لیے۔ یہی وہ وقت تھا جب ملکی پریس حکومت مخالف اور موافق دھڑوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ فیض کی زیر ادارت نکلنے والے اخباروں نے اس ضبطی پر سخت تنقید کی تو باغی اخباروں کی ضبطی کے ساتھ ہی باغی صحافیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ 1948ء میں ’امر وز‘ لاہور میں ایک خبر کی اشاعت پر فیض احمد فیضؔ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے گئے۔ اور انہیں لاہور کے ڈپٹی کمشنر ظفر الحسن کی عدالت میں طلب کیا گیا،انہوں نے پیرول یا شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا عندیہ دیالیکن فیض صاحب نے انکار کر دیا۔ جب محمود علی قصوری کو ان کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ فوراً ان کی طرف سے پیروی کرنے عدالت پہنچے، فیض ؔصاحب نے انہیں بھی روک دیا۔ آخر کار خود عدالت نے فیض کی پیروی کے لئے وکیل مقرر کیا اور دلائل سننے کے بعد ’باعزت‘ طور پر رہا کر دیا۔ اگلے روز کے ’امروز‘ میں فیض صاحب کے دستخطوں کے ساتھ ایک سخت اداریہ شائع ہوا۔ یہ پی پی ایل کے اخباروں کی تاریخ میں پہلا اور آخری اداریہ تھا جو ان کے نام کے ساتھ شائع ہوا۔ دستخط کر کے انہوں نے اس سخت اداریے کی تمام تر ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ 
فیض صاحب ہمیشہ آزادی صحافت کے لیے کوشاں رہے مثلاًماہنامہ ’جاوید‘ لاہور نے جس کے ایڈیٹر عارف عبدالمتین اور مالک نصیر انور تھے، مارچ 1949ء میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ شائع کیا۔ اس کی اشاعت کے ایک مہینے بعد پنجاب پریس برانچ حرکت میں آگئی اور اس رسالے کو ضبط کر لیاگیا پھر معاملہ پریس ایڈوائزری کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا جس کا اجلاس’پاکستان ٹائمز‘ کے دفتر میں ہوا۔ منٹو کے مطابق کنوینر فیض احمد فیضؔ کے علاوہ حمید نظامی، وقار انبالوی، ایف ڈبلیو بسٹین، امین الدین صحرائی، مولانا اختر علی خان، اور پولیس کی پریس برانچ کے چیف اس اجلاس میں شریک ہوئے فیض صاحب کے سوا تمام شرکاء نے منٹو کے خلاف گواہی دی۔ اپریل 1949ء میں ایسٹرن نیوز ٹرسٹ قائم کیا گیا جس نے رائٹر زسے پاکستان میں موجود یونٹ خرید لیے اس طرح APP وجود میں آئی جس کے مینیجنگ ٹرسٹی ملک تاج الدین تھے جبکہ دوسرے ٹرسٹیوں میں فیض احمد فیضؔ بھی شامل تھے۔  
1951ء میں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوئے اور تقریباً چار سال تک عملی صحافت سے دور رہے۔ دوران اسیری ان کے گھریلو معاملات کا سہارا بھی صحافت ہی بنی۔ فیض کی گرفتاری کے بعد اخبار کے مدیر اعلیٰ کے عہدے پر ان کے ساتھی مظہر علی خاں مقرر ہوئے۔ انہوں نے ایلس فیض کو ’پاکستان ٹائمز‘میں خواتین اور بچوں کے صفحات کی مدیرہ کا کام سونپ دیا۔ ایلس نے 1962 ء تک یہ کام کیا۔ فیض صاحب بھی رہائی کے بعد واپس ’پاکستان ٹائمز‘ میں آگئے اور پہلے کی طرح مضامین اور اداریوں میں دو ٹوک انداز میں سرکاری سیاست کے خلاف آواز اٹھانے لگے اور حکومت کی داخلہ پالیسی کو عوام اور خارجہ پالیسی کو امریکہ نواز کہنے سے گھبرائے نہیں۔ پی پی ایل ہی کی طرف سے 20 جنوری 1957ء کو  ہفت روزہ ’لیل و نہار‘ لاہور سے جاری کیا گیا۔ اس پرچے کے ابتدائی شماروں پر فیض صاحب کا نام مدیر کے طور پر شائع ہوا لیکن چند ماہ بعد ان کا نام چیف ایڈیٹر اور سبط حسن کا نام مدیر کی حیثیت سے شائع ہونے لگا۔ فیض صاحب کی زیر ادارت پی پی ایل کے اخباروں اور رسائل نے ملکی صحافت میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ ان پرچوں نے نہ صرف نئے صحافتی رجحانات متعارف کروائے بلکہ بیرونی دنیا میں بھی پاکستانی صحافت کا نام روشن کیا۔ لیکن ارباب اقتدار کو ان اخبارات کی بے باکی اور حق گوئی کبھی پسند نہ آئی۔ پھر ایوب خاں کے ’پر امن انقلاب‘کے ایک ہفتے کے اندر اندر صحافت کو پابندِ سلاسل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے سیفٹی ایکٹ کے تحت پی پی ایل کے ’لیل و نہار‘کے سبط حسن اور چار دن بعد ’امروز‘کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان دنوں ’پاکستان ٹائمز‘کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیضؔ، حفیظ جالندھری کے ہمراہ ایک ادبی کانفرنس میں شرکت کے لیے تاشقند گئے ہوئے تھے واپسی پر وہ بھی اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا دیے گئے۔ تینوں کو سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار رکھا گیا اور جیل میں سی کلاس دی گئی پھر جسٹس ایم آر کیانی کے حکم پر اسیر ایڈیٹروں کو فروری 1959ء میں رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد ان کے سامنے روزگار کا مسئلہ آگیا کیونکہ پہلی بار جیل سے آئے تھے تو ’پاکستان ٹائمز‘کا ادارہ سلامت تھا مگر اب مارشل لاء کی حکومت نے اسے قبضے میں لے لیا تھا۔ حکومت نے انہیں اپنے چکر میں پھنسانا چاہا مگر وہ جھانسے میں نہ آئے فیض خود کہتے ہیں:  
”جیل سے رہائی کے تیسرے دن میرے ملازم نے بتایا کہ پولیس کی گاڑی آئی ہے۔ میں نے کہا پھر آگئے، دیکھا کہ نذیر رضوی ہیں،پوچھا کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں آئی جی، سی آئی ڈی کی حیثیت سے یہاں نہیں آیا بلکہ تمہارے دوست کی حیثیت سے آیا ہوں، میں نے کہا بہت اچھی بات ہے، بتاؤ کیا بات ہے؟  نذیر رضوی کہنے لگے وہ جو اخبار سرکار نے لے لیا ہے آپ اس کے چیف ایڈیٹر بن جائیں۔ میں نے کہا بھاگ جاؤ“۔ 
نذیر رضوی کو بھگانے کے بعد فیض ؔصاحب نے کافی عرصہ صحافت سے الگ رہ کر گزارا۔ پھر جب یحییٰ خاں کی حکومت کے آغاز میں کراچی سے 22 فروری1970ء کو ’لیل و نہار‘ دوبارہ جاری ہوا تو فیض صاحب اس کے چیف ایڈیٹر مقرر ہوئے یہ رسالہ ڈیڑھ سال تک نکلتا رہا۔ نئے حالات میں فیض صاحب نے ’لیل و نہار‘ کا نیا مزاج بنایا اور خود اداریے لکھے، سیدہ برجیس بانو کے مطابق ’لیل و نہار‘میں تقریباً 139 اداریے فیض صاحب کے تحریر کردہ ہیں جن میں ملکی و غیر ملکی اہمیت کے بہت سے مسائل سے بحث کی گئی ہے۔ 1970 کے انتخابات میں انہوں نے زیادہ تر اداریوں میں الیکشن کی اہمیت، انتخابی مہم، سیاسی پارٹیوں کا منشور و کردار، مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی رنجشیں جیسے مسائل کو موضوع بحث بنایا۔ 
بھٹو کا دورفیضؔصاحب کے لیے نسبتاًخوشگوار رہا اور وہ ثقافتی حوالے سے متحرک بھی رہے۔ تاہم ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد 1978ء میں انہوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی اور یہاں سے دہلی پھر ماسکو چلے گئے اور افروایشیائی ادیبوں کی چھٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے انگولا گئے وہیں انہیں LOTUS کا مدیر چن لیا گیا اس طرح 1979ء میں فیض ؔصاحب ایلس جو ان کی سیکرٹری مقرر ہوئیں کے ہمراہ رسالے کے صد ر مقام بیروت چلے گئے۔ پروفیسر فتح محمد ملک’فلسطین اردو ادب میں‘، میں فیض کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ فیض صاحب کا کہنا ہے کہ:  
”جن دنوں ہم لندن میں مقیم تھے (1962-64)تو میں نے اس انجمن کے منتظم کو یہ تجویز لکھ کر بھیجی کہ اس تنظیم کا کوئی رسالہ بھی ہونا چاہئے جس میں مختلف ایشیائی اور افریقی ممالک کی ادبی تخلیقات کے تراجم چھپ سکیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے بیروت اور اس کے بعد بغداد، قاہرہ، الجزائر وغیرہ جانا ہوا جس کی رپورٹ تو میں نے لکھ کر بھیج دی لیکن یہ تجویز برسوں کھٹائی میں پڑی رہی۔ آخر 1968ء میں قاہرہ سے جو انجمن کا صدر دفتر قرار پایا تھا، ایک سہ ماہی رسالہ ’لوٹس‘ کے نام سے چھپنا شروع ہوا۔ اس کے مدیر اعلیٰ ایک مصری ادیب اور صحافی یوسف السباعی چنے گئے جو انجمن کے جنرل سیکرٹری بھی تھے اور بعد میں صدر سادات کے وزیر ثقافت اور ان کے مشیر خاص بھی،جب سادات نے اسرائیل سے پینگیں بڑھانا شروع کیں تو یہ بھی یروشلم ان کے ساتھ گئے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کسی نے قبرص میں ان کا کام تمام کر دیا۔ اس دوران یہ رسالہ تو چھپتا رہا لیکن مدیر اعلیٰ کی جگہ خالی رہی کیونکہ انجمن کی جنرل کونسل کی منظوری لازمی تھی چنانچہ گذشتہ جون میں یہ اجلاس انگولا میں منعقد ہوا تو قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند نکلا اور ساتھ ہی طے پایا کہ اس کا عربی ایڈیشن قاہرہ کی بجائے بیروت سے چھپے گا۔ انگولا سے واپسی پر معین نے تجویز کیا کہ بقیہ تفصیلات طے کرنے کے لئے ہم ان کے ساتھ بیروت چلیں“۔ 
اس طرح فیض صاحب کا نام ”لوٹس“ کے ایڈیٹر ان چیف کے طور پر چھپنے لگا۔ یہ رسالہ انگریزی کے علاوہ، فرانسیسی اور عربی زبان میں مشرقی جرمنی سے وہاں کی  Solidarity Committee of the German Democratic Republic کے زیر اہتمام شائع ہوتا تھا۔ فیض نے ’لوٹس‘کے لیے بھرپور اداریے لکھے اور ساتھ ہی ساتھ فلسطینی عوام کے مسائل سے گہری ہمدردی بھی ظاہر کی۔ 1982ء میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران ایک گولہ ان کے مکان پر بھی گرا۔ خوش قسمتی سے وہ اور ایلس بچ گئے اور پھر ماسکو چلے گئے یہاں بھی انہوں نے لوٹس کے مدیر اعلیٰ کا کام کیا۔ 1983ء میں وہ وطن واپس آگئے۔ 
4 جنوری 1984ء کو ملک بھر میں ایپنک کی اپیل پر ”یوم آزادی صحافت“ منایا گیا کراچی میں پریس کلب نے ایک تقریب منعقد کی جس کے مہمان خصوصی فیض احمد فیضؔ تھے۔ پابندیاں عائد کرنے والے قوانین مثلاً سیفٹی ایکٹ کے خلاف صحافی برادری کی مسلسل جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فیض احمد فیضؔ نے کہا کہ یہ جدوجہد پاکستان جتنی ہی پرانی ہے۔ انہوں نے یاد کیا کہ انہوں نے خود بھی ایسے قوانین کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اس کے نتائج کا سامنا کیا تھا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے قیام کے بعد پابند کرنے والے ان قوانین کا نفاذ ہی شاید بیوروکریسی کی جانب سے پہلا غلط اقدام تھا۔ 
20 نومبر 1984ء کو فیض صاحبؔ انتقال کر گئے۔ اسی شام ریڈیو پاکستان نے ان کے حوالے سے ایک تعزیتی پروگرام نشر کیا۔ 22 نومبر کو روزنامہ ’حریت‘نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ریڈیو پاکستان نے سات سال سے انہیں بلیک لسٹ کر رکھا تھا فیض ؔ صاحب کو نہ کسی مشاعرے میں دعوت دی جاتی تھی اور نہ ان کی غزلیں ریڈیو اور ٹی وی پر گائی جاتی تھیں۔ پی ٹی وی کے مشہور پروگرام ”چہرے“ میں جس واحد معروف شخصیت کو شامل نہ کیا گیا تھا وہ فیضؔ تھے۔ 22 نومبر کو کراچی پریس کلب کے یادگاری اجلاس میں ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی اس عظیم شاعر اور صحافی کی موت کی خبر پر اپنے ”سنگ دلانہ سلوک“ کے باعث شدید تنقید کی زد میں آئے۔ 23نومبر کے روزنامہ ’ڈان‘ کے مطابق پروفیسر کرار حسین، ہاجرہ مسرور، اور سعیدہ گزدر نے ان کی موت کی خبر کو سرسری انداز میں نشر کرنے پر سرکاری ذرائع ابلاغ کی سخت مذمت کی۔ 24 نومبر کے ’پاکستان ٹائمز‘ میں اخبار کے ایک قاری نوازش علی خاں کا ایڈیٹر کی ڈاک میں خط چھپا جس میں نوازش علی نے لکھا کہ ”فیض کے انتقال اور تدفین کے بارے میں آپ کے اخبار کی رپورٹنگ مناسب، اگرچہ قدرے محتاط تھی۔ آخر فیض عظیم ترین معاصر شاعر ہونے کے علاوہ ’پاکستان ٹائمز‘ کے پہلے ایڈیٹر بھی رہے تھے۔ ان کی موت کے موقع پر تھوڑے بہت جذبے کا اظہار ایسی بے محل بات نہ ہوتی“۔ 

فیض صاحب محض تفننِ طبع کے لئے صحافت نہیں کرتے تھے بلکہ وہ فن صحافت کو سماجی ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے خواہشمند صحافی تھے ان کے صحافتی نظریات کا اظہار روزنامہ ’امروز‘کے پہلے اداریے میں بھی نمایاں ہوا۔ فیضؔ 4 مارچ 1948ء کو لکھتے ہیں کہ
 ”پاکستان میں اور آسائشوں کی کمی ہو تو ہو اردو اخبارات کی کمی نہیں …… ہم نے ان اخبارات کی تعداد میں اضافہ کرنا کیوں ضروری سمجھا۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ کوئی ایسا اچھوتا مسئلہ ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ جو مسائل ہمارے سامنے ہیں وہی سب کے سامنے ہیں اگر کوئی بات ہے تو صرف اتنی کہ ہماری قوم اور ہمارے دیس کے لیے ان مسائل کی نوعیت اس نوع کی ہے کہ ان پر بحث اور ذکر، فکر اور محاسبہ کی بہت گنجائش باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی“۔
مزید لکھتے ہیں کہ 
”ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پڑھنے والے اپنے دیس اور باقی دنیا کے حالات کا صحیح اور بے لاگ اندازہ کر سکیں اس کے لئے کسی خاص عقیدہ یا نقطعہ نظر کو ان پر ٹھونسنے کے لئے خبروں میں طمع اور رنگ سازی سے احتراز کیا جائے۔ ہمیں لازم ہے کہ ہر سیاسی و سماجی یا اقتصادی مسئلے کو ان ہی شاکر او ربے زباں عوام کی نظر سے دیکھیں جن کے مسائل لا تعداد ہیں۔ پاکستان کی حکومت ہماری قومی حکومت ہے اس لیے آج کل سب لکھنے والوں کو ایک دوہری سفارت سپرد ہے عوام کی سفارت  اور حکومت کی سفارت عوام کی مجالس میں“۔ 
فیض صاحب کے اداریوں کے رجحان اور میلان  سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی صحافت بھی انکی شاعری کی طرح اپنے عہد کی ترجمان ہے عوامی مسائل کی ترجمانی کے ساتھ انہوں نے جماعتی سیاست پر بھی لکھا۔ان کی تحریروں میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ نظر آتا ہے تاہم وہ بے جا کسی کی حمایت کرنے کی بجائے ہمیشہ متوازن رائے دیتے۔ ان کے موضوعات میں تنوع نظر آتا ہے انہوں نے صحافت بالخصوص اردو صحافت کو سنجیدگی اور متانت کے علاوہ وقار و وجاہت بھی عطا کی،ساتھ ہی ساتھ طنز کی تیکھی کاٹ ان کے اداریوں کے مزے کو دوبالا کر دیتی تھی۔ ان کے اداریے ادبی چاشنی سے بھرپور ہوتے تھے انہوں نے ادبی علامات و استعارات کو سیاسی و سماجی پس منظر میں استعمال کر کے انہیں نئے معانی سے روشناس کرایا،اسی لئے وہ اپنے ہمصر مدیروں سے مختلف اور ممتاز ہو جاتے ہیں۔ 1970ء اور 1971ء  میں لیل و نہار کے اداریوں میں فیض مقتدر قوتوں کو وطن عزیز کے سیاسی بحران کے تناظر میں نوشتہ دیوار پڑھنے کی تنبیہ اور تلقین کرتے رہے مگر کسی نے ان کی باتوں پر کان نہ دھرے۔مختصراً یہ کہ فیض صاحب کے اداریے خردافروزی اور تحمل کا درس دیتے ہیں اور آج بھی صورتحال سے اتنے ہی متعلق  ہیں جتنا کے اولین اشاعت کے وقت تھے 
”فیض کی صحافت کے بارے میں انگریزی صحافت کی اہم شخصیت اور فیض کے ساتھی احمد علی خاں اپنے ایک مضمون ”فیض ایک صحافی“ میں لکھتے ہیں کہ:  
”فیض صاحب نے صحافت کے میدان میں اس وقت قدم رکھا جب ملکی صحافت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی۔ تقسیم سے سال بھر پہلے تک برصغیر پاک و ہند میں، جہاں کئی کثیر الاشاعت انگریزی روزنامے کانگریس کے ہم نوا تھے وہاں صرف تین قابل ذکر انگریزی روزنامے تحریک پاکستان کے حامی تھے۔ ڈان دہلی سے نکلتا تھا جبکہ اسٹار آف انڈیا اور مارننگ نیوز کلکتے سے نکلتے تھے۔ان دنوں اس علاقے میں جواب پاکستان کہلاتا ہے انگریزی کے چار قابل ذکر روزنامے تھے۔ ’ٹریبیون‘اور ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘لاہور سے شائع ہوتے تھے جبکہ ’سندھ آبزرور‘ اور ’ڈیلی گزٹ‘کراچی سے نکلتے تھے۔ یہ چاروں اخبار غیر مسلموں کے ہاتھوں میں تھے اور ان میں سے کوئی بھی تحریک پاکستان کا حامی نہ تھا۔ 1947ء میں میاں افتخار الدین نے ’پاکستان ٹائمز‘کی بنیاد ڈالی تو دو کام بیک وقت انجام دیئے، ایک تو تحریک پاکستان جو نازک موڑ پر پہنچ چکی تھی کو تقویت پہنچائی اور دوسرے نوزائیدہ مملکت کی آئندہ صحافت کی سمت اور معیار کا نشان بھی بنا دیا۔ لفظ پاکستان کے شیدائی پہلے تو اس کے نام پر ہی جھو م اٹھے اور پھر بہت جلد اس اخبار کے صحافتی معیار، وقار اور متین انداز سے متاثر ہونے لگے۔ فیض صاحب نے جب اس کی ادارت کا بوجھ سنبھالا تو وہ اس کی ذمہ داری کے لئے نئے تھے لیکن ان میں اس کام کی بنیادی صلاحیتیں موجود تھیں۔ علمی لیاقت، سیاسی ادراک، تاریخ کا شعور، معاشرے کے مسائل کا علم، ادب پر گہری نظر اور اچھی نثر (انگریزی و اردو) کا سلیقہ اور اپنی تمام صلاحیتوں سے انہوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ان کے اداریے سلاست، شگفتگی اور ادبیت کے باعث ابتداء ہی سے مقبول ہوئے۔ ملک کے سیاسی مسائل پر فیض صاحب کے اداریے وسیع حلقے میں پڑھے اور پسند کیے جاتے تھے“۔  
ان کے ایک اور دوست اور صحافی حمید اختر اپنے مضمون ’فیض شخصیت کی چند جھلکیاں‘ میں ان کی اداریہ نویسی کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں کہ: 
”وہ اپنے اداریے بالعموم شام کی محفلوں کے اختتام پر پریس میں کمپوزیٹروں کے برابر بیٹھ کر لکھتے تھے۔ موضوع کا انتخاب تو ہمیشہ صبح کو ہی ہوجاتا تھا لیکن پریس والوں کو اداریہ رات کے دس گیارہ بجے سے قبل کبھی نہیں ملتا تھا۔ پاکستان ٹائمز کے عملے کا خیال تھا کہ وہ کام کو آخری وقت تک ٹالتے رہتے تھے۔ میرے خیال میں یہ رائے درست نہیں۔ اصل میں وہ دن بھر اپنے موضوع کے متعلق سوچتے رہتے تھے اور اس دوران غائب دماغی کے مظاہرے بھی کرتے رہتے تھے۔ دن بھر یا شام کو ملنے والے یا محفل میں ساتھ بیٹھنے والے انہیں غیر حاضر پاتے تو شاعر سمجھ کر معاف کر دیتے۔ جبکہ حقیقتاً وہ آخری وقت تک اپنے اداریے کے متعلق سوچتے رہتے تھے۔“
 سید سبط حسن جو دنیائے صحافت میں ان کے رفیق خاص رہے وہ ’سخن در سخن‘ میں فیض صاحب کی صحافتی خدمات کے متعلق یوں بیان کرتے ہیں کہ: 
”فیض صاحب نے دس گیارہ سال اخبار نویسی کی۔ پاکستان کی صحافت کی تاریخ میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی  انہوں نے اخبار نویسی بڑے آن بان سے کی۔ انہوں نے ضمیر کے خلاف کبھی ایک حرف بھی نہ لکھا۔ بلکہ امن، آزادی اور جمہوریت کی ہمیشہ حمایت کی۔ اقتدار کی جانب سے شہری آزادیوں پر جب کبھی حملہ ہوا تو فیض صاحب نے بے دھڑک اس کی مذمت کی اور جس حلقے، گروہ، جماعت یا فرد سے بے انصافی کی گئی انہوں نے اس کی وکالت کی۔فیض صاحب کے اداریے اپنی حق گوئی کی ہی بدولت مقبول نہ تھے بلکہ وہ نہایت دلچسپ ادبی شہ پارے بھی ہوتے تھے جن کو دوست اور دشمن سب لطف لے کر پڑھتے تھے“۔
اپنی بات کوفیض احمد فیض ؔکی اردو صحافت نامی کتاب کی صنفہ سیدہ برجیس بانو کے اس تجزیے پر ختم کرتا ہوں کہ 
”فیض صاحب صحافیوں کی اس چھوٹی سی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جس نے ملکی صحافت کا رُخ اور اقدار متعین کرنے، صحافتی اخلاق کا ایک معیار بنانے اور اس کی ترقی کے لئے راستہ صاف کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں اور مستقبل کا مؤرخ تاریخ ِصحافت مرتب کرتے وقت فیض کا نام آزاد اور با مقصد صحافت کو فروغ دینے والے صحافی کی حیثیت سے نظر انداز نہیں کر سکے گا“۔  

سوموار، 17 نومبر، 2014

”غنیمت از خاکیان ہند غنیمت بود“


ہماری ادبی و شعری تاریخ میں سخنوروں کی بستی کنجاہ ”مدینہ الشعراء“ کی شہرت رکھتی ہے،یہ اعزاز کسی فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ صدیوں سے شعراء کی بستی ہے جس نے بے شمار شعراء کو جنم دیا جنہو ں نے اندرون و بیرون ممالک خطہئ یونان گجرات کی شہرت کو دوام بخشا ہے۔ میری دیرینہ خواہش تھی کہ کنجاہ کی سرزمین پر سوئے عظیم شعراء کی تربت پر حاضری دوں، حُسن اتفاق کہ گذشتہ دنوں کنجاہ کے علمی و ادبی حلقوں کے روح رواں جواں عزم اور پختہ فکر احسان فیصل کنجاہی کا دعوت نامہ ملا کہ شریف کنجاہی ایوارڈز 2014کی تقریب میں ضرور شرکت کریں۔ میں نے دعوت کو غنیمت جانا اور 14نومبر بروز ہفتہ کی سہ پہر گجرات کے ”بیت الحکمت“ المیر ٹرسٹ لائبریری کے سر پرست اور ”فنافی الکتب“محترم عارف علی میر کی راہنمائی و رفاقت میں کنجاہ پہنچااور تقریب میں شرکت کی۔میرے لیے یہ امر باعث اعزاز ہے کہ مجھے بزم غنیمت اور احسان فیصل کنجاہی کے ادبی ہفت روزہ کامرانیاں کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں ”شریف کنجاہی ایوارڈ2014“ سے نوازاگیا۔ راولپنڈی سے تشریف لائے بزرگ شاعر، ناول نگار محترم زہیر کنجاہی نے اپنے دست مبارک سے یہ ایوارڈدیا۔ شریف کنجاہی اردو اور پنجابی ادب، شعر اور تحقیق کے حوالے سے عالمی سطح پر مستند نام ہے۔ میرے لیے یہ بات اس لیے بھی قلبی مسرت کا سبب بنی کہ اس طرح جناب شریف کنجاہی کے نام سے کسی نہ کسی طور میرا نام جڑ گیا ہے۔ تقریب میں بزرگ شاعر سرور ابنالوی، منیر صابری کنجاہی، پروفیسر تفاخر گوندل، رخسانہ نازی، اشرف نازک سے ملاقات کا موقع بھی ملا، تقریب کے اختتام پر میں نے برادرم احسان فیصل کنجاہی سے درخواست کی کہ خواہ اندھیرا ہو گیا تاہم میں مولانا محمد اکرم غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی کی قبور پر حاضری دینا چاہتا ہوں، ان کی وساطت سے نامورشعراء منیر صابری کنجاہی اور اشرف نازک نے کمال شفقت سے ہمارا ساتھ دیا اور روضہئ غنیمت تک رسائی فراہم کی۔ وہی غنیمت کنجاہی جس کے بارے میں ”شعراء العجم فی الہند“کے مطابق تذکرہ نگار مرزا محمد افضل سر خوش نے لکھا ہے کہ ”غنیمت از خاکیان ہند غنیمت بود“ اورنگزیب عالمگیر عہد کے قادرالکلام فارسی شاعر غنیمت کنجاہی کے علمی کمالات اور روحانی محاسن و تصرفات سے ان کے زمانہ حیات سے لے کر آج تک اصحاب فہم و ادراک متاثر نظر آتے ہیں۔ سید شرافت نوشاہی رقمطراز ہیں کہ ”آپ عالم یگانہ، فاضل زمانہ، علامہ دوراں، فہماہ، بلند مکاں، شاعر با کمال، ناظم بے مثال،غواص، بحر شریعت، گوہر دریائے حقیقت، صاحب عشق و محبت و علم وفضل تھے“ عہد عالمگیری میں غنیمت کنجاہی کی شاعری کا سورج نصف النہار پر تھا۔ پنجاب اور ہند کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی آپ کی شاعری کے چرچے تھے۔ ان کی شاعری کا ڈنکا بجتا تھا۔ ان کی مثنوی ”نیرنگ عشق“ کو ہندوستان، افغانستان اور وسطیٰ ایشیا میں قبول عام کی سعادت ملی۔ فارسی تذکروں کے علاوہ یورپی مستشرقین بھی ان کا ذکر اپنی تالیفات میں احترام و محبت سے کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء واجداد ملک شام سے ہجرت کر کے کنجاہ آئے تھے۔ صادق علی دلاوری سید جعفر شاہ گیلانی جو غنیمت کے قریب العصر تھے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”غنیمت ابھی شکم مادر میں ہی تھے کہ ایک دن حضرت خضر ؑتشریف لائے اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بشارت دی کہ اس حمل کوغنیمت جانو۔ یہ فرزند مقبول درگاہ خدا ہوگا۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کی مناسبت سے ہی محمد اکرم نے اپنا تخلص غنیمت رکھا۔ سادہ مزاج اور خوش خلق انسان تھے۔ لاہور کے اس عہد کے گورنر نواب محمد مکرم خان اور اس وقت کے سیالکوٹ کے فوجدار مرزا ارتق بیگ سے دوستی تھی۔

دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ انھیں پنجاب سے بڑی محبت تھی بلکہ حُبِ پنجاب ان کے خون میں سرایت کر گئی تھی۔ وہ سچے وطن پرست اور زندہ دلان پنجاب کے عاشق تھے۔ جہاں بھی جاتے پنجاب کو یاد کرتے۔ جنت نظیروادی کشمیر کی سیر پر گئے مگر وہاں بھی پنجاب کی یاد انھیں ستاتی رہی انہوں نے شعر کہا کہ
آب شد کشمیر در چشم غنیمت از حجاب
تاکہ دانستہ نام خطہ پنجاب برد 
ایک اور جگہ پنجاب سے اپنی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ 
نخواھم لالہ زار گلشن ایران کہ سربرزدہ
گل داؤدی صبح وطن از خاک پنجابم
غنیمت نے اس زمانے میں بابا فغانی شیرازی، نظیری، مرزا صائب، قاسم دیوانہ مشہدی، ناصر علی سرہندی، جلال اسیر اصفہانی جیسے فارسی شعراء کے تتبع میں شعر کہے۔ عظیم مرتبے کے عظیم فارسی شاعر کے مزار پر پہنچے تو وہاں مزار کی خستہ حالت دیکھ کر کچھ کوفت بھی ہوئی۔ ان کی خانقاہ ان کے شایان شان نہیں۔ مزار کنجاہ کے جنوب میں باغ دیواناں سے متصل ہے۔ غنیمت کنجاہی نے 1108ھ میں وفات پائی تو ان کے دوست گورنر لاہور خانصاحب محمد مکرم نے 1110ھ میں مزار کی تعمیر کروائی ایک بڑا رقبہ بھی مزار کے ساتھ ملحق کیا۔ مگر وقت گذرنے کے ساتھ اس کی حالت خراب ہو گئی تو 1928ء میں اس وقت کنجاہ  میں تھانیدار بخشی منظور علی نے شہر سے اعانت و امداد اکٹھی کی اور پندرہ سو روپے کی لاگت سے مزار کی تعمیر نو کروائی۔ عمارت پھر خستہ حال ہوئی تو پھر بھی کسی سرکار کو یا ادبی ادارے کو خیال نہیں آیا مگر رئیس کنجاہ ملک فضل الہیٰ نے 1960ء میں ذاتی حیثیت میں مرمت کروا دی۔ زیادہ عرصہ نہ گذرا تو مزار پھر خستہ حال ہو گیا۔ 1994 میں بزم غنیمت کنجاہ کے شعراء نے پھر ذاتی حیثیت میں کوششیں شروع کیں۔ کنجاہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلقہ انتخاب رہا ہے۔ شعراء نے چوہدری پرویز الہیٰ سے اس حوالے سے مدد طلب کی تو اس شاعر عظیم کے مزار کی تعمیر کے لیے انہو ں نے ’کمال سخاوت‘کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف30 ہزار روپے عطا کیے۔ بزم غنیمت نے ادھر ادھر سے بھی فنڈز اکٹھے کیے اور مقبرے کی تعمیر کا آغاز کیا تو دوران کھدائی معلوم ہوا کہ آدھی قبر سابق دیوار کے نیچے ہے۔ اسے کھدوا کر ٹھیک کروایا اور ایک عامیانہ سا مزار تعمیر کروا دیا گیا۔ کنجاہ کے باسی بھی وقت گذرنے کے ساتھ اس فرزند عظیم کو فراموش کر بیٹھے۔ حکمران اور ضلعی انتظامیہ کو اس فارسی شاعر سے کیا لینا دینا تھا لہذاٰ کوئی وارث نہ رہا تو اہل قصبہ نے اپنی اپنی بساط کے مطابق ملحقہ زمین پر قبضہ کر کے رہائشیں تعمیر کروا لیں۔ اب عصر حاضر کے عالمی شہرت یافتہ پنجابی شاعر شریف کنجاہی بھی وصیت کے مطابق غنیمت کنجاہی کے پہلو میں دفن ہیں۔ وہ صدارتی ادبی ایوارڈ یافتہ شاعر و ادیب ہیں۔دو عظیم ہستیاں جنہوں نے دنیا بھر میں کنجاہ، گجرات اور پنجاب کو شہرت بخشی آج گمنامی کی حالت میں حکمرانوں کی توجہ کے طالب ہیں۔میری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، ڈویژنل اور ضلعی ارباب اختیار، سرکاری ادبی اداروں سے التماس ہے کہ غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی کے مزار کی حالت زار پر توجہ دیں اورسرکاری امداد سے ان کے شایان شان مزار تعمیر کروایا جائے اور مزار کی زمینوں پر قبضہ ختم کروایا جائے۔ کنجاہ کے ادبی جنونیوں نے ہمت و جرأت سے وہاں شریف کنجاہی میموریل لائبریری کی تشکیل کے لیے ہال تعمیر کروایا ہے جو تا حال نامکمل ہے۔ اس لائبریری کے قیام کو ہر ممکن طور پر اعانت فراہم کی جائے۔ حکمرانوں کی بے حسی بڑی بے رحم ہو گئی ہے۔ علماء و ادیبوں سے تو انہیں کوئی تعلق ہی نہیں۔ غنیمت کنجاہی جیسے لوگ کسی سماج کا سرمایہ افتخار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی قدر کرنا درحقیقت اپنی اور اپنی قوم کی قدر کرنے کے مترادف ہوتا ہے  ہم ان کے مقبرے یا علمی اثاثے کی اشاعت نو کی طرف کوئی توجہ دیں یا نہ دیں ان کا مقام و مرتبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ عظیم ہستیاں ہماری تاریخ ہیں اور جو قومیں تاریخ کو فراموش کر دیتی ہیں، ان کا جغرافیہ انہیں فراموش کر دیتا ہے۔گوہر نوشاہی لکھتے ہیں کہ ”مولانا غنیمت کنجاہی نوشاہی فارسی ادب کے ان معروف شعراء میں سے ہیں جن پر سر زمین پنجاب ا س وقت تک فخر و ناز کرے گی جب تک یہاں فارسی ادب کا ذوق باقی ہے۔ انہوں نے غیر ملکی ہونے کے باوجود فارسی زبان پر وہ قدرت حاصل کی کہ اساتذہ فن ان کے حضور میں تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوئے۔ ایسی ہستیاں دنیا سے روپوش ہو جاتی ہیں لیکن روحانی طور پر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ان کے اقوال اور ان کے کلام دنیا کے لیے مشعل راہ اور قندیل بزم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ “

جمعہ، 14 نومبر، 2014

رنگوں کے اثرات


رنگوں کا انسانی تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت سے بھی گہرا تعلق ہے۔ ہم رنگوں میں عمر بسر کرتے ہیں مگر شعوری طور پر ان کی موجودگی یا عدم موجودگی کا ادراک نہیں کرتے۔ حالانکہ فطرت کے رنگوں میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا لینا انسان کے ارفع اعمال میں شمار کیے جانے کے لائق ہے۔ جس طرح شعروں کا انتخاب رسوا کر سکتا ہے اسی طرح رنگوں کا انتخاب بھی دِل کا معاملہ کھول سکتا ہے۔ سُروں کی مانند رنگ بھی انسانی طبیعت پر گہرے اثر ڈالتے ہیں۔ انسانی شخصیت، مزاج اور موڈ پر رنگوں کے اثرات کا ماہرانہ مطالعہ کر کے دلچسپ نتائج اخذ کیے جاتے ہیں یہ اثرات اتنے عام ہیں کہ ان کے جائزے کے لیے خصوصی تجربات کی بھی ضرورت نہیں پڑتی سفید، سیاہ، سرخ، زرد اور نیلا رنگ بہت جلد مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے اسی لیے با ذوق افراد اپنے ماحول، رہائش، دفاتر، بیڈ رومز اور دیواروں کے لیے رنگوں کا انتخاب غوروفکر کے بعد کرتے ہیں کیونکہ یہ بلاوجہ نہیں کہا جاتا کہ رنگ باتیں کریں اور رنگوں سے خوشبو آئے۔ 
رنگ ہمارے جذبات اور مزاج پر اثر انداز ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ ہمارا موڈ بنا کر اُن میں توانائی پھونکتے ہیں، یہ جذبات پر بھی اثر ڈالتے ہیں جو ہمیں خوش یا غمگین کر سکتے ہیں۔ رنگوں سے جنم لینے والی انسانی مسرتوں اور پریشانیوں کی کہانی خاصی دلچسپ ہے۔ قدیم راہبوں، جوگیوں، درویشوں، بھکشوؤں اور صوفیاء و اولیاء نے اپنے آپ کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے لیے کوئی خاص رنگ اپنے ساتھ مخصوص کیے رکھا اور اس طرح سبز، گیروے، نیلے، کالے، پیلے رنگ پہننے والوں کی کرامتیں ان کے لباس کے رنگوں سے مخصوص رہیں۔ روحانی علوم کے ماہرین کاخیال ہے کہ جو حرف ہم ادا کرتے ہیں وہ ایک خاص رنگ اور خاص طاقت کا حامل ہوتا ہے۔ غیب بینوں نے حروف کو لکھ کر جب تیسری آنکھ یعنی روحانی آنکھ سے دیکھا تو انہیں ’الف‘کا رنگ سرخ، ’ب‘کا رنگ نیلا، ’د‘کا سبز اور’س‘ کا زرد نظر آیا۔ ان حروف یا الفاظ کے اثرات کا جائزہ لے کر ہی انہوں نے اندازہ کیا کہ بعض الفاظ اسمِ اعظم کا درجہ رکھتے ہیں۔ غلام جیلانی برق نے روحانی علوم پر بحث کرتے ہوئے دلچسپ و اقعات بیان کیے ہیں مثلاً ”ایک محفل میں چند احباب گفتگو میں مصروف تھے اور میں دور بیٹھ کر ان کے اجسام لطیفہ کا مشاہدہ کر رہا تھا، ایک نے کسی بات پر زور سے قہقہہ لگایا، ساتھ ہی کوئی پھبتی کس دی کہ معاً اس کے جسم ِلطیف پر گہرے نسواری رنگ کا جالا تن گیا جسے دیکھ کر انتہائی کراہت ہوئی“کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص دیوانہ ہو جائے تو یہ ہالہ خاکستری ہو جاتا ہے، عبادت، ریاضت سے یہ روشنی نیلی ہو جاتی ہے۔ 
سُروں کی مانند رنگوں کے گہرے اثرات کو بھی تسلیم کرکے آج کل ماہرین انہیں جسمانی و اعصابی عوراض کے لیے بطور علاج استعمال کرنے لگے ہیں۔ صحت مند زندگی کے لیے رنگوں کا متوازن ہونا ضروری ہے، شوخ، چمکیلے اور خیرہ کرنے والے رنگ لوگوں کو حرکت پر اُکساتے ہیں۔ رنگوں کے ذریعے مریضوں میں مزاحمتی صلاحیتیں بڑھانے اور تیزی سے صحت مند ہونے میں مدد لی جاتی ہے۔ یہ روشنی ہوتی ہے جس سے رنگوں کے ملاپ کے بعدکچھ مقناطیسی توانائی کی شعاعیں نکلتی ہیں جب روشنی فوٹو پیکڑ سے گذرتی ہے تو یہ الیکٹرانک امپلس میں ڈھل جاتی ہے جو کہ دماغ تک سفر کرکے ہارمونز خارج کرتی ہے۔ جنوب میں روشنی کی کمی ہوتی ہے اس لیے وہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکا رہوتے ہیں۔ اس صورتحال کو ”سیزنل ایفیکٹس ڈس آڈر“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 
رنگوں کی تھراپی میں سات رنگ استعمال ہوتے ہیں جو جسم کو متوازن کرکے توانائی میں اضافہ کرتے ہیں اس لیے انہیں ہیلنگ کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے یہ کام نفسیاتی بنیادوں پر کیاجاتا ہے جس سے مخصوص رنگوں پر ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔ جب روشنی آنکھوں کے ذریعے داخل ہوتی ہے تو یہ نیورولوجی کے راستے پر چلتی ہوئی یاٹنل غدود تک جاتی ہے جو دماغ سے جڑا ہوتا ہے اور زندگی کے روزمرہ معمولات کو دیکھتا ہے۔ ان رنگوں کی فریکوئنسی یا ویولنیتھ مختلف ہوتی ہے اور جسمانی یا ذہنی وضاحت پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے۔ کلر تھراپی سے جامد جذبات کو خارج کیا جاتا ہے جسم کو مختلف رنگوں سے منور کرنے کے لیے تھراپسٹ مختلف تکنیک استعمال کرتے ہیں کچھ لوگ روشنیوں کی بجائے سلک کے کپڑے کو ترجیح دیتے ہیں، تیز روشنی کے ذریعے روشنی کا بکس آپ کے SADمیں بہتری لاتا ہے اور ہارمونز پر اثر انداز ہو کر کام کرتا ہے نیز مزاج کو اچھا کرنے والے دماغی کیمیکل سلوشن کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔ 
مختلف رنگ دماغ پر مختلف رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ لال کمرے میں وقت سست اور نیلے یا ہرے کمرے میں تیزی سے گذرتا ہے۔ لال رنگ قربت اور نرمی کی علامت ہوتا ہے۔ نیلا رنگ فاصلے اور ٹھنڈک کی علامت ہے۔ چمکدار لال اور پیلا بلڈ پریشر اور پٹھوں کی ٹینشن کو کم کرتا ہے۔ مشاہدے سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ لال رنگ کے کمرے میں گرمی محسوس کرتے ہیں اور اسی درجہ حرارت میں نیلے رنگ میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ نیلا رنگ بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے، گلابی رنگ  کی مختلف ویلیو مختلف جذبات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہلکا ڈل گلابی رنگ سکون اور نبض کی رفتار کو ہلکا کرتا ہے، گہرا گلابی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، کمرے میں گذارنے والے وقت کا انحصار بھی رنگ پر ہوتا ہے۔ غصے والے بچوں کو اگر نیلے رنگ والے کلاس روم میں رکھا جائے تو ان کا غصہ کم ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ جب لندن برج کا رنگ کالے سے نیلا کیا گیا تو خود کُشی کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ کم ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کےAuraمیں پیلے رنگ کی کمی ہوتی ہے پیلا رنگ اس مسئلے کو کم کرتا ہے۔ کالا رنگ ذبابیطس کو گراؤنڈ جبکہ ڈر کو ختم کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ رنگ ہماری زندگی میں اہمیت کے حامل ہیں ہمیں رنگوں کی شناخت اور اثرات سے آشنا ہونا چاہیے تا کہ خوبی رنگ سے تصویر کو پہچان سکیں۔ رنگوں کے اثرات کے حوالے سے بات کو افتخار عارف کے اس مصرع پر ختم کروں گا کہ 
”فضا میں رنگ نہ ہوں تو آنکھ میں نمی بھی نہ ہو۔“

جمعرات، 13 نومبر، 2014

ترقی کا سفر یا تنزلی کا……؟


بڑھتی ہوئی مادی خواہشات کی تسکین کے لیے کشمکش زندگی نے یہ حقیقت ہماری نظروں سے اوجھل کر دی ہے کہ حیات انسانی کا سرچشمہ مادی کے علاوہ روحانی بھی ہے۔ ہمیں کامیابی چونکہ سائنس نے عطا کی ہے اس لیے آج ہم سائنس کی پرستش اسی طرح کرنے لگے ہیں جس طرح ہمارے بزرگ جادو، ٹونے کی پوجا کیا کرتے تھے۔ یہ روش دراصل اس زندگی سے فرار کی راہ ہے جس میں انسانی خودی اپنے استحکام کے لیے ضبط نفس کی متقاضی تھی اور ضبط نفس یقیناً ایک مشقت طلب مرحلہ ہے۔ ہوا یہ ہے کہ جس قدر ہماری مادی ترقی بڑھتی گئی ہے خودی کی محبوبیت کم ہوتی چلی گئی۔ یہ ہے ہمارے عہد کی حقیقی ناکامی کی اصل وجہ۔ خوشحالی اس قدر فروزاں ہے کہ عیش و عشرت کے ساماں وافر موجود ہیں لیکن انسان ہے کہ بے حد مضطرب، غیر مطمئن اور بے قرار ہے۔ آج حضرت انسان کی بے چینی دیکھ کر یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تخلیق کی قوت محرکہ کبھی مستقل طور پر ایسے نظریہ کو سینے سے نہیں لگائے رکھ سکتی جو انسانی ذات کو محض مادہ کی نمو قرار دے۔ ایسے نظریے اور تصورات کے حامل افراد اور قومیں صرف خسارے کا شکار رہتی ہیں۔ میں سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کڑیانوالہ کے تھنکر فورم پر عاطف رزاق بٹ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا آج ہم ترقی کے سفر پر ہیں یا تنزلی کے؟ میں بول رہا تھا کہ ڈاکٹر شمشاد احمد شاہین نے کہا آج انسان ترقی کرتے ہوئے آسمانوں کو تسخیر کر رہا ہے ترقی اور کیا ہو سکتی ہے؟۔ میں نے عرض کیا انسان اگر بادلوں سے اونچی اڑان بھرنے لگ جائے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ انسانیت کی سطح بھی اتنی ہی بلند ہو گئی ہے۔ انسانی معاملات اس سے بھی کہیں گہرے ہوتے ہیں۔ قوت، تہذیب، کلچر بے معنی چیزیں ہیں اگر ان کے ساتھ اخلاقی برائیاں شامل ہوں۔ انسانی دنیا کی قدرت کو ماپنے کا درست پیمانہ اخلاقی پیمانہ ہی ہے۔ وہ نظام تہذیب جس میں حق و صداقت کو عادتاً نظر انداز کر دیا جائے بالآخر تباہ ہو کر ہی دم لیتا ہے۔ نا انصافی سے کوئی فرد کیسی ہی کامیابی حاصل کر لے مگر وہ اجتماعی نظام جس کا وہ حصہ ہے اور وہ سماج جو اس ناانصافی کے ثمرات سے نفع اندوز ہو، اس نا انصافی کی وجہ انجام کار برباد ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ قانون فطرت کے اٹل قانون کے مطابق گناہ کی اُجرت موت ہے۔  
عصر حاضر کی تیز رفتار مادی ترقی کی دوڑ میں انسانیت سسکنے لگی ہے، اس کا نصب العین اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسانی فطرت کے محض مادی گوشے کے تقاضوں کی تسکین کا سامان فراہم کیا جائے۔ یہ نصب العین خود ایک فریب ہے اس لیے کہ یہ جس قدر انسانی ضروریات پوری کر سکتا ہے اس سے زیادہ مصنوعی ضروریات کو پیدا کردیتا ہے۔ اس زمانے کے انسان نے نہ صرف اپنی ذہنی کاوشوں کو مشینوں کی ایجاد اور ساخت کے لیے وقف کر رکھا ہے بلکہ وہ خود رفتہ رفتہ مشین بن کر رہ گیا ہے۔یہ نئی نئی ایجادات جن کا شمار دن بدن بڑھتا جا رہا ہے بڑی خطرناک ہیں، کیونکہ یہ ان قوتوں کو بروئے کار لا رہی ہیں جس کی حقیقت کا علم ان انسانوں کو نہیں جو انہیں استعمال کرتے ہیں۔ فرانسیسی مفکر Rone Guenon نے بڑے پتے کی بات کہی تھی کہ ”جو لوگ مادہ کی وحشی قوتوں کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں وہ خود ان ہی قوتوں کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دور حاضرہ میں مادی قوانین کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مادہ اس انسان کو برباد کر دے گا جو خود مادہ سے بلند ہوئے بغیر مادہ کی تسخیر چاہتا ہے۔ اس لیے کچھ بعید نہیں کہ موجودہ دنیا خود ان ہی ایجادات کے ہاتھوں تباہ ہو جائے“۔ ہم آج جس بے چینی و اضطراب، خلفشار و پریشانی، بے سکونی اور فقدانِ مسرت کے جہنم میں گرفتار ہیں اس کا احاطہ کرتے ہوئے علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں لکھا تھا کہ”یہ انسان اپنے فکر کی دنیا میں خود اپنی ذات کے خلاف ستیزہ کار رہتا ہے اور سیاسی دنیا میں دوسروں کے خلاف نبرد آزما۔ وہ نہ اپنی کف بردہاں سرکشی کو ضبط میں لا سکتا ہے اور نہ ہی ہوس زر پرستی کے استفسار کی تسکین کا سامان فراہم کر سکتا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو اس کے تمام بلند مقاصد کو ایک ایک کر کے ہلاک کر رہی ہیں اور ایسی کیفیت پیدا کر رہی ہیں کہ وہ زندگی کے ہاتھوں بیزار ہے۔ وہ نگاہ فریب مناظر میں جذب ہو کر اپنی ذات کی گہرائیوں سے یکسر منقطع ہو چکا ہے۔ اس کی منظم مادہ پرستی کے میدان میں اس کی توانائی پر فالج گر چکا ہے، جسے ہکسلے کی نگاہ نے بھانپا اور اس پر اظہار تاسف کیا تھا“۔  
بلا شبہ اگر آج دنیا کی روحانی و اخلاقی حالت کا کھرا تجزیہ کیا جائے تو ہمیں ہکسلے کے اس نتیجہ سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ ترقی کے مسلمہ معیار کے مطابق اس دور کی ترقی، ترقی نہیں تنزلی ہے۔ ہمارے عہد میں جس چیز کی کمی ہے وہ انسانی خودی ہے جس کی نمو مادہ اور روح دونوں میں ہونی چاہیے۔ انسان مادی کامرانیوں کے سیلاب میں ڈوب گیا ہے، پریشان اور الجھاؤ کا شکار ہے کہ اس کی ذات مادہ سے بلند نہیں ہو سکی بلکہ مادہ کے اندر ڈوبی ہوئی ہے۔ انسان کا اضطراب اس لیے ہے کہ اس کا تحت الشعور یہ چاہتا ہے کہ وہ ثابت کر دے کہ وہ مادہ سے جن چیزوں کی تخلیق کرتا ہے، خود ان سے کچھ بیش بہا ہے۔ وہ مادی کاریگری کو بحال رکھنا چاہتا ہے اس لیے کہ یہ اس کی قوت تخلیق کی مدد کے لیے ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مادیت سے بلند لے جائے اور اس کی ذات کا اندازہ اس کی مادی تخلیق سے نہ لگایا جائے بلکہ اس سے کہ وہ خود کیا ہے؟ مادی اور سائنسی ترقی ہمیں یہ تو سکھا رہی ہے کہ ذرائع پر قدرت کیسے حاصل کی جائے لیکن مقاصد کے متعلق کچھ نہیں بتا رہی۔ یہ بتانے کے لیے شاید سائنس کو ابھی ایک نشاۃ ثانیہ کی ضرورت ہے لہذا اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں رہتا کہ انسان اپنے ذاتی مقاصد کے حصول اور خواہشات کی تسکین کے پیچھے لگا رہے۔ آج ہماری تباہی کی وجہ بڑے بڑے مجرم نہیں ہیں جن سے ہم لرزاں ہیں اور نہ ہی ہمارا افلاس جس سے ہم نادم ہیں۔ اس تباہی کا حقیقی سبب وہ معاشرتی نظام ہے جو منافقت اور فریب کی بنیادوں پر قائم ہے اور طرفہ تماشہ یہ قانون کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس……
ہم ترقی کی راہ پر ہیں یا تنزلی کی ……؟ یہ سوال دلچسپ ہے۔سادہ الفاظ میں لفظ ترقی بذات خود اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ اس کے لیے ایک سمت کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم سمت کے حوالے سے تشکیک کا شکار ہوں تو ساری ترقی بے معنی ہے۔ واضح سمت اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک منزل کا علم نہ ہو۔ جب ہم یہ کہیں کہ ہمارا زمانہ ترقی کا زمانہ ہے تو یہ گفتگو یکسر بے معنی ہوتی ہے۔ جب تک پہلے یہ تعین نہ کر لیا جائے کہ وہ نصب العین کیا ہے جس کی طرف ہمارا زمانہ ترقی کرتا ہوا بڑھ رہا ہے اور نصب العین کا متعین کرنا مادہ یا سائنس کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے سائنٹفک ایجادات کا نام ترقی رکھا ہی نہیں جا سکتا۔ اسی بنا پر سی ایم جوڈ نے عصر حاضر کے انحطاط کی وجہ صرف ایک بتائی تھی کہ ”ترک مقصد“۔ یقین کی بنیاد پر نصب العین کا تعین او رمنزل کے حصول کی خاص سمت میں جدو جہد ہی ترقی کہلاتی ہے۔ آج اگر ایسا ہی ہے تو پھر تو ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، بصورت دیگر بے سکونی ہمارا مقدر بنا رہے گا۔ میں ترقی اور تنزلی کے حوالے سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے اپنی بات کو علامہ اقبال کی کتاب ’پیام مشرق‘ کے دیباچہ کے اقتباس پر ختم کرنا چاہتا ہوں کہ، ”لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوام عالم کا باطنی اضطراب جس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ہم محض اس لیے نہیں لگا سکتے کہ خود اضطراب سے متاثر ہیں۔ ایک بہت بڑے روحانی اور تمدنی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ یورپ کی جنگ عظیم ایک قیامت تھی جس نے پرانی دنیا کے نظام کو قریباً ہر پہلو سے فنا کر دیا ہے اور اب تہذیب و تمدن کی خاکستر سے فطرتاً، زندگی کی گہرائیوں میں ایک نیا آدم اور اس کے رہنے کے لیے ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے۔ جس کا ایک دھندلا سا خاکہ حکیم آئن سٹائن اور برگساں کی تصانیف میں ملتا ہے“۔ اس عہد بے یقین میں میرے جیساکم علم یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ انسان ترقی کے سفر میں ہے یا تنزلی کے……؟۔ تاہم اس بارے یں سب کو سوچنے کی دعوت ضرورت دے سکتا ہے کہ ہم یہ جاننے کی سعی ضرور کریں کہ حاصلات کے پہاڑ تلے دب جانے کو ترقی کہا جاتا ہے یا تنزلی؟ سوچیے ضرور……؟

بدھ، 12 نومبر، 2014

جیسی فکر ویسے ہم



جیسی فکر ویسے ہم ممتاز دانشور پروفیسر Susan Stabbings نے اپنی کتاب and Ideals Illusions میں کہا تھا کہ جس قسم کے ہم خود ہوں گے اسی قسم کی ہماری فکر ہوگی۔لیکن حقیت تو اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے کہ جس قسم کی انسان کی فکر ہوتی ہے اسی قسم کا انسان خود بن جاتا ہے۔ میکانکی تصور حیات حیات کے مطابق تما م کائنات اور خود انسان ایک مشین کی طرح کام کرتے ہیں چنانچہ اس فکر کے مطابق سوچنے والا انسان بھی آہستہ آہستہ مشین بن گیا ہے جس میں حرکت تو ہے لیکن لچک نہیں رہی اصلایت تو ہے لیکن توچ باقی نہیں بچی۔وہ زندگی اور اس کے حقائق کو حبرثقیل کے فارمولوں، ریاضی کی مساواتوں، فزکس کے میکانکی نظریوں اور کیمسٹری کے غیر نامیاتی قاعدوں کی رو سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے زندگی کے لطیف پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گئے ہیں ڈارون نے اپنے خطوط  میں لکھا ہے کہ ایک مدت تک ایک ہی سمت میں سوچنے سے اس کی طبعیت نے ان تما چیزوں سے حظ اٹھانا چھوڑ دیا جو پچین اور جوانی میں اسے بہت محبوب تھیں شاعری، مصوری، موسیقی وغیرہ اور پھر پنی طبعیت کی اس تبدیلی کو ڈارون نے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔ آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاہیں تو ایسا لگتا ہے جو کچھ ڈارون سے ہوا۔وہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوگیا اسی کا نیتجہ ہے کہ مادیت کے علاوہ انسانی زندگی کے دیگر سوتے خشک دکھائی دیتے ہیں۔ زندگی کی لطیف حسیات سے محرومی کی وجہ سے سماج میں Isolation اور انفرادیت کے رحجانات غالب آگئے اور ایثار خلوص،معدت، احسان، مروت،جھکاؤ،سپردگی غیر اہم ہو کر رہ گئے۔ میکانکی تصور حیات نے ہمیں صرف یہی بتایا کہ دُنیا ہے ہی مادی اس لیے علم بھی وہی ہے جو ہمیں حواس سے حاصل ہو۔اس سوچ نے ہمیں بتایا کہ مالعدالطبعیات اور مطلق اقدار کے تصورات نے محض افسانے ہیں جو ذہن انسانی نے اپنی مصلحت کوشیوں کے لیے تراشے ہیں۔میں شعبہ ابلاغیات کی طالبہ انعم جاوید کے مادیت کے حوالے سے لکھے ہوئے مضمون پر حفصہ کے سوال کا جواب دے رہا تھا کہ خوش مزاج حعضہ نے کھلتی مسکراہٹ سے میری گفتگو کی سنجیدگی کا جمود توڑا اور کہا کہ آپ کی گفتگو سے لگ رہا ہے کہ معاشرہ تباہ ہو چکا ہے حالانکہ  ہم تو ترقی کر رہے ہیں ترقی انعم جاوید نے ٹوکا، احساس مر جائے تو قبرستان بھی گلشن دکھائی دیتا ہے۔حیات اور نفسِ انسانی کے متعلق تو یکسر جہالت اور فزکس اور کیمسٹری کا بڑھتا ہوا علم۔جب صورتحال ایسی ہو جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
زبیر میر جو سنجیدہ گفتگو کے دوران لقمہ دینے کی عادت ہے وہ دور بیٹھا ساری باتیں سن رہا تھا اچانک بولا، سرجی! مالبعد الطبیعات کے معقلق ہمارا علم قلیل سطحی اور نامکمل ہے اسی سے تمام خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔مابعدالطبعیات کے متعلق علم و فہم ہی تو انسانی تخیل کی راہ نمائی کرتا اور مقصد حیات کے لیے وجہ جواز بہم پہنچاتا ہے۔مابعدالطبعیاتی معتقدات کے بغیر کوئی تہذیب باقی نہیں رہ سکتی۔
میں نے کہا بات غور طلب ہے۔ پروفیسر وہائٹ ہیڈ نے کہ رکھا ہے کہ ہر دور کا کریکٹر اس بات سے پرکھا جاتا ہے کہ اس دور کے انسانوں کا ان مادی حوادث کے خلاف ردعمل کیا ہے۔جن سے وہ دو چار ہوتے ہیں یہ ردعمل ان کے بنیادی،معتقدات سے متعین ہوتا ہے۔ ان کی امید و بیم سے اقدار کے متعلق ان کے فیصلوں سے۔۔۔۔“میرا خیال ہے کہ معتقدات ہمیشہ یقین سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور یقین کی عمارت، مستقل اقدار کی بنیادوں ہی پر استوار ہو سکتی ہے۔میکانکی تصور حیات چونکہ مستقل اقدار کے وجود ہی سے انکار کرتا ہے اس لیے اس کی بنیاد دُنیا میں یقین کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ مادیت کا نیتجہ شک ہے۔ آج ہم یقین سے محروم تشکیک اور ریب کے انسان ہیں۔مغربی مفکر J.W.T Mason نے اپنی کتاب Creative Freedom میں واضح کیا کہ کسی قوم کی دو نسلوں پر تشکیک اور ریب کی حالت گذرنے دیجیے اس کے بعد ان میں خود بخود مادیت پیدا ہوجائے گ۔وہ مزید کہا ہے کہ عدم یقین وہ چیز ہے جو اپنی تباہی کے سامان خود اپنے اندر رکھتی ہے اس لیے کہ تخلیقی مگر تحرک کبھی کسی نظریے کو مستقل طور پر اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا جو انسانی ذات کی تعبیر صرف مادی اصعلاحات میں کرئے۔ حعفہ نے پھر معصومیت سے سوال داغ دیا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے بے یقینی بھی ایک یقین ہے؟میں نے حعضہ کی بات پر توقف کیا اور پھر عرض کیا کہ زندگی کی اقدار پر یقین نہ رہے تو قلب انسانی میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوتا ہے جیسے کوئی اور جذبہ پُر نہیں کر سکتا اس لیے بے یقینی کا لازمی نیتجہ پریشانی و اضطراب ہوتا ہے۔ میری بات پر یقین نہیں تو سماجی تاریخ کے نامور مورخ الفریڈ کو بن سے پوچھ لیتے ہیں جو بہت عرصہ پہلے شاید ہماری نوجوان نسل کی بے یقینی کو مغربی نوجوانوں میں دیکھ چکا تھا اس نے اپنی کتاب crisis of Civilization میں حعضہ کی بات کا یوں جواب دیا کہ جو شخض یہ خیال کرتا ہے انسان ایمان یا یقین کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے اسے دور حاضر کے نوجوانوں کی حالت کا مطالعہ کرنا چاہئے جو مضطربانہ اس تلاش میں پھر رہے ہیں کہ کوئی ایسی چیز مل جائے جس پر ایمان لایا جائے“
انعم جاوید جیسی طالبات مادیت کی زندگی سے اکتا کر نئی انگڑائی لے رہی ہیں انہوں مادیت کی دیواروں پر چڑھ کر کسی اور دُنیا میں جھانکنے کی جسارت کی ہے جو خوش آئند ہے۔ہماری درسگاہوں،ماہرین تعلیم اور اہل فکر و دانش کی علمی ترقیاں اسی کا ایک تخلیقی جواب ہے لیکن بلکہ بھرپور جواب ہے لیکن جو مسائل آج ہمیں درپیش ہیں ان کا جواب معلوں اور تجربہ گاہوں میں نہیں مل سکتا یہ مسائل اخلاقی ہیں اور آج کی سائنس اخلاق سے بے تعلق ہے۔ اس سائنسی عہد میں انعم جاوید اور حعضہ جیسے بیقرار روحوں کے مالک نوجوانوں کو نفسیات اور تحلیل نفسی کے ماہرینگ کی تشخیص سے آگاہی ضروری ہے اس نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کے نصف آخر میں جس قدر مریضوں کا تجزیہ نفس کیا ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جسے زندگی کے مسائل کے حل کے لیے مذہبی زاویہ نگاہ کی تلاش نہ ہو۔ان میں سے ہر ایک کی بیماری کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ”شے“کو ضائع کر دیاتھا جو زندہ مذہب انسان کو مہیا کرتا ہے۔ ان کا علاج اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہیں پھر سے وہی ”شے“دے دی جائے جو ان سے گم ہو چکی تھی۔ یہی ان کی دوا تھی،عقیدہ، امید، محبت،نگہ خود“۔ بلاشبہ آج کے عدم یقین، نکات،توہم پرستی اور عیاشی کے حامل سماج کو یقین، افکار تازہ اور حرکت کے اصول سے آگاہی لازم ہے۔ تاہم زندگی اتنی آسان نہیں کہ کامیابی کا کوئی ایک دائمی اصول سے آگاہی لازم ہے۔تا ہم زندگی اتنی آسان نہیں کہ کامیابی کو کوئی ایک دائمی اصول ہو۔ فرد ہو یا سماج ہر نیا مسئلہ ایک برجستہ جواب کا تقاضا کرتا ہے۔ کم از کم دو باتوں کی اشد ضروریات ہے۔ ہمیں نئی دُنیا کی تخلیق محکم بنیادوں پر کرنی چاہیے۔اور پھر ہمیں اپنے آپکو اس نئی دُنیا میں رہنے کے قابل کریں گے خارجی اصلاحات کا بھی کوئی فاہدہ نہیں ہو گا۔ اپنے اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی سعی کرنا ہو گی۔ انسان کی مادی سوچ نے اس کے ظاہر کو چکا چوند کر دیا ہے اسے ایک بار پھر باطن کی روشنی کی ضرورت ہے ہمیں فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ جسطرح کی ہماری فکر ہو گی ویسے ہی ہم خود بن جاہیں گے۔

ہفتہ، 8 نومبر، 2014

قوم کو جس سے شفا ہو، وہ دوا کون سی ہے


نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو 
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور 

عالم اسلام کے عصری و فکری منظر نامے پر جن مفکرین کے نام جگمگا رہے ہیں ان میں علامہ محمد اقبال کو مقام ناموری اور مسند امتیاز حاصل ہے۔ وہ ایک ایسی درخشاں و دانشمند فلسفی شخصیت ہیں جنہوں نے سماجِ انسانی میں اسلام کی بازور تہذیب و تمدن کا ہدیہ پیش کیا۔لطیف خیالات، فکری وسعت اور فہم و فراست کے سبب انہیں عظیم مفکرین اور راہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شاعرانہ حسن تخیل اور فلسفیانہ ژرف نگاہی کے حسین امتزاج کا نام اقبال ہے۔ ان کی نظم و نثر کا ہر پہلوان کے جلوہئ ذہانت اور حکیمانہ بصیرت کا مظہر ہے۔اقبال سیاسی بیداری میں بھی بلندیوں پر تھے اور فلسفیانہ علمی تفکر میں بھی اس مقام ارجمند پر فائز ہیں کہ آج مغرب میں انہیں معاصر مفکر و فلسفی کہا جاتا ہے اور برگساں کا ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔ مسلمان دانشور انہیں اسلامی معاشرے کا ایک مصلح کہتے اورسمجھتے ہیں۔ ایسا مصلح جو نہ صرف مسلم معاشرے بلکہ سارے انسانی سماج اور خود اس معاشرے کی حالت پر جس میں وہ خود زندگی بسر کر رہا ہو، غور فکر کرتا اور اس کی نجات و بیداری اور آزادی کے لیے کوشا ں ہو۔ علامہ اقبال وہ نابغہ روزگار تھے جنکی مسیحا نفسی نے برصغیر کے مسلمانوں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا کر ان کی علمی خود داری کو بیدا ر کیا۔ 
اقبال تاریخ اسلام کے ایک ایسے موڑ پر اُبھر کر سامنے آئے جب مسلمان غلامی و انحطاط کے بعد پھر آزاد قوم بن کر اُبھرنے والے تھے اورانہیں تعمیر مستقبل کی ذمہ داریوں کے سنجیدہ چیلنجوں کا سامنا تھا۔ان چیلنجوں کی کوکھ سے کئی سوالات نے جنم لیا۔فکر اقبال درحقیقت انہی سوالوں کے جواب کی سعی کا نام ہے۔ ان کی ذات میں برصغیر پاک و ہند کی ملت اسلامیہ کی تاریخِ آزادی کے وہ سارے تقاضے مرتکز ہو گئے تھے جو شاہ ولی اللہ ؒکے دور سے بیسویں صدی کے اوائل تک کے زمانے پر محیط تھے۔ 1933ء میں ادارہئ معارف اسلامیہ کے پہلے اجلاس منعقدہ ہیلی ہال پنجاب یونیورسٹی میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ”وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم فقہی جزئیات کی چھان بین کی بجائے ان اہم شعبہئ ہائے علم کی طرف متوجہ ہوں جو ہنوز محتاج تحقیق ہیں۔ ریاضیات، عمرانیات، طب اور طبیعات میں مسلمانوں کے شاندار کارنامے اب تک دنیا کے مختلف کتب خانوں میں مستور و پنہاں ہیں جن کے احیاء کی سخت ضرورت ہے۔“اقبال کہتے ہیں 

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ ہے نئے صبح و شام پیدا کر
پھر مزید راہنمائی کرتے ہیں کہ:

ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے 

آج پاکستان کے مذہبی و معاشرتی اور سیاسی و اقتصادی حالات ہر درد مندمحب وطن کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ پاکستان کی ریاست، نظام حکومت اور معاشرت طرح طرح کے سوالوں کی زد میں ہے۔ ہم تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، ایسے زمانوں میں حقائق دھندلا جاتے ہیں، عوام اور راہنماؤں کے ہاتھ سے توازن کی ڈور چھوٹ جاتی ہے۔ ارتقاء کا چلن ایسا کٹھور ہے کہ جو اقوام اپنی ناک سے آگے نہ دیکھ پائیں انہیں دوسری غلطی کا موقع نہیں ملتا، لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا وار ٹھہرتی ہے۔ لہٰذا احوال حیات میں انقلاب بپا کرنے کیلئے ہمیں میدان کار ِ زار میں اترنا ہو گا۔ ایسے میں فکری راہنمائی کے لیے ہمیں ایکبار پھر فکرِ اقبال کی روشنی درکا ر ہے کیونکہ جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کی سیاسی بیداری کا سب سے منور باب اقبال ہی ہے اور ان کی شاعری اور فکرکی چھاپ ہمارے ادب،ہماری ثقافت اور ہماری سیاست پر بہت گہری ہے۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ عہد جدید کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اقبالیات بھی نئی انگڑائی لے رہی ہے۔ محمد سہیل عمر کے الفاظ میں ”اب اقبالیات بھی مستعار اقدار اور مانگے تانگے کے مسائل سامنے رکھ کر فکر اقبال میں سے ان کا معذرت خواہا نہ جواب ڈھونڈنے یا نیم فخریہ تقابل کرنے کے انفعالی رویے سے باہر نکلتی نظر آتی ہے۔ دوسرے شعبہ ہائے علوم کی طرح اس میں بھی اپنی راہ خود نکالنے اور اپنے مسائل خود متعین کرنے کی آرزو جنم لے رہی ہے اور ماضی میں اس کے فکری رویوں پر نظر کرتے ہوئے یہ تبدیلی خوش آئند اور مستقبل میں روشن امکانات کی اُمید کہی جا سکتی ہے“۔ روحِ عصر سے ہم آہنگ ہوتی ہوئی یہ فکر اقبال ہی ہماری اُمید ہے۔ علامہ نے ہی ہماری سوچ، ہمارے تہذیبی رویوں اور ہماری دینی تعبیرات اور سماجی و سیاسی فکر ی تناظر کو ایک نئی تعبیر فراہم کی ہے، یہی وجہ ہے ان کی معنویت ان کی زندگی میں بھی تھی، آج بھی ہے اورکل بھی رہے گی۔ علامہ اقبال ایک بصیر دانشور تھے، بصیرت تاریخ ساز ہوتی ہے۔ ایسے دانشور کے طرزِ فکر میں ایسے راز و نکات پوشیدہ ہوتے ہیں جوقوم کی راہنمائی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قوم کسی بصیر دانشور کی فکری بنیاد سے آگاہ ہو اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل بنانے میں کامیاب ہو جائے تو وقت کا دھارا بدل جاتا ہے۔
مفکر پاکستان نے ہماری سوچ، ہمارے تہذیبی رویوں اور ہماری دینی تعبیرات، سیاسی اور سماجی فکر ی تناظر کوایک نئی تعبیر فراہم کی اور برادران ملت کو اس طریقہ کار سے آگاہ کیا جس کے ذریعے ان کے اسلاف قرون اولیٰ میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈا کرتے تھے۔ اجتہادی تجربات کو سامنے رکھ کر ہم ان مسائل کا حل دریافت کر سکتے ہیں جو عہدِ حاضر نے ہمارے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ علامہ ا قبال نے تحریک پاکستان کو فکری و جذباتی بنیادیں فراہم کی تھیں، حصولِ پاکستان کے بعد ہمیں تعمیر پاکستان کے لیے فکر اقبال کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی ضرورت تھی مگر ہم ایسا نہ کر سکے، اسی لیے ہم حقیقی پاکستان کی منزل مراد پر پہنچنے کی بجائے بھٹکتے رہے ہیں۔ آج حالات نئی کروٹ لے رہے ہیں، دوراہے پر کھڑی ریاست اور قوم کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے مسائل کی تفہیم کے لیے فکر اقبال سے استفادہ کرے۔
فکری کشمکش اور ذہنی انتشار کے اس دور میں بحیثیت قوم ہم جن مسائل کاشکار ہیں ان میں ریاست،حکومت اور جمہوریت کے حوالے سے عصری مسائل کی تعبیر نو سب سے نمایاں ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ضروری تھا کہ دانشورانِ قوم علامہ اقبال کے افکار کی ترجیحات کو از سر نو ترتیب دیتے اور ریاستی اُمور، حکومتی معا ملات اور معاشرتی اداروں کے حوالے سے مصورِپاکستان کے افکار کو اوّلین ترجیح دیتے اور انکی بنیاد پر اجتہاد کرتے، لیکن یہاں تو ساری قوم تحریک پاکستان کے متعلق پیام اقبال کے سحر میں مسحور ہو کر رہ گئی اور تعمیر پاکستان کے متعلق پیغام اقبال پر توجہ نہ دے سکی۔ مفکر ِپاکستان ہمہ جہت شخصیت اور کثیر الجہات نظریات کے مالک تھے، اُنہوں نے علم و فضل سے فکر اسلامی کے ارتقاء کو جمود سے بچانے کی شعوری سعی کی اور مسلمانوں کے معاشرتی و سیا سی نظام کو روح عصر کے تقاضوں کا سامنا کرنے کے قابل بنانے اور تضادات سے بچانے کی فکری جدوجہد کی۔ علامہ تخیل پسند نہیں بلکہ حقیقت پسند تھے اور عقلیت پسندی کے حامی بھی، بلندپایہئ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فلسفیانہ نظام رکھنے والے مفکر بھی تھے۔اسی لیے انہیں اس امر کا شدت سے احساس تھا کہ معاشرے کو متحرک رکھنے کے لیے ہر دم تازہ افکار و خیالات کی ضرورت رہتی ہے۔ آج بھی ریاست پاکستان کی بقا اور ترقی کا انحصار فکرِ اقبال کی جرأتمندانہ، دیانتدارانہ اور مجتہدانہ تعبیرپر منحصر ہے۔ 

قوم کو جس سے شفا ہو، وہ دوا کون سی ہے 
یہ چمن جس سے ہرا ہو، وہ صبا کون سی ہے 
قافلہ جس سے رواں ہو سوئے منزل اپنا 
ناقہ وہ کیا ہے، وہ آواز درا کون سی ہے